ان ربی قریب مجیب
11 ستمبر 2020 (22:19) 2020-09-11

یہ آیت جب بھی پڑھو تو ایک عجیب سا اطمینان ہوتا ہے،ایسا لگتا ہے کہ واقعی اللہ ہمارے ساتھ ہے، قریب بھی ہے اور دعائوں کو سنتا ہے جب وہ خود آپ کی شہ رگ کے قریب ہے آپ کی دعائوں کو سن رہا ہے تو پھر دربدر بھٹکنے کی ضرورت کیا ہے؟

 اللہ کی محبت تو اتنی شاندار ہے کہ سارا دن ہمیں نافرمانیاں کرتے دیکھتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی اپنے فرشتوں کے ہاتھ ہمارا رزق بھیج دیتا ہے۔

ارے تم کیا جانو محبت کیا ہے؟

تم دنیا کے پیچھے بھاگتے ہو وہ دنیا میں تمہیں ہر رشتے کی حقیقت دکھاتا ہے اورپھرپوچھتا ہے۔

 بتا اے ابن آدم اب میرے سوا کون ہے تیرا؟

ایک وہی ہے جو بن مانگے دیتا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں لیتا لیکن دنیا کے ہر تعلق کی ہمیں کوئی نہ کوئی قیمت چکانی پڑتی ہے مگر یہ خالق اور مخلوق کا رشتہ اتنا خالص ہے کہ جس میں کوئی غرض نہیں۔ وہ تو تھوڑے سے عمل پر بھی راضی ہوجاتا ہے بس نیت خالص ہو! 

وہ بخشنے پرآئے تو ایک جانور کے ساتھ حسن سلوک پر بھی بخش دیتا ہے اورچاہے توریاکاری کی وجہ سے شہید،عالم اور فاضل کو رسوا کردے۔

 بس نیتوں کے معاملے میں اللہ بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔ اس معاملے میں کوئی سودے بازی نہیںبس  خالص عمل! 

مجھے تو آج تک ایک بات سمجھ نہیں آئے کہ جب وہ ہمیں بے حساب دیتا ہے اور خود پوچھتا ہے کہ تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے تو پھر ہم گن گن کرتسبیح کیوں پڑھتے ہیں؟

تسبیح بوہتی پھیر نہ باہو

آس تسبیح دا کیہ پڑھنا ہو

جیہڑا اپنے نال حساب نئیں کردا

اودے نال حساب کیہ کرنا ہو

(حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ)

وہ خالق کائنات خود اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن اس وقت جب بندہ بھی اس سے محبت کرے اور اللہ سے محبت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اس کی عبادت کرلی جائے نماز کو ایک فرض سمجھ کر 

ادا کیا،کچھ ذکر کرلیا  اور بس پھر ختم، نہیں ایسے نہیں اللہ کی محبت تو کچھ اور ہی تقاضا کرتی ہے۔ 

اورہمارا مسئلہ ہے کہ  ہم نماز تو اللہ کے لیے پڑھتے ہیں لیکن منتیں کہیں اور جا جا کر مانتے ہیں، اجر کی امید اللہ سے لگائی ہوتی ہے اور دیگیں کسی اور کے نام کی دے رہے ہوتے ہیں ِ 

سورہ انعام آیت  ۱۶۲ کا ترجمہ ہے۔

کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ 

جب اس کی محبت تقاضا کرتی ہے کہ بس اسی کی عبادت کی جائے اسی سے ہر چیز مانگی جائے تو پھر ہماری بدنیتی تو دیکھیں سجدے خدا کے اور نذرانے اوروں کے ، پھر یہ مراسم عبودیت میں دوسروں کو کیوں شریک کیا جارہا ہے! 

یہ تو پھر خالص محبت نہ ہوئی جب جینا مرنا اس کے نام  تو پھر سب مرادیں منتیں بھی تو اسی کے نام سے ہونی چاہئیں نا! 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام حاجتیں اپنے پروردگار سے مانگے یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ سے مانگو۔ (ترمذی)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالیٰ کہتاہے:میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتاہوں اگر کوئی میری طرف چل کر آتاہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتاہوں''۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ایک سو چھیاسی کا ترجمہ دیکھیں! 

 اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو (کہدیں کہ) میں ( ان سے) قریب ہوں، دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں، پس انہیں بھی چاہیے کہ وہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہ راست پر رہیں۔

اگر کوئی سچا مومن ہے تواس آیت سے ہی اس کے  دل میں اس وقت سکون و اطمینان آجاتا ہے، جب اسے یہ پتہ چلتا ہے کہ جس رب کو وہ پکارتا ہے اور مشکلات میں جس ذات کی طرف وہ رجوع کرتا ہے  وہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے  

کیا خوبصورت تعلق ہے اورکتنا عظیم کریم اور رحیم بادشاہ ہے جہاں اپنی درخواست دینے کے لیے کسی سیکرٹری سے نہیں ملنا پڑتا لمبی لمبی لائنوں میں نہیں لگنا پڑتا کسی کو رشوت نہیں دینی پڑتی اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے وقت کی قید نہیں ہوتی، جب آپ کے پاس وقت ہو اس کو یاد کریں اور وہ آپ کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ 

یہ وہ بارگاہ ہے جہاں اپنی دعا مسئلہ پریشانی بیان کرنے کے لیے مادی وسائل کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ہررنگ نسل کا بندہ امیر و فقیر بلا تفریق اپنی آواز بآسانی پہنچا سکتا ہے اور پھراپنا مسئلہ اس کے سپرد کرکے اطمینان پالیتا ہے کیونکہ وہ خود کہتاہے میری یاد دلوں کو اطمینان بخشتی ہے، یاد رکھیں جو اللہ کے سامنے رولے پھر اسے دنیا کے سامنے رونا نہیں پڑتا وہ مسبب الاسباب کہتا ہے کہ جس نے بس مجھ پر توکل کیا تو بس پھرمیں اس کے لیے کافی ہوجاتا ہوں۔کیا خوب کہا کسی نے ، جب معاملہ اللہ کے سپرد کردیا کرو تو معاملے اور اللہ کے درمیان سے نکل جایا کرو،کس قدر مٹھاس ہے ان الفاظ میں کس قدر طاقتور بنادیتی ہے اللہ کی محبت ایک ایک کمزور انسان کو! 

وہ تو خود یہ فرما رہا ہے! میں پکارنے والوں کی پکار پر لبیک کہتا ہوں اور ان کی دعا قبول کرتا ہوں۔

تو پھر آئیے اللہ سے اپنے رشتے کو خالص بنائیں اس سے انسیت پیدا کریں یقین مانیں وہ آپ کو آخرت میں تو اجرعظیم دے گا ہی ساتھ دنیا مفت میں آپ کی ہوجائے گی۔ اس کی محبت میں کھوکر دیکھیں،آپ کو جنت کی بجائے بس اسـ  نور السموٰٰت والارض  کو دیکھنے کی آرزو ہوگی!

اسی جذبے کو علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے!  

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی

کوئی بات صبرآزما چاہتا ہوں

یہ جنّت مبارک رہے زاہدوں کو

کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں


ای پیپر