آئی جی کی تبدیلی اور میرٹ
11 ستمبر 2020 (23:33) 2020-09-11

آئی جی اور سی سی پی او کی محاذ آرائی کا تنازع شعیب دستگیر کی تبدیلی سے انجام کو پہنچ گیا ہے لیکن تجزیہ کار کار پوچھتے ہیں جب دو برسوں میں پانچ آئی جی تبدیل ہوں گے تو پولیس کے مورال میں خاک اضافہ ہو گا؟ بلکہ امن و امان کی صورتحال تو مزید ابتر ہوگی آئے دن کی تبدیلیاں کسی کی پالیسی کے اچھے یا بُرے اثرات جانچنے کے لیے مناسب نہیں قبل ازیں عمران خان نے ایک سے زائد بار شعیب دستگیر کودیانتدارکہا اور تعریفیں کی لیکن اچانک ہی نظروں سے گرا دیا عثمان بزدار کہتے ہیں چیف ایگزیکٹو تقرر کرے اور کوئی کہہ دے اِس کو نہ لگائیں ممکن نہیںجبکہ شہباز گل تو پانچ سو تبدیلیاں کرنے کا عزم ظاہر کرتے پھر رہے ہیں کیا یہ بے بصیرتی ہے یا نا تجربہ کاری ؟موسم بدلنے میں بھی وقت بدلتا ہے لیکن حکمرانوں کے خیالات تو ہر پل بدل رہے ہیں اور پھرجب خرابی کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے تو لوگ ہنس دیتے ہیں یادرہے خرابی سمجھنے کے لیے اپنے فیصلوں کے اثرات پر غور کیے بنا ممکن نہیں۔

پنجاب پولیس دوبرس سے مسلسل تجربہ گاہ ہے اصلاحات سے پولیس کی کارکردگی بڑھانے اور سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کا عزم گزرے دوبرسوں کے دوران عملی طور پر کہیں نظر نہیں آیا اصلاحات سے کارکردگی کیا بہتر ہوتی اُلٹاسیاسی مداخلت بڑھ گئی ہے صوبے کوتجربہ گاہ بنانے کا نتیجہ ہے کہ دوبرس کے دوران پانچ آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں کیا موجودہ حکومت کوہر آئی جی غلط ملتا ہے یا کسی اور جگہ بھی غلطی ہے اندھا اعتماد چھوڑ کر جائزہ لینے کی ضرورت ہے جب مصلحتوں اور مفادات کوترجیح دی جائے تو بہتری نہیں آتی۔

پولیس میں ڈسپلن کی پاسداری ہوتی ہے مگر پہلی باربڑے پیمانے پراختلافات کا اظہار ہوا ہے طارق مسعودیاسین جیسے نیک نام شخص نے ایک جونیئر کے ماتحت کام کرنے سے انکار کیا ہے سینئر پولیس افسروں نے سی سی پی او لاہور کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر آئی جی کے خلاف بدزبانی کرنے پر ڈسپلنری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 تبادلوں کے دوران جونیئر کو سینئر پر ترجیح دینے اور شفافیت کوخاطر میں نہ لانے کو نہ تو اصلاحات کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی مداخلت سے پاک کہاجا سکتا ہے بلکہ پہلے اگر مداخلت بہت کم یا نچلی سطح پر تھی تو تبدیلی سرکار سے اتنا فرق آیا ہے کہ یہ مداخلت نچلی سطح سے اعلٰی عہدوں تک ہونے لگی ہے پولیس میں ایک نئی روایت شروع ہو ئی ہے جس کی روشنی میں جونیئر آفیسر تعلقات کی بنا پر نہ صرف تعیناتیاں کراتے ہیں بلکہ اپنے محکمے کے سربراہ کے خلاف ہتک آمیز باتیں کرنے سے بھی نہیں گھبراتے سابق آئی جی کوسیکرٹری نارکوٹکس مقر ر کرنے سے حکومت نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ جو بھی تعمیل کی بجائے عزت اورفرائضِ منصبی کو ترجیح دے گا وہ عہدے پر نہیں رہ سکتا ۔

عمر شیخ بطور سی سی پی او لاہور تعینات ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بطور آر پی اوڈیرہ غازی خان وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کے ہر حکم کی بجاآوری کی اور قریبی تعلقات بنائے کارکردگی یا کسی اور خوبی کا کوئی عمل دخل نہیں اسی دوران انھوں نے وزیرِ اعظم کے دفتر کے کچھ بااختیار افراد سے گرمجوشی پر مبنی تعلقات بنائے ممکن ہے وہ ملازمت سے سبکدوش ہونے سے قبل کسی اہم عہدے پر تعیناتی کا خیال ہو یا ترقی نہ ملنے کا بدلہ لینا ہو جوبھی ہو انھوں نے لابنگ کی چیف منسٹر کی تائید پہلے ہی حاصل تھی جلد ہی وزیرِ اعظم آفس سے تھپکی لے لی کیونکہ اُنھیں اِس بات پر غصہ تھا کہ شعیب دستگیر نے گریڈ اکیس میں ترقی نہ ہونے دی اب وہ اچھی تعیناتی لے کر کسی نہ کسی طریقہ سے آئی جی کو نیچا دکھاسکتے تھے یہ مقصد لاہور میں تعیناتی کے سوا پورا نہیں ہو سکتا تھا اسی نُکتے کو زہن میں رکھتے ہوئے زوردار مُہم چلائی اور سی سی پی اولاہورلگ گئے ذہن میں موجود آئی جی کے خلاف نفرت کا اظہار تبادلے کے احکامات لیتے ہی یوں کیا ہے کہ 

چھ فٹ تین انچ کے بندے کی گردن پر پائوں رکھ کر تبادلہ کرایا ہے وہ یہاں تک ہی نہ رُکے ایک میٹنگ کے دوران ہدایت کر دی کہ کوئی بھی آئی جی کے احکامات تسلیم نہ کرے اور نہ ہی پیش ہو اِس حوالے سے شعیب دستگیر اور عمر شیخ کی تلخی بھی ہوئی لیکن کِلہ مضبوط ہونے کی بنا پر آئی جی کی ناراضگی کو عمر شیخ نے کوئی اہمیت نہ دی بے اختیار محسوس کرتے ہوئے شعیب دستگیر نے وزیرِ اعظم سے وقت لے کر نئی تعیناتی پر تحفظات بتانے کا قصد کیا مگر وقت نہ مل سکا یہ سُبکی انھیں بہت محسوس ہوئی انھوں نے عثمان بزدار سے وقت لیے بغیروردی جاکر ملاقات کی اور نئی تعیناتی اعتماد میں لیے بنا کرنے پر شکوہ کیا اور بتایا کہ جب ماتحت کُھلے عام تنقید کریں اور آئی جی کے 

احکامات کی تعمیل سے بازرہنے کی ہدایات دیں گے تو سسٹم کیسے چلے گا جس کاجواب یہ ملا کہ آپ سسٹم نہیں چلا سکتے تو گھر چلے جائیں وہ جو پہلے ہی دفتر جانا چھوڑچکے تھے بددل ہو کر عہدے سے الگ ہونے کی خواہش ظاہر کر دی ۔

عمر شیخ تند خو ہوہیں اُن پر بدعنوانی کے کافی الزامات ہیں کے پی کے میں تعیناتی کے دوران منشیات فروشوں سے قریبی مراسم رکھنے کی بات بھی کی جاتی ہے انھی وجوہات کی بنا پر ترقی نہ پا سکے مگر ترقی نہ ہونے کا ذمہ دار شعیب دستگیر کو سمجھتے ہیں اسی لیے تنقید کے نشتر چلاتے انھیں سزا دینے کے آرزو مند ہیں اِس خواہش کا اظہار وہ ہر جگہ کرتے رہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مزیددوسالہ مدتِ ملازمت رہ گئی ہے اور اِتنی قلیل مدت میں ترقی کا امکان نہیںمگر کچھ عرصہ کسی اچھے عہدے پر گزار لیں توشاید ریٹائرمنٹ کے بعد کا عرصہ باآسانی گزارنے کے لوازمات اکٹھا کر سکتے ہیں یہ سوچ انھیں سی سی پی او کا منصب حاصل کرنے کی طرف لائی ہے ڈیرہ غازی خاں تعیناتی سے استوار ہونے والے تعلقات سے فائدہ اُٹھانے کے بعداب مستقبل کی پلاننگ میں مصروف ہیں مگر پولیس میں باربار تبدیلیاں بددلی کا باعث بن رہی ہیں اور لوگ تو یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ کیونکہ پنجاب میں کے بارے میں تمام فیصلے وزیرِ اعظم کرتے ہیں اسی لیے اچھے بُرے نتائج کے بھی وہی ذمہ دار ہیں کاش وہ جس پر اعتبار کرتے ہیں اتنی جلدی اُکتانے کی خوپر قابو پالیں تو پنجاب پولیس کیا ہر سطح پر مثبت تبدیلی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے آئی جی کی تبدیلی کو ہی ذہن میں رکھ لیں انعام غنی لاکھ دیانتدار سہی آپ کو کہیںمیرٹ نام کی کوئی شے نظر آتی ہے؟۔


ای پیپر