پی آئی اے کو تباہ کرنے والے ملک دشمن ہیں : چیف جسٹس ثاقب نثار
12 اپریل 2018 (16:16) 2018-04-12


اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پی آئی اے میں بے ضابطگیاں اور نجکاری سے متعلق کیس میں2008 سے 2018 تک کے ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم د یتے ہوئے پی آئی اے کے مشیروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے کو تباہ کرنیوالے ملک دشمن اور غدار ہیں‘ اتنا بڑا اثاثہ تباہ کردیا ،ہم ایک کمیشن بنا رہے ہیں تاکہ معاملے کی تحقیقات ہوں‘ پی آئی اے نے تو خود کئی ایئرلائنز بنائیں‘ تمام افراد کے خلاف تحقیقات کرائیں گے۔


 سپریم کورٹ میں پی آئی اے میں بے ضابطگیوں اور نجکاری کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا ایم ڈیز نے ادارے کا بیڑا غرق کیا ہے۔ عدالت میں موجود پی آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس 10 اے ٹی آر، 12 777 جہاز جبکہ 10 ایئربسیں ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا 32 جہاز پی آئی اے کے لئے کافی ہیں؟ یہ حالات پی آئی اے کے ہیں۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا قومی ائیرلائین کو برباد کر کے رکھ دیا جن کے ادوار میں نقصان ہوا کیا ان کا تعین ہو، آپ نے اتنا بڑا اثاثہ تباہ کردیا ہے آپ نے لوگوں پر ظلم کیا ہے پی آئی اے کو برباد کرنے والے دشمن اور غدار ہیں۔


جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کیا یہ سارے جہاز پی آئی اے کی ملکیت ہیں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کچھ جہاز پی آئی اے نے لیز پر لے رکھے ہیں، ایک جہاز 9 ماہ سے گراونڈ ہے، اس جہاز کا 7 لاکھ 35 ہزار ڈالرز ماہانہ کرایہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ادارے کوبرباد کرنے والے ذمہ داران کوسامنے لائیں گے۔وکیل نے بتایا کہ 350 ارب روپے گرانڈ جہازوں پرخرچ ہوئے، انکوائریاں پاس ہوئیں تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کر دیا، پی آئی اے کے 916 مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں، 500 سے زیادہ مقدمات جعلی ڈگریوں کے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری کا کوئی ارادہ نہیں۔


چیف جسٹس نے کہا نجکاری پر پی آئی اے کا موقف آگیا ہے، حکومت سے بھی پوچھ لیتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا 2000 سے پی آئی اے کو کتنا نقصان ہوا ؟ وکیل نے بتایا پی آئی اے کو 2000 سے 360 بلین کا نقصان ہوا، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا جن کے ادوار میں نقصان ہوا ان کو نہیں چھوڑیں گے، نقصان کی وصولیاں ذمہ داران سے کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے کے سابق سربراہان کے نام ای سی ایل میں ڈالیں گے سب کہیں گے ہمارے دور میں کچھ نہیں ہوا کئی ایئرلائنز پی آئی اے نے خود بنائیں۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے مشیروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔


ای پیپر