مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی
12 اپریل 2018 2018-04-12


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کولگام میں مزید 7 کشمیری نوجوان شہید کر دیے۔ فوجیوں نے کولگام کے علاقے کھڈونی میں وانی محلہ کے مقام پرمحاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران پر امن مظاہرین پر فائرنگ کر کے کم از کم 50 نوجوان زخمی کر دیے جن میں سے 4نوجوان 13سالہ بلال احمد ڈار، 28سالہ شرجیل احمد شیخ , فیصل الہٰی اور اعجاز احمد پالہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
قابض فوجیوں نے آپریشن کے دوران چار رہائشی مکانات بھی بارودی مواد کے ذریعے مسمار کر دیے جن کے ملبے سے تین نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔اسی علاقے میں ایک جھڑپ میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ علاقے میں فوجی آپریشن اور بھارت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔سرینگر سے شائع ہونیوالے انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی فوج نے کھڈ ونی وانی محلہ میں آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے طلباء کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے
کے لیے ضلع کولگام میں تمام تعلیمی ادارے بندکر دیے ہیں۔ سرینگر کے علاوہ جنوبی اضلاع میں انٹرنیٹ فون سروس معطل کر دی ہے جبکہ سرینگر اور بانیہال کے درمیان ریل سروسز بھی معطل کر دی گئی ہے۔
سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اورمحمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے نوجوانوں کے قتل کیخلاف پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال اور پر امن مظاہروں کی کال دی ہے۔ بھارتی پولیس نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر کے پرتاپ پارک کے نزدیک گیارہ ساتھوں کے ہمراہ اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ کولگام میں نوجوانوں کے قتل کی خلاف احتجاجی مارچ کر رہے تھے۔ انتظامیہ نے حریت فورم کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی پہلے سے سرینگر میں گھر میں نظر بند ہیں۔
کشمیریوں کے قتل عام کی یہ واردات اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ چند روز قبل بھی بھارتی فوج کی فائرنگ سے 20 کشمیری شہید ہوگئے تھے۔بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ کے 70 سال پورے ہونے پر اپنی آزادی کیلئے سڑکوں پر آنیوالے فلسطینی عوام پر اسرائیلی غاصب فوج نے بھی اسی طرح بے دردی سے فائر کھولے جس کے نتیجہ میں 18 فلسطینی باشندے شہید اور 15 سو سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے بھارت کے ڈی جی پولیس ایس پی وید کو ٹویٹر پیغام کے جواب میں بھارتی فورسز کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر
شاباش دی اور کہا کہ اسلامی دہشت گردوں کے خاندانوں کو بھی بے گھر کیا جانا چاہیے۔
قائداعظم نے کشمیر کی جغرافیائی حیثیت اور اسکے مسلم تشخص کے باعث ہی اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس پر بھارتی فوج نے اس نیت سے ہی تسلط قائم کیا تھا کہ پاکستان کی شہ رگ کاٹ کر اسے بے دست و پا بنادیا جائے تاکہ وہ بے بس ہو کر دوبارہ بھارت میں شامل ہو جائے۔ متعصب ہندو لیڈر شپ کی یہ حسرت تو پوری نہ ہوسکی کیونکہ قائداعظم نے اپنی فہم و بصیرت سے پاکستان کی معیشت کو اپنی زندگی میں ہی اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا تھا تاہم آزاد و خودمختار ملک کی حیثیت سے پاکستان کو دل سے قبول نہ کرنیوالے بھارت نے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دے کر پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی زہریلی سازشوں کا آغاز کردیا چنانچہ آج قیام پاکستان کے 70 سال بعد بھی کشمیر کا غالب حصہ بھارت کے زیرتسلط ہے جسے اس نے اپنی ریاست کا درجہ دیکر وہاں کٹھ پتلی اسمبلی اور حکومت کی تشکیل کا سلسلہ انتخاب کے ڈرامے کے ذریعہ برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان سے الحاق کی تمنا اور تڑپ رکھنے والے کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے آغاز سے اب تک اسکی فوجوں اور دوسری فورسز کا ظلم کا ہر ہتھکنڈہ برداشت کرتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہونے دی۔
اس بے پایاں اور صبرآزما جدوجہد کے دوران کشمیری عوام اب تک اپنے لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں اور ہر بھارتی ہتھکنڈے پر انکے دلوں میں آزادی کی نئی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ ہندو انتہاء پسند مودی سرکار کے دور میں تو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ اور بھی تیز ہوگیا ہے جبکہ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کے علاوہ پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر بھی غاصبانہ تسلط کے منصوبے بنانا شروع کر دیئے ہیں جس کے تحت مودی سرکار پاکستان پر عملاً جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ پہلے شوپیاں اور اسلام آباد (اننت ناگ) میں خون کی ندیاں بہائی گئیں اور اب کولگام میں بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ شکست خوردہ بھارتی فوج کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ دختران ملت سے وابستہ خواتین کو گرفتار کرنے اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بھارتی فوج کی وحشیانہ قتل و غارت گری ساری دنیا دیکھ رہی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور ملکوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے صحیح وکیل ہونے کا کردار ادا کرے اور سفارتی سطح پر بھرپور تحریک چلاتے ہوئے انڈیا کی دہشت گردی کو عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔
یو این ہیومن رائٹس کمیشن کے سفیر ملک ندیم عابد نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں خواتین سے متعلق سیشن میں بھارتی فوج کے مظالم پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کشمیر میں عورتوں اور بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے۔ رپورٹ پیش کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا اپنے جذبات پر قابو نہ رہا اور وہ بے اختیار رو پڑے۔ انھوں نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ بھارتی فوج نے اب تک دس ہزار سے زائد خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی فوج سے نہ بچیاں محفوظ ہیں نہ معمر خواتین۔ رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین میں سات سال کی کم سن بچیوں سے لے کر 77 سال تک کی خواتین شامل ہیں۔


ای پیپر