کشمیر کی آزادی تک انڈین موویز کا بائیکاٹ
12 اپریل 2018

6اپریل 2018ء کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی قابض فوج کے انسانیت سوز مظالم اور سفاکیت کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ پاکستان میں یہ سیاہ دن سرکاری سطح پر منایا گیا۔ دفاتر میں بازو پر کالی پٹیاں باندھی گئیں، ریلیاں نکالیں، فوٹو سیشن کیے ۔ بعد ازاں وہی بے حسی اور بے بسی!راقم اپنے آپ سے اور مسلم امہ سے سوال کرتا ہے کہ کیا مذمتی قرار دادوں اور کالی پٹیاں باندھنے سے کبھی کسی کمزور اور لاچار کو ثمرات ملے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ قرار دادوں اور ریلیوں سے کسی کمزور کا حق تسلیم تو کیا جاتا ہے لیکن ستم یہ ہے کہ حق دیا نہیں جاتا۔ فلسطین اور کشمیری عوام کے حق کو سلامتی کونسل نے تسلیم ضرور کیا۔ عملی اقدام صفر، نتیجتاً رزلٹ بھی صفر۔ بھارتی فوج کی سفاکیت اور مظالم کا یہ عالم ہے کہ رواں ہفتے میں سرچ آپریشن کے نام پر اننت ناگ‘ شوپیاں اور پلوامہ میں معصوم لوگوں پر گولیاں چلائیں اس دوران 20بے گناہ کشمیری شہید جبکہ 100سے زائد زخمی ہوئے۔
سول سوسائٹی کے علاوہ خطیب بادشاہی مسجد لاہور مولانا سید عبدالخیر، سنی تحریک کے سربراہ، انجینئر ثروت اعجاز قادری اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر ملک بھر میں کشمیر کے اندر بھارت کی ریاستی دہشت گردی‘ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم اور افغانستان کے صوبہ قندوز میں مدرسے کی تقریب پر امریکی وحشیانہ بمباری کے خلاف احتجاج کیا۔ مذمتی قرار دادیں اور ریلیاں نکالنا اظہار محبت تو ہوسکتا ہے کیا یوم سیاہ منانے سے بھارت کے کان پر کوئی جُوں رینگی۔ ہرگز نہیں!اب وقت کا تقاضہ ہے کہ زبانی جمع تفریق کو خیرباد کہیں اور عملاً اقدامات اٹھائیں۔ تاکہ بھارت پر دباؤ بڑھے۔ بنیے کی تجارت پرکاری ضرب لگائیں۔ صرف اور صرف انڈین مویز اور ڈرامہ کا کشمیر کی آزادی تک بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ حکومت کا کام نہیں۔ حکومتوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنا اور سوچنا پڑتا ہے جبکہ یہ کام عوام احسن طریقے سے کرسکتے ہیں۔
کشمیری شہداء کا لہو پکار کر مسلم بھائیوں سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہمارے خون سے انڈین مویز عزیز ہیں؟ ذرا سوچئے کیا کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت سے انڈین مویز قیمتی ہیں؟ ذرا سوچئے؟ کشمیری بہن بھائیوں کے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں۔ کیا آپ کلمہ گو بھائی کی نسبت بھارت کو دوست سمجھتے ہو یا دشمن؟ انڈین مویز کا بائیکاٹ نہ کرنا اور صرف ایک دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر ریلیاں نکالنا اور سیاہ پٹیاں باندھنا، منافقت نہیں؟ ذرا سوچئے!حضرت محمدؐ کا فرمان عالی شان ہے کہ مومن جب برائی کو دیکھتا ہے تو اس کو ہاتھ کی طاقت سے روکتا ہے۔ اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے، اگر زبان سے نہ روک سکے تو دل سے بُرا جانے جو کہ ایمان کا انتہائی کمزور درجہ ہے۔ یہ کڑوی حقیقت ہے کہ بھارت کو سفاکیت اور مظالم سے طاقت اور مذاکرات کے ذریعے نہیں روک سکتے لیکن کشمیری شہداء ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کی لاج رکھتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے حضور عہد کریں کہ انڈین مویز اور ڈراموں کا اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک کشمیر آزاد نہ ہوجائے۔ یہ مشکل کام نہیں۔احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے انڈین مویز بائیکاٹ تحریک پروان چڑھانے میں علماء کرام، مشائخ عظام، اساتذہ کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہر جمعے مسجد میں خطبہ کے دوران نمازیوں، سکولز، کالجز اورمدرسوں میں انڈین مویز کے بائیکاٹ کا حلف لیا جائے جہاں جہاں پاکستانی اور کشمیری وہاں بائیکاٹ کریں۔ اس طرح بھارتی معیشت پر ضرب پڑے گی۔ اندر سے دباؤ بڑھے گا۔ ازلی دشمن مذاکرات کا ڈھونگ رچائے گا۔ کیونکہ بھارتی فورسز بخوبی جانتی ہیں کہ کشمیری عوام کے دل و دماغ سے بھارتی فوج کا خوف بالکل نکل چکا ہے۔وہ آزادی حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہوچکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آزادی کے چراغ صرف خون سے جلتے ہیں اور نئی نسل زیادہ سے زیادہ آزادی کے چراغ خون سے جلا رہی ہے۔
تاریخ سے مسلمانوں نے سبق نہیں سیکھا اور تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے جب خلافت عباسیہ کے دارالخلافہ بغداد میں چھوٹے چھوٹے مسائل پر مناظرے ہوتے تھے ان کا پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ ایک وقت میں سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسرا مناظرہ یہ تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام۔ تیسرے مناظرے میں یہ تکرار چل رہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہیے۔ علماء کا ایک گروہ کہتا تھا کہ ایک بالشت سے لمبائی کم نہ ہو دوسرا گروہ یہ دلائل دیتا تھا کہ ایک بالشت سے کم مسواک جائز ہے آج ہم مسلمان پھر ویسے ہی مناظرے سوشل میڈیا پر یا اپنی نجی محفلوں، جلسوں اور مسجدوں کے منبر و محراب سے کررہے ہیں۔ ڈاڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے شلوار کی لمبائی ٹخنے سے اوپر اور نیچے کتنی ہونی چاہیے۔ ہر فرقہ اور مسلک خود جنت کا ٹھکیدار بنا ہوا ہے۔ نئی نسل کو دین کے بنیادی ارکان سکھانے اور عمل پیرا ہونے، فرقوں اور مسلک کی تقسیم سے باہر نکال کر امت وحدت بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک امت وحدت کا احساس اور شعور نہیں پیدا کریں گے تب تک امریکہ دور حاضر کا ہلاکو خان، افغانستان، لیبیا، عراق اور شام کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا رہے گا جبکہ کشمیر میں بھارت اور فلسطین میں اسرائیل کے ذریعے ظلم و سفاکیت کی تاریخ رقم کررہا ہے۔ تمام مسلم ممالک کبوتر کی طرح آنکھیں بندکرکے خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ یاد رکھیں کبوتر کی بند آنکھیں دیکھ کر بلی کبھی واپس نہیں جاتی بلکہ شکار کرتی ہے اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
مسلم ممالک کے قائدین بین الاقوامی برادری سے کشمیری اور فلسطینی عوام کو حقوق دلانے کی اپیل کرتے ہیں لیکن خود عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اور مسلمان امت وحدت بن کر سوچیں اور یہود و ہنود کے مال کو نہ خریدیں بلکہ بائیکاٹ صرف ایک سال کریں۔ یہی یہود و ہنود فلسطینی اور کشمیری عوام کو حقوق دینے کا راستہ نکالیں گے۔


ای پیپر