کے پی حکومت آئندہ سال کا بجٹ پیش نہیں کرے گی،عمران خان کا اعلان
12 اپریل 2018 (17:33) 2018-04-12

اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف ایک نظریہ نہیں مافیا کا نام ہے، ملک کا وزیراعظم ایک کرپٹ مافیا کو بچانے کےلئے اپنی عدلیہ کے خلاف جا رہا ہے، پنجاب میں شہباز شریف اینڈ سنز کرپشن لمیٹڈ کمپنی بیٹھی اربوں روپے کما رہی ہے، 29اپریل کو مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کرنے جا رہے ہیں، سینیٹ میں ٹکٹ بیچنے والوں کو پارٹی سے نکال کر رہیں گے، فاٹا کاکے پی کے میں انضمام فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کی وجہ سے نہیں ہو سکا، کے پی حکومت آئندہ سال کا بجٹ پیش نہیں کرے گی، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے پر چیف جسٹس کے شکرگزار ہیں، یورپی ممالک میں نگران حکومتیں اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ انہیں دھاندلی کا خوف نہیں ہوتا، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں نظریاتی سیاست ہونی چاہیے۔

جمعرات کو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کا صوبہ کے پی کے میں انضمام وقت کی ضرورت ہے لیکن مولانا فضل الرحمان کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا اور اس کی وجہ سے ایک انتشار پیدا ہو سکتا ہے، اس علاقے میں ایک خلاءہے جس کا ہمارے دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں، قبائلی عوام کی شکایات دور کر کے فاٹا کا انضمام کیا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ایک خطرناک صورتحال ہو گی۔ عمران خان نے کہا کہ سینیٹ میں ہماری پارٹی کے جن افراد نے ٹکٹ بیچے ان کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں، ثابت ہونے پر ایسے لوگوں کو پارٹی سے نکالیں گے،29اپریل کو مینار پاکستان پر جلسہ کررہے ہیں جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ نے جب سے مافیا کے خلاف فیصلہ دیا ہے اس پر متواتر حملے کئے جا رہے ہیں، نواز شریف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک مافیا کا نام ہے، ملک کا وزیراعظم ایک کرپٹ مافیا کو بچانے کےلئے اپنی ہی عدلیہ کے خلاف جا رہا ہے، ملک کا وزیر خارجہ دبئی کی کمپنی میں 16لاکھ روپے تنخواہ پر ملازمت کر رہا ہے، پنجاب میں شہباز شریف اینڈ سنز کرپشن لمیٹڈ کمپنی بیٹھی ہوئی ہے اور اربوں روپے کما رہے ہیں، یہ سارا مافیا اکٹھا ہو کر کرپشن کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم خوش ہے کہ ملک میں طاقتور کا احتساب ہو رہا ہے، چھوٹے موٹے چوروں کو پکڑ لیا جاتا ہے لیکن مافیا کا دفاع وزیر اور تمام میڈیا ہاﺅسز کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ کسی حکومت کے پاس اختیار نہیں کہ اس کے پاس 45دن رہتے ہوں اور وہ ایک سال کا بجٹ پیش کردے،ہر جماعت کا الگ منشور ہے، ہم حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مداخلت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں، ان کو ووٹ کا حق دلوانے کےلئے چیف جسٹس کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں طاقتور کےلئے الگ اور غریب کےلئے الگ قانون ہے، ہم حکومت میں آ کر اس فرق کو ختم کریں گے، یورپی ممالک میں نگران حکومتیں اس لئے نہیں آتیں کیونکہ انہیں دھاندلی کا خوف نہیں ہوتا، ہمارے ملک میں 2جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پر مک مکا کرلیا، نگران حکومت کو مشاورت سے بننا چاہیے تا کہ تمام جماعتیں اس پر متفق ہوں، عمران خان نے کہا کہ ہم جنوبی پنجاب صوبہ کی حمایت کرتے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ ملک کی ضرورت ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں نظریاتی سیاست ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آزاد منتخب ہونے والا رکن خود کو بیچ دے، نظریاتی سیاست صرف سیاسی جماعتوں کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔


ای پیپر