مینجمنٹ کا فیصلہ
12 اپریل 2018 2018-04-12

گدھے سے کہا گیا تم بلاتکان صبح سے شام تک بھاری بوجھ اٹھاﺅ گے اس کے بدلے تمہیں خوراک ملے گی، تمہارے پاس عقل نہیں ہو گی اور تم 50 سال زندہ رہو گے، گدھا جو اتنا بھی گدھا نہیں تھا بولا کہ پچاس سال بہت زیادہ ہیں مجھے بیس سال بہت ہیں۔اس کی بات مان لی گئی۔ کتے سے کہا گیا تم انسانوں کے گھروں کی حفاظت کرو گے، انسان کے سب سے اچھے دوست ہو گے اور انسان کی بچی ہوئی خوراک کھاﺅ گے اور تمہاری زندگی تیس سال ہو گی۔ کتے نے کہا تیس سال بہت زیادہ ہیں، مجھے پندرہ سال بہت ہیں۔ چنانچہ اس کی بات بھی پوری ہو گئی۔ بندر سے کہا گیا تم ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگاتے اور دوسرے کو ہنسانے کے لیے طرح طرح کے کرتب دکھاتے رہو گے اور تمہاری زندگی بیس سال ہو گی۔ بندر بولا بیس سال زیادہ ہیں مجھے صرف دس سال زندگی کے بہت ہیں لہٰذا اس کی مراد بھی بر آئی۔ انسان سے کہا گیا تم روئے زمین پر سب سے ذہین مخلوق ہو گے، تم اپنی عقل کو دوسری مخلوقات کا سردار بننے، زندگی کو خوبصورت بنانے اور زمین کو آباد کرنے کے لیے کام میں لاﺅ گے اور تمہاری زندگی بیس سال ہو گی، انسان نے جواب دیا میں صرف بیس سال جینے کے لیے انسان بنوں گا؟ یہ عمر بہت کم ہے مجھے وہ تیس سال درکار ہیں جو گدھے کو نہیں چاہئیں، وہ پندرہ سال بھی جن کی کتے کو ضرورت نہیں اور وہ دس سال بھی جن سے بندر نے انکار کیا۔ پس انسان کی مراد بھی پوری ہوئی، اس زمانے سے انسان بیس سال انسان کی طرح گزارتا ہے، جس کے بعد تیس سال گدھے والے شروع ہو جاتے ہیں صبح سے شام تک کام کرتا ہے، پسینہ بہاتا ہے، بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس کے بعد بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ دروازے، کھڑکیاں اور بجلی کے بلب وغیرہ بند کرتا رہتا ہے۔ بچوں کی خوراک پوری کرنے کے بعد خود کھاتا ہے یہ کتے کے پندرہ سال ہیں جس کے بعد جب بوڑھا اور ریٹائرڈ ہو جاتا تو دس سال بندر کے شروع ہو جاتے ہیں ایک گھر سے دوسرے اور ایک بیٹے سے دوسرے بچے کے گھر آتا جاتا ہے اور اپنے پوتے، پوتیوں کو ہنسانے کے لیے عجیب و غریب حرکات و کرتب کرتا اور کہانیاں سناتا ہے۔ قارئین کرام! یہ عربی سے ترجمہ کی ہوئی تحریر ہے جو انسانی زندگی کی حرکیات کو واضح کرتی ہے، مشکل یہ ہے کہ وہ عقل جو ہمیں زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب بننے میں خرچ کرنا تھی اور جس کے باعث اشرف المخلوقات کا تاج ہمارے سر پر رکھا گیا تھا، اس عقل کو ہم زندگی کو بدصورت بنانے اور دوسروں کو چکر دینے میں استعمال کرتے ہیں۔

ہمارا نظام پچھلے ستر سال سے عوام الناس کی مشکلات حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور بدقسمتی سے جو لوگ اس نظام کو فیل کرنے کے ذمہ دار ہیں انہوں نے اپنی ساری زندگی عقل و دانش اپنی ذات اور خاندان کی زندگیاں بہتر کرنے میں استعمال کی ہے اور اگر کچھ بچ رہتی ہے اس کی مدد سے وہ یہ ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں کہ لوگوں کی مشکلات اور پریشانیاں کم نہ کرنے کے وہ ذمہ دار نہیں بلکہ کچھ اور لوگ ہیں!

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ ”خفیہ طاقتیں“ اور نام نہاد ”اسٹیبلشمنٹ“ نہ تو ”سرے محل“ کی خریداری میں رکاوٹ بنتی ہیں اور نہ ہی دنیا کے پانچ مختلف براعظموں میں کاروبار اور جائیدادیں خریدنے سے روک پاتی ہیں۔ ذاتی سٹیل مل اور ایئر لائن دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی ہے ایک فیکٹری سے پندرہ کمپنیوں پر مشتمل گروپ آف کمپنیز کھڑی کرنے کے لیے نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے اور نہ ہی ان کی عقل جواب دیتی ہے لیکن پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ جس ادارے کے ساتھ ”پاکستان“ کا لفظ لگا ہوتا ہے اس کا کوئی والی وارث نہیں رہتا اس کو اللہ آسرے پر چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ اس کا ستیا ناس مارنے کے لیے ہر کوئی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ نیشنل پاور پارک مینجمنٹ کمپنی ہو یا صاف پانی کمپنی، پی آئی اے ہو ، پی ٹی وی ہو یا سٹیل ملز سب حلوائی کی دکان پر اپنے رشتہ داروں کی فاتحہ کا بندوبست ہے۔

لوڈ شیڈنگ کا جن ایک مرتبہ پھر بوتل سے باہر آ رہا ہے۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

حکمران جماعت نے توانائی کے بحران کے حل پر اتنے دعویٰ اور بڑھکیں مار رکھی ہیں کہ سلطان راہی اور مصطفی قریشی بہت پیچھے نظر آتے ہیں، ”نام بدل دینا“ کی دھمکی دینے والے اب نظر نہیں آتے لیکن وہ بھی کیا کریں ان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کا لہجہ اور رویہ ایک نئے بیانیے کی تشکیل سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن اس کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ پنجاب اور دیگر صوبوں سے مسلم لیگ (ن) کے لوگ اب کشتی ڈوبتی دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چوہدری نثار کو اگر ذمہ داری نہ دی گئی تو اس مرتبہ پنجاب بھی مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اگر پنجاب نکل گیا تو پھر ”ہاﺅس آف شریف“ ہاﺅس آف کارڈز کی طرح بکھر جائے گا۔

میاں نواز شریف کا بیانیہ یہ ہے کہ ” مینجمنٹ “ شریف فیملی کو سزا دینے پر تلی ہوئی ہے جب کہ لگتا یہ ہے کہ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار اس سزا کی معافی اور کمی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے مجھے یاد آیا ایک بادشاہ سزا کے طور پر اپنے معتوب کو کتوں کے آگے ڈال دیا کرتا تھا اور کتے منٹوں میں تکہ بوٹی کر دیتے۔ ایک مرتبہ بادشاہ اپنے ایک بہت خاص وزیر سے ناراض ہو گیا اور اسے کتوں کے آگے ڈالنے کا حکم دیا۔ وزیر نے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ پندرہ سال آپ کی دن رات خدمت کی اس کے بدلے مجھے صرف پندرہ دن کی مہلت دے دیں اس کے بعد بے شک مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔ بادشاہ نے مہلت دے دی ،وزیر نے وہاں سے کتوں کے رکھوالے کی طرف رخ کیا اور وہاں پہنچ کر رکھوالے سے کہا کہ وہ پندرہ دن کتوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ رکھوالے کی مدد سے کتے مانوس ہوئے اور وزیر نے کتوں کو راتب ڈالنے اور نہلانے تک کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں سے انجام دی۔ پندرہ دن بعد جب دربار لگا اور بادشاہ نے وزیر کو کتوں کے آگے ڈالا تو کتے اس کے ارد گرد جمع ہو کر دم ہلانے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا کہ ان کتوں کی میں نے صرف پندرہ دن خدمت کی اور یہ میری اس خدمت کو بھلا نہیں پا رہے آپ کی میں نے پندرہ سال خدمت کی اور آپ میری ایک غلطی پر مجھے موت کے حوالے کر رہے ہیں۔ یہ سن کر بادشاہ کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور........اس نے وزیر کو فوراً مگرمچھوں کے تالاب میں پھینکنے کا حکم دیا، ثابت یہ ہوا کہ جب مینجمنٹ کسی کو سزا دینے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلتی!


ای پیپر