تربیت
11 ستمبر 2020 (22:18) 2020-09-11

’اللہ میری اولاد کو فرمابردار بنائے‘  یہ وہ دعا ء ہے جو تمام والدین اپنی اولاد کے لئے کرتے ہیں۔اس دعاء کے ساتھ ساتھ والدین اولاد کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اگر ہم مذکورہ اصطلاحات کی گہرائی میں جائیں تو کیااِن کو ایک زمرے میں لا سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ کیوں کہ تعلیم اور تربیت، دونوں کا حصول مختلف انداز میں ہوتا ہے۔ 

عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تعلیم کا مطلب صرف سند ہے۔ اس اصطلاح میں اور اقسام شامل نہیں ہو سکتیں۔ حالاں کہ انسان کی تعلیم حاصل کرنے کی خوبی ہی اسے ممتاز حیثیت عطاء کرتی ہے۔بچوں کو اپنے مستقبل کی حفاظت کے لئے زیور ِ تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ والدین اپنی بساط سے بڑھ کر بہتر سے بہتر درسگاہ کا چنائو کرتے ہیں، تاکہ بچہ اچھے ماحول میںپرورش حاصل کر سکے۔ چاہتے نہ چاہتے ہم اعلی تعلیم یافتہ اشخاص پر رشک بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ معاملات میں اعلی تعلیم یافتہ افراد میں شعوری قوت، ادبی، فکری ، تہذیبی اور خاص طور پر سماجی میل جول کا فقدان دیکھنے میں آتا ہے۔ہونا تو یہ چاہئیے کہ صاحب ِاسناد شخص دانا طرز کا صاحب الرائے ہو، ہر خصوصیت سے مالامال ہو لیکن عملی زندگی میں ایسا تجربہ نہیں ہو پاتا۔اس کی وجہ بچوں کی تربیت میں کمی بیشی ہے، جس کا والدین کو ادراک نہیں ہوتا۔

تعلیم، سند سے وابستہ اسطلاحات، طریقہ کار اور منظر کشی کا ڈھنگ تو سکھا دیتی ہے مگر تربیت کا جز شامل نہ ہو تو انسان ذہنی نشونما کے لحاظ سے ادھورا رہ جاتا ہے۔بولنے کا ڈھنگ، چال ڈھال، ادبی رویہ، تنقیدی و تعمیری فکر خصوصاََ سماجی میل جول کو وسعت دینا انسان کی شخصیت کو بہتر بناتا ہے۔دور ِ جدید میںسماجی رابطوں کے ذرائع نے تکنیکی اعتبار سے میل جول قائم رکھا ہے لیکن اس طرح بہتر سماجی تعلقات نہیں استوار ہو پاتے ، جو پہلے دیکھنے میں آتے تھے۔ گزشتہ ادوار میں سماجی رابطہ براہ راست ملاقات سے بڑھایا جاتا تھا، ادبی و سماجی مجالس میں شرکت سے تعلقات اور صلاحیتوں کو  بڑھایا جاتا تھا، اب تمام سرگرمیاں آن لائن صورت میں ڈھل چکی ہیں۔ اس عمل سے تعلقات ِ عامہ کو نئی صورت ملی ہے لیکن انسان کے سیکھنے کا عمل متاثر ہوا ہے۔ 

تعلیم و تربیت میں کیا فرق ہے؟کیا ہمارے نصاب میں تربیت کا عنصر موجود ہے؟سمیت ان گنت سوالات موجود ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اس ضمن میں اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ پنجاب شعبہ علوم ابلاغیات ڈاکٹر عابدہ اشرف سے ہونے والی گفتگو نے صورت ِ حال سمجھنے میں بہت آسانی پیدا کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایجوکیشن وسیع معنی رکھنے والی اصطلاح ہے۔ جب اس اصطلاح کو اپنے تخیل میں لاتے ہیںتو اسے اسناد کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے۔ صنعتی انقلاب رونما ہوا توتعلیم کا مقصد آمدن تھا، یعنی تعلیم وہ، جو کمانے میں مدد گار ثابت ہو۔ اس تناظر میں تربیت تو کہیں نہیں پائی جاتی۔ڈاکٹر عابدہ نے مزید کہا کہ تربیت اسلامی نقظہ نظر سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہماری پرانی تعلیم (مکتب اور مساجد سے حاصل ہونے والی) میں اہل صفا کا تصور پڑھائی میں ہی تربیت کا درس دیتا ہے۔ہم جو عمل کرتے ہیںاس کی بنیاد پر نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ ان بنیادی باتوں میں کردار کی تعمیر ہے۔مثلاََ سچائی ، ایمان داری، وعدہ ایفا جیسے عملی اجزامثبت کردار کی تعمیر کا باعث بنتے ہیں۔ 

سماجی روابط بڑھانے کے نکتے پر انھوں نے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک غلط فہمی دور ہونی چاہئیے کہ بچے جتناسماجی میل جول بڑھائیں گے، بہتر ہو جائیں گے۔اگر بچوں کی تربیت ہی نہ ہو رہی ہو، تو چاہے جتنا مرضی سماجی رابطہ وسیع کر لیں،بچوں کی مثبت نشونما نہیں ہوپائے گی۔ڈاکٹر عابدہ نے اپنی آن لائن کلاسز کے دوران ہونے والے مشاہدے کا حوالہ دیا،کہا کہ بچوںکی تربیت میں حد درجہ کمی ہے۔وہ ایسے کہ جب بچوں کو کچھ پڑھایا جا رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے دوستوں کے موقف پر، کلاس میں شمولیت پر یا آپس میں گفتگو کے دوران جیسے فقرے کستے ہیں، وہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔

بچوں کی ابتدائی تربیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں ہوتی ہے۔لیکن جب کمانے والا فرد اچھاسمجھا جائے ، علاوہ ازیں بچے کو تربیت کے لئے وقت بھی درکارہو ،تب مائیں بوجہ مجبوری نوکری کے لئے کمر بستہ ہوتی ہیں۔ مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بچہ گھر میں لوگوں کے رویوںکو دیکھ کر سیکھتا ہے، نہ کہ صرف زبان سے کہے گئے حکم پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

تعلیم میں تربیت کی جانچ کرتے ہوئے ڈکٹر عابدہ نے فرمایا کہ موجودہ نظام تعلیم میں صرف آئی کیو (ذہانت جانچنے کا پیمانہ) پر غور کیاجا رہا ہے، اے کیو(مطابقت پذیری جانچنے کا پیمانہ) پر نہیں۔ تعلیمی ماہرین کہتے ہیں کہ صرف آئی کیو پیدا کرنے سے انسان کامیاب نہیں ہوتا۔ ای کیو (جذباتی ذہانت)بھی اہم ہے۔ یعنی اگر غصہ آئے تو بچے کو کیسے برتائو کرنا چاہئیے۔یہ رویے کتب نہیں سکھائیں گی، یہ ای کیو آپ کو سکھائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ ایس ای (سماجی واقفیت کا کوٹہ) سماج میں ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے برتائوکرنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے نصاب میںیہ اجزا شامل نہیں ہیں۔ اب اس حوالے سے بہت سا تحقیقاتی مواد سامنے آ رہا ہے ،جس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ہر طرح کے حالات کے لئے تیار رکھنا چاہئیے۔مثلاََ جب بچوں کو ہر طرح کی آسائش دی جائے، اچھا سکول، پسند کا کھانا،بعد ازاں اگر کوئی حادثہ ان کی زندگی میں رونما ہوجائے تو وہ یاتو خودکشی کی جانب جائے گا، منشیات کا عادی بنے گا یا کوئی اور غلط عمل کرے گا۔اس لئے مندرجہ بالا اصطلاحات بھی نصاب کے ذریعے تعلیم میں شامل ہونی چاہئیے۔ 

بچوں کی ابتدائی ذہانت کے حوالے سے ڈاکٹر عابدہ نے ’تابولا راسا ‘ نامی ایک تھیوری کا حوالہ دیا۔ جس میں نومولود کو خالی تختی (بلینک سلیٹ)سے تشبیہ گئی ہے کہ بچہ پیدائشی نہیں عاقل ہوتا، دنیا میں آکر سیکھتا ہے۔انھوں نے ماہرین ِ نفسیات کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا کہ بچے کی دس سال کی عمر تک پوری شخصیت بن چکی ہوتی ہے۔ای کیواور اور ایس کیو بن چکا ہوتا ہے۔ آئی کیو تعمیری مراحل میں ہوتا ہے۔

انھوں نے مستقبل کو روشن قرار دیا اور کہا اگر آپ اس عمر میں ایسے اہم معاملے کا احساس کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ چراغ بجھا نہیں۔ جاپان سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو مناسب مشغلوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن ہم ان اخلاقی عوامل پر عمل نہیں کر رہے۔ لیکن انسانی فطرت کا دستورہے کہ جب کوئی اچھا کام کرتا ہے ، اس کی کیفیت مثبت تاثر دینے لگتی ہے ۔ اس لئے انسان خود مشینی عوامل سے دور جائے گا اور مثبت رجحانات پر عمل پیرا ہو گا۔ 

ڈاکٹر عابدہ اشرف کے مفصل تجزیے نے تمام ذہنی انقباض دور کردیے۔والدین کو اس ضمن میں مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کی توجہ بچوں کی تربیت میں تعمیری ، فکری، ادبی، ثقافتی اور سماجی اجزا شامل کر سکتی ہے اور ملک کو تربیت یافتہ پود عطاء کر سکتی ہے۔


ای پیپر