’’خواتین کیلئے سفری ہدایات نامہ ‘‘
11 ستمبر 2020 (23:32) 2020-09-11

کیا کچھ لوگ جیتے جی بھی مر چکے ہوتے ہیں؟ اس سے قبل شاید اس ایک جملے کا مطلب مجھ پر اس وضاحت کے ساتھ واضح نہ ہو سکتا لیکن لاہور کی ایک سڑک پر خاتون کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی فعل نے مجھ پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ وہ خاتون ٗ اس سانحہ کے چشم دید گواہ اس کے کمسن بچے اور فرانس میں بیٹھا ہوا اس کا خاوند یقیناً مر چکے ہیںاور ہاں واقعی لوگ زندہ ہوتے ہیں ٗ سانس لے رہے ہوتے ہیں لیکن مردوں سے بدتر۔

متاثرہ خاتون جو اس حادثہ سے پہلے زندہ تھی وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ فرانس میں خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی ۔زندگی کی ہر آسائش میسر تھی لیکن میاں بیوی کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ وہ ایک غیر مسلم ملک میں زندگی گزار رہے ہیںا ور ان کے بچوں کی پرورش ایک غیر اسلامی ماحول میں ہو رہی ہے ۔فیصلہ ہوا کہ بچوں کو پاکستان میں اسلامی ماحول میں بڑے ہونے کا موقع فراہم کرنا ان کا بنیادی حق اور والدین کا فرض ہے۔ خاتون ٗ بچوں کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو گئیں۔ لاہور کے ایک پوش علاقے میں گھر لیا گیاشوہر بھی فرانس سے پاکستان شفٹ ہونے کی کوششیں کرنے لگا۔ لیکن اس رات نے سب کچھ تبدیل کردیا۔ یہ سانحہ سب کو ازبر ہو چکا ہے کہ کیسے خاتون کو کار میں سے شیشے توڑ کر نکالا گیا اور کیسے وہ غیر انسانی فعل ہوا لیکن جب پولیس حکام موقع پر پہنچے تو خاتون چیخ چیخ کر التجا کر رہی تھی کہ ’’مجھے گولی مار دو‘‘۔ 

اس سانحہ کے تناظر میں سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے ایک لطیف نقطے کی طرف اشارہ کیا جسے اگر حقیقت کی عینک لگا کر دیکھا جائے توسنہری سیاہی سے لکھنے کے قابل ہے اور ہمارے معاشرے کی صورتحال کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ عمر شیخ صاحب نے فرمایا کہ ’’یہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرنوالہ جانے کیلئے نکلی ہیں۔میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے ٗ اکیلی ڈرائیور ہے ٗ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو آپ سیدھا روڈ لو۔ جی ٹی روڈ جہاں سے آبادی ہے اور گھر چلی جائو۔ اگر آپ اس طرف سے نکلی ہو تو کم از کم اپنا پٹرول چیک کر لوکیونکہ ہائی وے پر پٹرول پمپ نہیں ہوتے‘‘۔

یعنی حکومت کے لاء اینڈ آرڈرکا کوئی مسئلہ ہی نہیں بنیادی مسئلہ یہ ہوا کہ خاتون کیوں گھر سے رات گئے سفر پر نکلیں ٗ کیوں جی ٹی روڈ کا راستہ نہ اختیار کیا اور سب سے بڑھ کر کیوں پٹرول کی گیج چیک نہ کی‘‘۔ یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ابتدائی تفتیش میں پولیس نے عوام کے گوش گزار کئے۔ اس خبر کے میڈیا پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اور خود ہمارے ٹی وی چینل میں لوگوں نے ہمیشہ کی طرح کیسی کیسی سازشی تھیوریاں پیش کیں ان فضولیات پر بات کئے بغیر یہ سوال بہت ضروری ہے کہ کیا کار میں پٹرول ختم ہونا اتنی بڑی غلطی ہے کہ جس کی سزا آپ کو کمسن بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ 

عمر شیخ صاحب کے بیان نے ہمارے ملک میں عوام کیلئے سکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کی حقیقت کی قلعی کھول دی ہے۔ یہ ایک طرح سے تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سڑکوں پر نکلنے والے کوئی حالات نہیں اور سواری اپنے اور سامان کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہے۔خاتون رات گئے گھر سے کیوں نکلی ٗ نکلی تو سنسان روڈ کی طرف کیوں گئی ٗ سنسان روڈ کی طرف گئی تو پٹرول کیوں چیک نہیں کیا ۔ حکومت کو فوری طور پر پاکستان کی خواتین کیلئے ایک ’’ سفری ہدایت نامہ ‘‘ جاری کرنا چاہیے ۔ ہم حکومت کی مدد کیلئے اس میں تھوڑا سا اضافہ کرتے ہیں اور مزید کچھ امکانات شامل کر لیتے ہیں کہ ان خاتون نے کیا گھر سے نکلنے سے پہلے سیلف ڈیفنس کا کورس کر رکھا تھا؟ کیا وہ اس طرح کے کسی بھی واقعے کیلئے تیار تھیں اور انہوں نے کوئی ’’پیپر سپرے ‘‘۔ کسی پُڑی میں مرچیں ڈال کر رکھی تھیں یا اگر متمول گھرانے سے تھیں تو کوئی پستول وغیرہ ساتھ رکھی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کیا انہوں نے اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا کہ وہ اس راستے سے گزریں گی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رہا جائے۔ پاکستان میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اس واقعہ کو مزید وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو سکولوں ٗ دفاتر ٗ مدارس ٗ گلیوں ٗ قبرستانوں میں دن اور رات کی تفریق کئے بغیر کمسن بچوں ٗ خواتین ٗ نوکرانیوں ٗہم جنس پرستوں ٗ مخنسوں ٗبزرگ خواتین اور مُردوں تک سے ریپ کی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں ۔کوئی بھی ایسا پاکستانی جو چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر انسانی فعل ٗ حادثے سے بچا رہے ٗ اسے چاہیے کہ اگر وہ کسی یورپی ملک میں بیٹھا سکون کی زندگی گزار رہا ہے تو بالکل بھی یہ کوشش نہ کرے کہ پاکستان میں آکر اسلامی ماحول میں اپنے بچوں کی پرورش کا خواب دیکھے۔ ایسا کرنے کی صورت میں کہیں وہی بچے جن کی آپ اسلامی ملک میں پرورش کرنا چاہتے ہیں آپ کاگینگ ریپ ہوتے نہ دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ہیں ٗ وہیں رہیں اور اچھے وقت کا انتظار کریں۔ لیکن جو اس حکومت میں ٗ اس انتظامیہ کے رحم و کرم پر اس ملک میں موجود ہیں وہ سب سے پہلے  یہ تسلیم کرلیں کہ اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔اکیلے گھر سے نہ نکلیں ٗ کسی بھی سنسان سڑک پر نہ جائیں۔ باامر مجبوری گھر سے نکلنا پڑے تو بچوں کو ساتھ تو لیکر بالکل بھی نہیں نکلنا ۔ گاڑی کا ایکسٹرا ٹائر ساتھ رکھنا ہے ٗ پٹرول کا ٹینک فل رکھنا ہے ٗہمیشہ رش والی سڑک پر سفر کرنا ہے ٗرات کو کبھی سفر نہیں کرنا ۔کیونکہ اگر آپ کے ساتھ کوئی سانحہ ہو گیا تو سارا قصور آپ کا ہی نکلے گا۔


ای پیپر