پنجاب پولیس تحریک انصاف کی گورننس کی زد میں
11 ستمبر 2020 (23:34) 2020-09-11

 بدقسمتی سے انتظامی نا اہلی تحریک انصاف کی حکومت کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے اس کے اثرات زندگی کے تمام تر شعبہ جات پر پڑ رہے ہیں۔آج کل پنجاب پولیس کے آئی جی کی پنجاب سے روانگی مختلف حلقوں میں موضوع سخن ہے۔لیکن اب یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔شعیب دستگیر سے پہلے چار آئی جیز )ٰIG,s) پولیس، پنجاب سے روانگی ڈال چکے ہیں، اور اُن چاروں کے چاروں کا شمار پولیس کے اچھے افسران میں ہوتا ہے۔یہی حال کچھ اسی تعداد میں پنجاب کے چیف سیکریٹریز کا ہو چکا ہے۔ میجر اعظم سلیمان جن کا شمار بیوروکریسی کے اچھے افسران میں تھا کچھ اسی سج دھج سے پنجاب میں تشریف لائے تھے اور پھر کچھ اسی انداز میں بیک ٹو پیولین (Back to pavillion) ہوئے تھے۔ ان تمام افسران کی پنجاب سے روانگی کو دیکھ کر مرزا غالب کا ایک شعر ذہن میں آ رہا ہے اور وہ ہے بو ئے گل ، نالہء دل و دوُد چراغ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا سارے زمانے کو یاد ہے جب وزیراعظم عمران خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس آئی جی ( شعیب دستگیر) کو میں نے سلیکٹ (select) کیا ہے۔ سچ پوچھیں اُن کی یہ بات سن کر میں ٹھٹکا تھا کیونکہ اب تک اُن کی سلیکشن کا مجھے کچھ نہ کچھ اندازہ ہو چکا تھا۔ ظاہر ہے اُنہیںکرکٹ ٹیم کی اچھی سلیکشن میں تو مہارت حاصل تھی لیکن سول حکمرانی میں نہ تو ان کا کوئی تجربہ تھا نہ ہی کوئی خدا داد صلاحیت۔دوران حکمرانی ان کی ٹیم کی سلیکشن تو قوم دیکھ رہی ہے، وہ تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔لوگ تو اب یہاں تک کہتے ہیں کہ جس ادارے کی زُبوں حالی مقصود ہو تو اُس ادارے کے سربراہ کی سلیکشن خان صاحب سے کرا لیں، نتیجہ سامنے آ جائیگا۔اُن کی سلیکشن کا نمایاں شاہکار وسیم اکرم پلس پورے ملک میں پنجاب کی گڈ گورننس اور ترقی کے ضامن ہیں،جو بلا شبہ خاں صاحب کے لیے باعث افتخار ہیں ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آج سے نو ماہ پہلے جب خان صاحب تمام سینئر پولیس افسران کے سی ویز( Curriculum Vitaes ) کی ذاتی طور پر چھان پھٹک کرکے شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کی پوسٹ کے لیے ڈھونڈ لائے تھے اور بڑے تفاخر سے کہہ رہے تھے کہ میں نے پنجاب کو ایساآئی جی دے دیا ہے جو یہاں کے بڑے بڑے 

ڈاکو پکڑے گا اور صوبہ پنجاب کی حالت تبدیل کر کے رکھ دیگا۔ لیکن اس فیلڈ یعنی محکمہ پولیس کے تجربہ کار لوگ اسی وقت کہہ رہے تھے کہ انہیں یعنی شعیب دستگیر صاحب کا فیلڈ کا کوئی خاص تجربہ نہیں کیونکہ نہ تو وہ کسی ڈویژن میں آر پی او (RPO ) رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی خاص عرصہ ڈی پی او شپ کی ہے ۔ تجربہ کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا ، اس لیے یہ صحیح معنوں میں اپنے فرائض سے عہدہ براء نہیں ہو سکیں گے۔ خانصاحب کی دریافت کی کارکردگی چند ماہ میں سامنے آگئی۔ آپ کو دن دھاڑے اسی شہر میں جہاں آئی جی صاحب خود بیٹھتے ہیں وکلاء اور پنجاب کارڈیالوجی انسٹیوٹ کے ڈاکٹرز کی دھینگا مشتی یاد ہو گی جس کے دوران کارڈیالوجی انسٹیوٹ میں داخل کئی مریض اگلے جہان سدھار گئے تھے۔ حالانکہ اس واقعہ کی پیشگی اطلاع خفیہ ایجنسیز ذمہ دار پولیس افسران کو دے چکی تھیں۔اسی طرح کا واقعہ ابھی حال ہی میں مریم نواز کی نیب آفس میں پیشی کے دوران سامنے آیاجس سے حکومت کی نااہلی پوری دنیا کے سامنے آئی۔ خیر اب نو ماہ بعد عمران خان صاحب کے معاون خصوصی شہباز گل صاحب کہ رہے ہیں کہ شعیب دستگیر صاحب دیانت دار تو تھے لیکن وہ ڈیلیور نہیں کر سکے اور جو ڈیلیور نہیں کر سکے گا اُس کو ہم ٹرانسفر کر دیں گے ۔ تو یہ تھی خانصاحب کی سلیکشن۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب میں شریف برادران کی حکومت کئی دہائیوں پر محیط رہی ہے اور اس دوران میں انہوں نے اپنے بہت سے لوگوں کو لاہور پولیس میں بھرتی کیا جو آجکل اہم پوسٹوں پر تعینات ہیںاور ان کی ہمدردیاں شریف برادران کے ساتھ ہیں۔اس لیے اس شہر میں پنجاب حکومت کو لاء اینڈ آرڈر کے مسائل رہتے ہیں۔ایسا لگتا ہے حکومت وقت اس تلاش میں تھی کہ کوئی ایسا بندہ لاہور کے لیے ڈھونڈا جائے جو لاہور پولیس کو تگڑے ہاتھوں سنبھال سکے۔ اس کے لیے خانصاحب کی حکومت نے شیخ عمر کو تلاش کر لیا اور انہیں سی سی پی او (CCPO ) لاہور لگا دیا۔ سی سی پی او لاہور تقریباً پچاسی تھانوں اور پینتیس ہزار پولیس کا مکمل اور کُلی انچارج ہوتا ہے۔ موصوف نے پہلی میٹنگ میں ہی لاہور پولیس کو باور کرایا کہ آپ کے لیے میں ہی سب کچھ ہوں۔ اگر آئی جی کے بھی کوئی احکامات ہونگے تو ان کی تعمیل میری اجازت سے ہوگی ۔ چونکہ شیخ عمر صاحب اکیس گریڈ میں پروموشن کے لیے سُپر سیڈ ہو چکے تھے اور سمجھتے ہیں کہ اس میں شعیب دستگیر کا بھی رول تھا اس لیے ان کے متعلق کچھ سخت کلمات کہہ گئے ۔ سچ پوچھیں زندگی میں ایسی ناکامیوں کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ جب ایسے کلمات کا آئی جی شعیب دستگیر کو معلوم ہوا تو انھوں نے ٹھان لی کہ اگر شیخ عمر یہاں رہا تو وہ بطور آئی جی کام نہیں کریںگے ۔ انھوں نے اپنے ارادے سے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم دونوں کو آگا ہ کیا ۔ حکومت تو پہلے ہی اُن کے ڈیلیور نہ کرنے سے ناخوش تھی لہذا انھیں وفاقی حکومت میں ایک اچھی پوسٹ دیکر فارغ کر دیا گیا ۔ آئی جی کی خالی پوسٹ پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے اپنے دوست اور بیچ میٹ انعام غنی کو وزیر اعظم سے انٹرویو کروا کر ایڈجسٹ کرا دیا حالانکہ یہیں آئی جی آفس میں غنی سے سینئرافسر بیٹھے ہوئے تھے۔بہر کیف چشم بینا رکھنے والے تجربہ کار لوگوں کی رائے ہے کہ ایک سپر سیڈڈ آفیسر کو سی سی پی او لاہور لگانا اور ایک جونئیر کو جس کے خلاف کئی سنجیدہ نوعیت کی انکوائریاں چلتی رہیں ہیں کو آئی جی پنجاب لگانا کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہے اور اس کے اچھے نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ دیکھیں۔


ای پیپر