ماں جی !
12 اپریل 2018 2018-04-12

کل آپ کی ساتویں برسی تھی ۔ کاش 11اپریل 2011ءکورات 11بجے کا وقت میری زندگی میں نہ آتا۔ آپ کے بغیر زندگی کتنی بے رونق ، بے رنگ و نور، کتنی ادھوری کتنی ویران ہے؟ میں ہی جانتا ہوں ۔ یا ہر وہ شخص جانتا ہے جو اس رشتے کی اہمیت سے واقف ہے اور اب اس سے محروم ہو چکا ہے۔ میں اپنے اردگرد موجود لوگوں سے اکثر سنتا ہوں ”وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے “۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ مگر آپ سے جدائی کے دکھ کا وقت گزرہی نہیں رہا۔ یوں محسوس ہوتاہے یہ وقت ٹھہر گیاہے ۔ کہتے ہیں اپنوں کی دنیا سے رخصتی کے کچھ عرصے بعد صبر آجاتا ہے۔ یقینا آجاتا ہے، مگر والدین کی جدائی کا دُکھ شاید واحد دُکھ ہوتا ہے جس پر صبر آتے آتے ہی آتاہے۔ مجھے تو ابھی تک نہیں آیا، سات برس ہوگئے آپ کو ہم سے جدا ہوئے، مجھے تو ایسے ہی لگتا ہے آپ کی میت ابھی تک گھر کے لان میں پڑی ہے۔ میں ابھی تک ”چارپائی “ کاپایا پکڑے ، سر جھکائے ، بھیگی آنکھوں سے سوچ رہا ہوں ” آپ کے جانے کے بعد میرا کیا بنے گا؟۔ میں آپ کو دیکھ دیکھ کر جیتا تھا۔ میں آپ کو نہ دیکھ دیکھ کر مر نہیں جاﺅں گا ؟؟۔ اور اُن چڑیوں اور کبوتروں کا کیا بنے گا جہیں روزانہ صبح اپنے بیڈروم سے باہرلان میں آکر آپ دانا ڈالتی تھیں ؟“.... کل صبح باہر نکل کر ان کبوتروں اور چڑیوں کو دانا ڈال کر حسب معمول میں واپس مڑا انہوں نے شورمچانا شروع کردیا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، مجھے لگا وہ واپس مجھے اپنے پاس بلارہے ہیں۔ جیسے آج آپ کی ساتویں برسی پر وہ مجھ سے تعزیت کرنا چاہتے ہوں۔ میں کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ گیا ، اس دوران ان کا شور بڑھتا چلا گیا، مجھے لگا وہ آپ کو یاد کرکرکے رو رہے ہیں۔ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر آپ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ یہ کالمی مبالغہ آرائی نہیں، یہ حقیقت ہے میں نے دعا کے لیے جیسے ہی ہاتھ اُٹھائے آپ کے لاڈلے چڑیاں اور کبوتر خاموش ہوگئے ۔ میں نے سوچا ان کے ہاتھ ہوتے وہ بھی میرے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر آپ کی مغفرت کے لیے دعا کرتے۔ مجھے یقین ہے اپنے انداز میں انہوں نے بھی ضرور دعا کی ہوگی۔ اُس کے بعد میں وہاں سے اُٹھا اور آپ کی قبر پر حاضری دی، پھر اباجی کی قبر پر چلا گیا، میری خواہش تھی ان کی قبر آپ کی قبر کے بالکل ساتھ ہوتی۔ آپ اسی طرح ایک دوسرے سے گپیں لگاتے جیسے ہماری موجودگی میں ساتھ بیٹھ کر لگایا کرتے تھے۔ وہ لمحات ہمارے لیے سب سے قیمتی لمحات ہوتے تھے۔ مگر قدرت کو منظور نہیں تھا، ابوجی کی قبر آپ کی قبر کے ساتھ نہیں بن سکی، ان کی قبر آپ کی قبر سے تھوڑے فاصلے پر ہے۔ فاصلے سے مجھے ابو جی کی بات یاد آئی۔ وہ ہمیشہ فرماتے تھے ”بیٹا !کسی سے سچی محبت ہو اُس سے تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہیے، غیرضروری طورپر اُسے جاننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، خواہ مخواہ کسی کے بارے میں چھان بین کرتے رہنے سے اُس کے ساتھ اگر سچی محبت ہو اُس میں خلل پیدا ہوتا ہے“ ....ابو جان کو آپ سے سچی محبت تھی، اُس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے وہ آپ کے جانے کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے۔ آپ کو پتہ ہی ہے وہ بہت کم بولتے تھے۔ بہت کم کھاتے تھے، بہت کم سوتے تھے۔ اپنی ان خصوصیات کی بنیاد پر وہ بہت دبلے پتلے تھے، وہ اکثر ہم سے کہتے تھے ”آپ سب نے بوڑھا ہو جانا ہے میں نے نہیں ہونا“۔ یہ بات اُن کا ”تکیہ کلام“ ہی بن گئی تھی کہ” میں نے کبھی بوڑھا نہیں ہونا “ ....میں آپ کو بتاﺅں جس روز ہم آپ کو دفنا کر گھر واپس آئے۔ میں نے پیچھے سے اُن کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا ۔ اُنہوں نے میرے ہاتھ زور سے پکڑ لیے اور بولے ”یار آج میں بوڑھا ہو گیا ہوں“۔ آپ کے جانے کے بعد وہ واقعی بوڑھے ہوگئے تھے۔ پھر وہ بھی چلے گئے۔ وہ آپ کی ”جدائی کی بیماری “ میں مبتلا ہوگئے جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ ....ہمارے پاس اب کچھ نہیں رہا۔ سوائے آپ دونوں کی یادوں کے ....کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جس دن آپ یاد نہیں آتے۔ پچھلے دنوں آپ کی لاڈلی پوتی صالحہ کی شادی تھی، میں نے آپ کو بہت مِس کیا۔ جب ڈھولک بج رہی تھی۔ جب آپ کی بیٹیاں، بہوئیں ، پوتیاں اور نواسیاں اپنے اپنے ہاتھوں پر مہندی رچا رہی تھیں، جب نکاح ہورہا تھا، جب صالحہ اپنے سسرال یعنی اپنے اصل گھر کے لیے رخصت ہورہی تھی۔ جب اُسے رخصت کرنے کے بعد میں گھر واپس آیا، اِس دوران کوئی لمحہ ایسا نہیں آپ کی صورت میری آنکھوں سے پرے ہٹی ہو۔ ہم نے جب
اُس کا رشتہ تلاش کرنے کا سوچا اُس کے لیے جو معیار مقرر کیا۔ میرا خیال تھا اِس حوالے سے ہماری ساری خواہشات شاید پوری نہیں ہوسکیں گی۔ مگر یہ زندگی میں آپ کی طرف سے مجھے دی ہوئی دعاﺅں کا نتیجہ ہے ہماری ساری خواہشات اللہ پاک نے اپنے خاص فضل ،ترس اور کرم سے پوری کردیں۔ اب وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ کل سے وہ ہماری طرف ہے۔ کل آپ کی ساتویں برسی پر وہ بہت سوگوار تھی ۔ اُسے اپنی ”دادو“ یاد آرہی تھیں۔ آپ کی موجودگی میں گھر میں ہروقت ”دادو دادو“ ہوا کرتی تھی۔ سات برس بیت گئے یہ آوازیں سننے کو میں ترس گیا ہوں۔ ہمارے گھر کی ساری رونق ہی چلی گئی۔ راحیل اور طلحہ اب بڑے ہوگئے ہیں۔ اُن کے قد بھی بہت بڑھ گئے ہیں مگر اُن کی بدقسمتی اور محرومی قدرت نے زیادہ عرصے تک اپنی ”دادو“ کے قدموں میں بیٹھنے کا اُنہیں موقع نہیں دیا۔ ہم ہمیشہ یہ سنتے آئے ہیں ”گھرعورتوں سے ہوتے ہیں“۔ ماں سب سے بڑی عورت ہے۔ جس کی ماں نہیں رہتی اُس کے پاس بھلا کیا باقی رہ جاتا ہے؟۔ میں آج جوکچھ ہوں، جس مقام پر ہوں، سب آپ کی دعاﺅں کے نتیجے اور صدقے میں ہے۔ مجھے جب بھی کوئی دعا دیتا ہے مجھے لگتا ہے میری ماں کی دعا ہے۔ مجھے جب بھی کسی نیکی کی توفیق ملتی ہے، مجھے یقین ہوتا ہے یہ کرم اللہ نے مجھ پر آپ کی دعاﺅں کے نتیجے میں ہی کیا ہے۔ میرے اکثر دوست اور خیرخواہ مجھ سے کہتے ہیں ”تم سماجی طورپر بڑے فعال ہو۔ کوئی نہ کوئی خوشی اور ترقی اللہ پاک کے فضل سے روزانہ تمہارے پاﺅں چوم رہی ہوتی ہے۔ تم اپنا صدقہ دیا کرو۔ خود کو اتنا نمایاں نہ کیا کرو۔ تمہیں نظر لگ جائے گی “ ....میں اپنے ان دوستوں اور خیرخواہوں سے کہتا ہوں ” جسے ماں کی دعالگی ہواُسے نظر نہیں لگتی“ ....میں جب بھی کالم لکھنے لگتا ہوں مجھے سمجھ نہیں آتی آج کیا لکھوں؟ ۔ پھر میں آپ کا تصور اپنے ذہن میں لاتا ہوں۔ اور اچانک ایسے ایسے خوبصورت خیالات اور الفاظ میرے دماغ میں اُترآتے ہیں میرا کالم بن جاتا ہے۔ میرا دن بن جاتا ہے۔ میرا مقدر بن جاتا ہے۔ آپ کی زندگی میں، میں جب بھی آپ کے سامنے آتا آپ ہاتھ اُٹھا کر مجھے دعا دیتیں ۔”میرا پُتر مٹی چکے سونا ہووے“۔ ایسے ہی ہورہا ہے ۔ ماں جی بالکل ایسے ہی ہورہا ہے ،....آپ اب میرے اللہ کے پاس ہیں۔ اللہ سے میری یہ دعا قبول کروادیں کہ اللہ مجھے اپنے پسندیدہ راستے پر چلا دے۔ اِس سے بڑھ کر نعمت کسی مسلمان کے لیے کوئی اور ہوہی نہیں سکتی!


ای پیپر