بیرونِ ملک غیر قانونی دولت واپس لائی جائے!
12 اپریل 2018


چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کا یہ قیاس بالکل قرینِ حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی میں قانون کی خلاف ورزیاں کی گئیں اوربیرونِ ملک بھاری رقوم کی ترسیل سے ملک مالیاتی عدم توازن کا شکار ہوا۔ یہ رقومات دراصل پاکستان کا قومی اثاثہ ہیں جنہیں لوٹ کر لے جایا گیا۔ نواز شریف حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے2013ء میں حکومت کی تشکیل کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس میں پڑی غیر قانونی رقومات واپس قومی خزانے میں لا کر ملک کی معیشت بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اسحاق ڈارساڑھے چار سال میں ملک کو کھربوں کے مزید قرضوں کے جال میں پھنسا کر خود نیب کے شکنجے میں آئے ہوئے ہیں جب کہ پاکستان بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس سے نکلنے کے لئے بیرونِ ملک غیر قانونی ذرائع سے منتقل کی گئی خطیر رقومات کی واپسی ناگزیر ہے۔ اس کام کے لئے حکومت نے اپنی ساری مدت گنوا کر جاتے جاتے ایک نام نہاد سی ایمنسٹی سکیم کا
شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ الیکشن 2018ء سے قبل حکومت کے اس اعلان کا بنیادی مقصد یقیناً عام انتخابات میں کرپشن، رشوت، کمیشن، کک بیکس سمیت مختلف غیر قانونی طریقے سے دولت کمانے اور انہیں بیرونِ ملک منتقل کرنے والوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ جی بھر کر اپنا لوٹا ہوا پیسہ ایمنسٹی سکیم کے تحت لیگل کرا لیں اور آئندہ کے لئے نئے لوٹ مار پروگرام کے لئے منصوبہ بندی کر لیں۔ سپریم کورٹ کا پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور املاک کا از خود نوٹس خوش آئند ہے کیونکہ رقوم کی بیرونِ ملک منتقلی سے عدم توازن پیدا ہوا اور پاکستان کو اس وقت جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے ان میں معیشت کی خستہ حالی سرِ فہرست ہے جس کی بڑی وجہ 10ارب ڈالر کی سالانہ منی لانڈرنگ اور کرپشن ہے۔ وطنِ عزیز کے معاشی اعشاریے بھی معیشت کی دگر گوں حالت کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہیں کیونکہ قرضے جی ڈی پی کے 70فیصد سے زائد ہو گئے ہیں جو مقررہ حد 60فیصد سے زیادہ ہیں۔ حکومتی ادارے ہزار ارب سے زائد کا نقصان کر رہے ہیں، حالیہ دنوں میں ڈالر کی شرح میں اضافے سے بیرونی قرضہ 88ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس ضمن میں معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی طاقتیں دانستاً ایک حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کو چنگل میں پھنسا رہی ہیں، اسی لئے نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ کے لئے خزانے میں رقم موجود نہ ہونے کی خبریں زبان زدِ عام ہیں اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا سوچا جا رہاہے۔ اب چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد سیاستدانوں، صنعتکاروں، تاجروں سمیت تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی تفصیل سامنے آنی چاہئے کیونکہ پانامہ لیکس ہو یا بہاما لیکس یا پھر پیرا ڈائز لیکس یہاں سرمایہ صرف ٹیکس بچانے کے لئے رکھا جاتا ہے۔ برٹش ورجن آئی لینڈ، سپین، سوئٹزر لینڈ، دبئی، برطانیہ وغیرہ میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد میں جائیدادیں اور اکاؤنٹس ہونے کی اطلاعات ہیں۔ باور یہی کیا جاتا ہے کہ یہ رقم لوٹ مار کا نتیجہ ہے اور اسے ان عناصر نے سوئس بینکوں میں رکھا ہے جن کو خدشہ ہے کہ اگر وطنِ عزیز کو کبھی برے دن دیکھنے پڑے تو ان کے اچھے دن سوئس بینکوں میں چپکے سے جمع اس رقم کے طفیل اچھی طرح بیرونِ ملک گزر جائیں۔ بلاشبہ کرپشن کے ذریعے حاصل ہونے والی مبینہ رقم انفرادی سطح پر پاکستان کے معاشی استحصال کی بد ترین شکل ہے۔ اس سمت میں پوری ریاستی اور حکومتی ذمہ داری، سنجیدگی، مالیاتی شواہد اور بد عنوانی کے مکمل کوائف کے ساتھ سوئس حکام سے قانونی ، عدالتی اور مالیاتی پہلوؤں پر بات چیت کو حتمی شکل دے کر لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے اور ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو اپنی دولت غیر ملکی بینکوں میں چھپا کر قوم کو معاشی بد حالی کے اندھیروں میں دھکیلتے رہے۔ سوئس بینکوں کی کہانی کو کئی بار ڈرامائی موڑ دئے گئے مگر کوئی ٹھوس پیش قدمی نہ ہو سکی اور قوم قرضوں کے بوجھ تلے کل بھی دبی تھی اور آج بھی دبی ہوئی ہے، معاشی استحکام ایک خواب بنا رہا۔ اب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد امید کی جانی چاہئے کہ سوئس حکام سے متعلقہ خفیہ اکاؤنٹ ہولڈرز جن میں سیاست دانوں، بیوروکریٹس، صنعتکاروں اور نو دولتیوں کے نام لئے جاتے ہیں کے بارے جملہ کوائف، ٹھوس تحقیقاتی مواد اور شواہد جلد قوم کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس کے لئے سوئس ٹیکس حکام کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کئے جائیں اور معاہدے میں ترمیم کے تحت ایسی شقیں شامل کرنے پر بات چیت کی جائے جس کے تحت پاکستانی ٹیکس اتھارٹیز سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں موجود پاکستانیوں کی دولت بارے معلومات حاصل کر سکیں۔ ملک و قوم کے مفاد میں سنجیدہ غور و فکر کے بعد ؤوثر اقتصادی اقدامات موجودہ حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔ غیر ملکی بینکوں میں چھپا کر رکھا گیا پاکستانی سرمایہ کسی بھی صورت میں واپس لا کر اسے اقتصادی منصوبوں یا غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر صرف کرنا یا خود ان لوگوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ایسے عوامل ہیں جو ہمیں مہنگائی، غیر ملکی قرضوں کے بوجھ اور بیروزگاری جیسے شکنجے سے آزاد کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس وقت صرف سوئس بینکوں میں 200ارب ڈالر سے زیادہ کا پاکستانی سرمایہ محفوظ ہے جب کہ قابلِ ادا غیر ملکی قرضوں کا حجم اس سے کم یعنی 150ارب ڈالر ہے۔ یہ سرمایہ اپنے ملک واپس لا کر معیشت کے پیداواری شعبوں میں لگایا جائے تو ایک خوش آئند صورت حال بن سکتی ہے۔مسائل میں گھری قوم کے لئے آزاد عدلیہ امید کی کرن بن کے ابھری ہے اسی لئے اسے توقع ہے کہ پاکستان سے لوٹ کر لے جایا جانے والا پیسہ جلد ہی وطن واپس آئے گا اور کرپشن، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے کر دوسروں کے لئے نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔
پاکستان کو غیر ملکی بینکوں میں پڑے سرمائے اور جائیدادوں کی واپسی کی آج جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی کیونکہ معیشت کی زبوں حالی کے باعث ملک کے تیزی سے دیوالیہ پن کا شکار ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اثاثے واپس لانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کا پاکستان پر بہت بڑا احسان ہو گا۔ اگر اب بھی معیشت کی بحالی اور بہتری کے لئے جرأت مندانہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہم اور ہماری آنے والی نسلیں قرضوں کی ادائیگی کرتی رہیں گی۔ وقت یہی ہے کہ اربابِ اختیار سپریم کورٹ کی آڑ میں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور سوئس بینکوں سے 200ارب ڈالر کی واپسی یقینی بنانے کے لئے فیصلہ کن اقدام کریں۔ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف ہم عالمی ساہو کاروں کی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اداروں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کر کے معیشت کو بحال کر سکتے ہیں۔


ای پیپر