قندوز کے بیٹے۔۔۔ جنت کے راہی
12 اپریل 2018

بچے تومہکتے پھول ہوتے ہیں اوربچے تو سبھی اچھے ہوتے ہیںآرمی پبلک سکول پشاور کے ہوں یا ’مدرسہ ہاشمیہ عمریہ‘ قندوزکے ۔سچ پوچھیں تو قندوز میں امریکہ کی ’رکھیل‘افغان نیشنل آرمی نے خوفناک بمباری کر کے معصوم بچوں کو خون میں نہلاکرخود کو احترام آدمیت سے ہی گرا دیا‘سفاکیت کی تمام حدیں پار کر ڈالیں۔ افغان فوج کے اس گھناؤنے فعل سے فسطائیت نقطہ عروج پر پہنچی اور انسانی قدریں منہ چھپا کررہ گئیں۔ اس دل دہلا دینے والے سانحے سے قبل بچوں کی جو خوبصورت تصاویر سامنے آئیں ا س سے ہر ایک کلیجہ چھلنی ہو ا۔جلسہ گاہ کے روح فرسا مناظر، سوختہ لاشیں اور عینی شاہدین کے بیانات ‘یہ تفصیلات جس تک بھی پہنچیں وہ لرز کر رہ گیا۔جہاں کچھ دیر پیشتر چہل پہل تھی،اجلے سفید کپڑوں میں ملبوس پھول سے بچے اور ان کے والدین واساتذہ تھے وہاں خاک و خون کا ایسا بازار گرم ہوا جس کا تصور ہی دہلا دیتا ہے۔ قندوز کے شہداء میں شامل ایک ایک بیٹے کا نوحہ لکھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں ۔مجھے یقین ہے کہ ان بچوں کی سوختہ لاشوں کا نظارہ کرکے چشم فلک بھی تھرا گئی ہوگی اور سورج بھی انسان نما درندوں کی یہ سفاکیت دیکھ کر جلد مغرب کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہو ا ہوگا۔ دشتِ ار چی کے اس گنج شہیداں پر ہزاروں سلام جہاں یہ ننھے قتیلِ وفا اپنے لہو سے وضو کیے سکون کی نیند سو رہے ہیں۔
جس وقت یہ سطور شائع ہوں گی سانحہ قندوز کو دو ہفتے گزر چکے ہوں گے۔ اس المیے پر دیر سے قلم اٹھارہا ہوں کہ کئی دن تک مجسمہ حیرت بنا رہا اورجب بھی کچھ لکھنے کی سعی کی ‘الفاظ ، قلم اور ذہن نے ساتھ چھوڑدیا ۔اب یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو حالت یہ کہ الفاظ نہیں مل رہے کہ ان معصوم کلیوں کا نوحہ کیسے سپرد قرطاس کروں جنہیں کھلنے سے پہلے ہی سفاک درندوں نے بے دردی سے مسل ڈالا،آنکھیں نم اور ہونٹوں پر کپکپاہٹ ہے ‘ ایسے میں کیا لکھا جائے اور کن جذبات کا اظہار کیا جائے...؟ ۔ سانحہ دشتِ ارچی کی جگر چیر دینے والی تفصیلات جوں جوں ملتی رہیں غم و اندوہ کے سائے اور بھی گھنیرے ہوتے گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ افغانوں کے بچے شہید ہوئے میں کہتا ہوں کہ یہ میرے اورآپ کے بیٹے تھے، ہمارے لخت جگر تھے ۔میرے پیارے بچو ، اے جنت کے راہیو! اے شہدائے جنگ یمامہ کے حقیقی وارثو ! تمہاری خوبصورت اُجلی پگڑیاں، ٹوپیاں ، اسناد ، جوتوں کے ڈھیر، تمہاری چمکتی آنکھیں،گلے کے ہار ایک ایسی در دبھری کہانی ہیں جسے بیان کرنے کی ہمت میرے پاس ہی کیا شاید کسی بھی لکھاری،صحافی ، ادیب ، شاعر یا عالم دین کے پاس نہیں۔
ایک طرف امت مسلمہ شدید کرب والم کی کیفیت سے دوچار ہے تو دوسری جانب مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کی بے حسی، بے مروتی اور ژولیدہ فکری کا یہ عالم کہ اس بد ترین دہشت گردی کے خلاف امریکہ یا اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف باقاعدہ احتجاج تک نہ کیاگیا ۔درجنوں اسلامی ممالک کے ایوانوں سے کہیں بھی صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی۔کشمیر سے لے کر غزہ ، عراق اور قندوز تک خونِ مسلم کی ارزانی ہے لیکن اس کی مذمت میں ہماری تمام تر تگ و تا زصرف بیانات تک محدود ہے۔ محمد عربیؐ کی امت اس قدر لاچار اور کم ہمت ہو چکی کہ ماسوائے لفاظی کے اس کے بس میں کچھ نہیں رہا ۔انسانیت پر چھائی ایسی کج ادائی کی مثال پہلے کہیں نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ،اوآئی سی ، عرب لیگ ،آل سعود کے تراشیدہ نام نہاد’ اسلامی فوجی اتحاد‘اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں کی طرف سے افغان حکومت کی اس دہشت گردی پر کسی قسم کا مذمتی بیان جاری نہ ہونا اور بھی المیہ ہے ؂
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
دوسری طرف میڈیا ہے جس سے ہمیں کوئی شکوہ ہونا ہی نہیں چاہیے ،اس لئے کہ ’’ریٹنگ‘‘کی دوڑ میں بدمست ہاتھی کی طرح ہانپتے کانپتے میڈیا کایہ ’’پالیسی میٹر‘‘ہی نہیں۔اسے تو کسی ملالہ، سری دیوی یا سلمان خان ایسے اشوز چاہئیں ۔عالمی دہشت گردوں کو بے نقاب کرنا میڈیا کی ترجیح پہلے تھی نہ آج ہے ...سچ پوچھیں تو دشت ارچی کے ان بیٹوں کو ’’میڈیا کوریج‘‘کی ضرورت ہی کب تھی....؟ انہیں تو اللہ کے ہاں بھرپور کوریج مل چکی اوران کی نشستیں شہداء ، صلحا ، اولیاء اور صدیقین کے ساتھ سج گئیں ۔ یہ معصوم کلیاں تو دنیاوی جاہ و حشم اور نام و نمود سے بہت ماورا تھیں ، یہ پھول میڈیا کے محتاج کیسے ہو گئے....؟وہ تو جنت کے راہی تھے اور جنت مکانی ہوئے۔میڈیا کوریج تو ہم جیسے دنیا کے بے پناہ طلبگاروں ‘شہرت کے بھوکوں کی ضرورت ہے ۔اور...ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان معصوم طلبہ کا حوصلہ جیت گیا اور بزدل ’افغان آرمی‘ شکست خوردہ ٹھہری۔ طلبہ ، اساتذہ جام شہادت نوش کر کے امر ہوئے اور نیٹو، ایساف کے گوشہ عاطفت میں پلنے والے افغان فوجیوں کے مقدر میں سداکی ذلت ‘روسیاہی اور پھٹکار لکھ دی گئی۔
افغان نیشنل آرمی کے کارندو ! معصوم حفاظ کرام تو جنت میں جا بسے لیکن انہوں نے تمہارے بدکردار چہرے سے نقاب الٹ کر اسے دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔بچوں کے اس بہتے لہوکا حساب تمہیں کسی نہ کسی صورت ضرور دیناہو گا ۔اشرف غنی اور اس کے ہمراہیو! اگر تم نے اس گناہ عظیم پر اجتماعی معافی نہ مانگی ، ندامت و پشیمانی کے آنسو نہ بہائے تو جلد وہ دن آنے والا ہے جب تمہاری گردنیں پکڑ لی جائیں گی۔اورہاں.... یہ بھی ممکن ہے کہ تم یہاں انسانوں کی قائم کردہ عدالتوں اور اداروں کی مصلحتوں اور مفادات کی وجہ سے بچ جاؤلیکن بروزِ محشر ایک عدالت اللہ عز وّ جل کی بھی لگنے والی ہے جہاں یہ مظلوم بیٹے طاقتور ہوں گے اور تم کمزور تر، یہ وہ دن ہوگا جب میرے ان معصوم بچوں کے ننھے ہاتھ تمہارے گریبان تک پہنچیں گے ،پھر اس دن کوئی بھی طاقت تمہیں نجات نہ دلا سکے گیا، یہ وہ دن ہوگا جب نقار ہ بجے گا ۔ وَامتازُو الیومَ ایُھا المُجرمُون0 اے مجرمو ! آج کے دن الگ ہو جاؤ۔بے شک وہ وقت دور نہیں۔


ای پیپر