آئی جی کی تبدیلی: یہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا
11 ستمبر 2020 (23:35) 2020-09-11

پولیس کے اندر محکمانہ فرقہ بندی کی خبریں زیر گردش تھیں مگر یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ ایسا کبھی ہوا نہیں کہ سی سی پی او اپنے زیر کمان افسروں کو طلب کر کے کہے کہ آپ نے پولیس چیف یعنی آئی جی پنجاب کا حکم نہیں ماننا بلکہ وہی حکم ماننا ہے جو میں کہوں گا۔ اسے عام فہم زبان میں پولیس مقابلہ کہہ سکتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ پولیس مقابلے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ ہوتے تھے، اب پولیس ہی دونوں طرف ہے۔ یہ آئی جی پنجاب کے خلاف ایک طرح کا coup یا تختہ الٹنے کی سازش تھی جو کامیاب ہونے سے پہلے ہی بے نقاب ہو چکی تھی مگر یہ آئی جی شعیب دستگیر کے دامن کی ایسی چنگاری ثابت ہوئی جس سے وہ نہ بچ سکے۔ 

شعیب دستگیر کا شمار لائق ترین افسروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تعیناتی کے وقت وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں نے پنجاب پولیس کے سب سے لائق بندے کو آئی جی بنایا ہے میں نے ان کی فائل دیکھی ہے اس سے بہتر پوری پولیس میں کوئی نہیں ہے۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ انہوں نے 9ماہ پولیس چیف کی سیٹ سنبھالے رکھی وہ پہلے آئی جی ہیں جو موجودہ حکومت کے 2 سالوں میں اتنا عرصہ گزار پائے ہیں۔ 2 سال کے عرصے میں چھٹا آئی جی لایا گیا ہے یہ بھی ایک ریکارڈ ہے اس وقت چیف پولیس کی ٹاپ سیٹ میں نہ تو کوئی continuity یا تسلسل ہے کہ جو چیف لایا جاتا ہے اسے کم از کم 2 سال کا عرصہ تو دیا جائے نہ ہی کوئی tenur یا مدت تقرر کا لحاظ ہے اور نہ ہی چیف کے لیے Job security یا ملازمت کے تحفظ کی کوئی یقین دہانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جس کا نام آئی جی کے لیے تجویز ہوتا ہے وہ افسر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ نئے آئی جی انعام غنی صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کئی سینئر افسروں کو supersede کر کے آئی جی بنائے گئے ہیں جس سے پولیس کے ’’کور کمانڈر‘‘ میں بے چینی اور میرٹ کے قتل جیسے تاثرات پائے جاتے ہیں یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ سینئر افسروں کے ایک گروپ نے ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی طارق یٰسین نے تو ایک تحریری لیٹر بھی لکھا ہے پنجاب حکومت کو کہ وہ اپنے جونیئر کے نیچے کام نہیں کر سکتے۔ طارق یٰسین کو چاہیے تھا کہ چھٹی پر جانے کی بجائے اپنا استعفیٰ دیتے جیسا کہ فوج کی روایت ہے۔ 

پی ٹی آئی حکومت نے پولیس ریفارم کے جو دعوے کیے تھے وہ ایک ایک کر کے دم توڑ چکے ہیں اور پولیس کی حالت ن لیگ کے دور سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ مکمل طور پر طوائف الملوکی کا دور دورہ 

ہے۔ ڈی جی اوز کے تبادلے روز کا معمول ہیں اور ان کے پیچھے پیسے اور اثر و رسوخ کی داستانیں زبان زد عام ہیں مگر کسی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ 

اس صورت حال کا سب سے افسوسناک منظر یہ ہے کہ شعیب دستگیر صاحب سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں۔ کہانی یہ ہے کہ گزشتہ ماہ مریم نواز کی نیب لاہورمیں پیشی کے موقع پر ن لیگ کے کارکنوں نے وہاں ریلی نکالی جس کے بعد توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد درجنوں مظاہرین کو گرفتارکر لیا گیا۔ 

شعیب دستگیر کا قصور یہ تھا کہ آپ نے اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین کو اکٹھا کیوں ہونے دیا۔ قبل از وقت گرفتاریاں کیوں نہ کی گئیں اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے میں کیوں ناکام رہی۔ اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ مبینہ طور پر ن لیگیوں کی گرفتاریوں کے بعد حکمران جماعت چاہتی تھی کہ زیر حراست ملزمان پر مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیں تاکہ وہ ضمانت پر باہر نہ آ سکیں اور انہیں عدالتوں سے سزائیں دلوائی جا سکیں مگر شعیب دستگیر نے ماورائے قانون کوئی کام کرنے سے معذرت کر لی اور ان کا کہنا تھا کہ میرٹ پر کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ لوگ دہشت گرد نہیں ہیں تو ان پر دہشت گردی کی دفعہ کیوں لگائیں۔ حکومت مریم نواز ریلی پر ان سے پہلے ہی نالاں تھی، ان کا انکار حکومتی اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا اور انہیں ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا مگر یہ ایک Tactical یا کرتب گری کے ذریعے معاملات کی منصوبہ بندی کی گئی۔ CCPO عمر شیخ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیراعظم کے ایک معاون خصوصی کے بہت قریب ہیں، انہیں لاہور تعینات کیا گیا۔ اس کیس میں عمران خان نے بظاہر اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا ہے مگر اس کا پس منظر بہت افسوسناک ہے یہ سیاست کے لیے اور پولیس کے لیے دونوں صورتوں میں منفی نتائج کا حامل ہے۔ یہ کیس پولیس میں حکومتی اور سیاسی مداخلت کی بدترین مثال ہے۔ 

پولیس میں جتنے تبادلے موجودہ حکومت میں ہوئے ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ عمران خان کا 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا دور 2 نکات پر تھا ایک ملکی معیشت کی بحالی جس کا انجام ہم سب دیکھ چکے ہیں، دوسرا ملک سے کرپشن کا خاتمہ جس کے لیے پولیس نظام کی اصلاحات ایک کلیدی عنصر تھا اس کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔ پنجاب میں شہبا زشریف پر دباؤ تھا کہ پولیس کو  بدلیں تو انہوں نے وردی بدل دی۔ عمران خان پرجب دباؤ آتا ہے تو یہ آئی جی بدل دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ اب بھی وہیں کا وہیں ہے بلکہ صورت حال پہلے سے زیادہ خراب ہو رہی ہے۔ 

یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ پولیس کی قسمیں ہیں۔ ایک پولیس وہ ہے جو پیراشوٹ کے ذریعے محکمہ میں نازل ہوتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سی ایس ایس کر کے ڈائریکٹ اے ایس پی بھرتی ہوتے ہیں۔ 26سال کے لڑکے کو جو کہ کالج یا یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہوتا ہے ، اسے آپ ایک تحصیل کی چوکیداری سونپ دیتے ہیں۔ اس کی ساری زندگی ایئر کنڈیشنڈ آفس میں نوکری ہے۔ اس نے جو کچھ بھی کرنا ہے، وائرلیس اور فون پر ہی کرنا ہے۔ دوسری پولیس وہ ہے جو کانسٹیبل بھرتی ہوتے ہیں یا انسپکٹر بھرتی ہو کر ڈی ایس پی تک جاتے ہیں۔ عوام کو جس پولیس سے واسطہ ہے وہ دوسرے نمبر والی پولیس ہے جو مجموعی نفری کا 80 فیصد ہے یہی لوگ نظام چلا رہے ہیں اور یہی پولیس کا اصل چہرہ ہے۔ آفیسر کیڈر والی پولیس نچلے درجے والی پولیس کو کچھ نہیں سمجھتی۔ پولیس کے نظام کی بہتری کا سارا اختیار سی ایس ایس پولیس کے پاس ہے، اگر وہ چاہتی تو نچلی سطح پر پولیس میں کرپشن اور بے ضابطگی کا خاتمہ ممکن ہے مگر ان کی ساری دلچسپی اپنی ٹرانسفر پوسٹنگ ، ترقی اور مراعات پر ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون


ای پیپر