رِنگ روڈ کے ڈاکو کون تھے؟
11 ستمبر 2020 2020-09-11

ایک خاتون رات کے وقت اپنے بچوں کے ساتھ گوجرانوالہ جانے کے لئے نکلی، گاڑی نکالی اور غلطی سے پٹرول کی مقدارپر توجہ نہ دے سکی، رنگ روڈ سے سیالکوٹ موٹروے کی طرف جارہی تھی کہ پٹرول ختم ہو گیا۔ پڑھی لکھی، بااعتماد، سمجھ دار خاتون تھی،اس نے پہلے اپنے کسی رشتے دار کو فون کیا تو اس نے مشورہ دیا کہ وہ موٹروے پولیس سے رابطہ کرے، اس نے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن پر فون کیا تو دو جواب ملے کہ اس وقت کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود نہیں اور دوسرے گوجر پورہ کا علاقہ ابھی تک کسی کی بیٹ ہی نہیں۔اسی دوران موٹر وے کے ساتھ کاٹ دی گئی باڑ کو کوکراس کرتے ہوئے دو مرد وہاں آئے جن کی عمریں تیس پینتیس برس کے لگ بھگ تھیں، رنگ سانولے اور جسم بھاری تھے، ان کے پاس پسٹل اورڈنڈے تھے۔ انہوں نے ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ توڑا،عورت کو بچوں کے ساتھ گاڑی سے نکالا اور گھسیٹ کر نیچے غیر آباد جگہ پر لے گئے،بچوں کے سامنے باری باری زنا بالجبر کیا، ایک لاکھ روپے نقد، کریڈٹ کارڈ اور پہنا ہوا سونا وغیرہ لوٹا۔ اسی دوران وہا ں سے گزرنے والی ایک گاڑی سے ون فائیو پر کال کی گئی اور ڈولفن پولیس وہاں پہنچی تو گاڑی کھڑی تھی مگر وہ خالی تھی ۔جب مذکورہ عورت کا رشتے داراپنے ایک ساتھی کے ساتھ صبح چار بجے وہاں پہنچا تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، اس پر خون کے دھبے تھے اور وہ خاتون کرول کے جنگل سے اپنے بچوں کے ہمراہ ایک کچے راستے سے واپس آ رہی تھی۔

پولیس نے درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کے آفیشیل ذرائع کے مطابق بیس کے قریب ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مجرموں کو دیسی اورو لائتی دونوں طریقوں سے ڈھونڈ رہی ہیں، ایک درجن سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے اور ان کے ڈی این اے کروائے جا رہے ہیں تاکہ اصل مجرموں تک پہنچا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری رنگ روڈز اور موٹرویز اتنی ہی غیر محفوظ ہیں جتنی کوئی بھی دوسری سڑک ہوسکتی ہے تو پھر یہاں بھاری بھرکم ٹول ٹیکس کیوں لئے جا رہے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے سیاستدانوں نے جب اقتدار لینا ہوتا ہے تو وہ دریائے فرات کے کنارے کتا بھی پیاس سے مرجائے تو اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہمیں روایات سناتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا کہ ایک سونے کے زیورات سے لدی ایک عورت ایک شہر سے دوسرے شہر چلی جاتی تھی مگر اسے کوئی آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتا تھا مگر جب ان کی اپنی حکومت قائم ہوتی ہے تو شہر کے اندر بھی عورت محفوظ نہیں رہتی۔

مجھے میرے صحافی دوستوں نے بتایا کہ گوجر پورہ کے علاقے میں موٹر وے کا یہ علاقہ ابھی تک کسی کی ذمے داری ہی نہیں ہے یعنی جب آپ رنگ روڈ سے نکل کر سیالکوٹ موٹروے کی طرف جاتے ہیں تو وہ علاقہ غیر بن جاتا ہے کیونکہ رنگ روڈز اور موٹرویز کے لئے الگ پولیس موجود ہے اور یہ مقامی پولیس کے دائرہ کارمیں نہیں آتیں۔ لاہور سیالکوٹ موٹر وے گذشتہ دور میں ہی مکمل ہو گئی تھی مگر اس کے ساودرن لوپ پر ایک سے دو پل بننے رہ گئے تھے جو موجودہ حکمرانوں نے تقریبا ڈیڑھ برس کی مدت میں بنائے ، انہیں کم و بیش چھ ماہ پہلے اسے ٹریفک کے لئے کھولا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مراد سعید جن کی کارکردگی کی مثالیں دی جاتی ہیں اور اپوزیشن جس کارکردگی کا ہمیشہ ذومعنی انداز میں ذکر کرتی ہے ان کی وزارت نے چھ ماہ سے موٹروے کے اس حصے کو کسی بھی ادارے کے حوالے نہیں کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب کی بھی ذمے داری آتی ہے کیونکہ امن و امان پراونشل سبجیکٹ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکی لہذا نہ اس علاقے میں پٹرولنگ ہوتی ہے اور نہ ہی سپیڈ گنز کے ساتھ تیزرفتاری وغیرہ چیک کرنے کا کوئی نظام ہے لیکن جب آپ رنگ روڈ پر سفر کرتے ہیں تو آپ سے اس کے پیسے ضرور وصول کر لئے جاتے ہیں اور موجودہ حکومت کے دور میں یہ ٹال کی یہ رقم دو مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے۔یہاں کسی قسم کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ارد گرد کے علاقوں کے جرائم پیشہ افراد کی چاندی ہے اور میرے ایک سرکاری ادارے سے وابستہ دوست کے مطابق اسی مقام پر دو ماہ پہلے ایک نرس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ڈکیتی کی وارداتیں عام ہیں اور دوسری طرف ناکوں پر ڈرامے بازیاں اور دیہاڑیاں جاری ہیں۔

میں نے ایف آئی آر کی عبارت کو بغور پڑھا ہے اور اس میں انتہائی چالاکی کے ساتھ حکومت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، موٹروے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا ذکر بہت چالاکی سے نکال دیا گیا ہے۔میرے خیال میں ا س ایف آئی آر میں ان دو درندوں سے پہلے ان ذمہ داران کو نامزد کرنا چاہئے جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ موٹروے پرتحفظ اور مدد کو یقینی بناتے۔ آپ ساودرن بائی پاس سے سمبڑیال اس مقام تک چلے جائیں جہاں یہ موٹر وے نکلتی ہے تو وہاں تک عجب سنسانی اور ویرانی نظر آتی ہے بلکہ نالائقی کا یہ عالم ہے کہ آپ کو وزیرآباد اور سمبڑیال کی طرف سے موٹر وے پر آنے کے لئے یوٹرن ہی نہیںملتا جس پر بیشتر گاڑیاں ون وے کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ یہ بات اس لئے غیر متعلقہ نہیں ہے کہ یہ ان کی نااہلی اور نالائقی کی دلیل ہے۔ دوسرے ایف آئی آڑ میں ان ذمہ داران کو نامزد ہونا چاہئے جن کے ذمے موٹروے کے گرد فینسنگ کو برقرار رکھنا ہے اور وہ جہاں بھی ٹوٹی ہوئی ہو جس سے افراد یامویشی موٹروے پر آ سکتے ہوں تو وہاں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔میں پوری اطرح اس تھیوری کا قائل ہوں کہ کوئی بھی حادثہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے بہت دیر سے اسباب بنائے جاتے ہیں ا ور یہاں اسباب بنانے والوں میں وہ ادارے شامل ہیں جن کی ذمے داری تحفظ فراہم کرنا ہے۔میری نظر میں وہ ان بدمعاشوں،ڈاکووں اور زانیوں کے سہولت کار تھے اور انہیں بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کرنا چاہئے ۔

میں سو فیصد یقین رکھتا ہوں کہ مجرم پکڑے جائیں گے مگر کیا وہ سزا بھی پائیں گے اس بارے کچھ یقین نہیں رکھتا کہ میں نے یہاں برس ہا برس سے ماڈل ٹاون کا کیس چلتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے یہاں سانحہ ساہیوال کے مجرموں کوباعزت بری ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے اسی ملک میں شاہ زیب قتل کیس کا نتیجہ بھی دیکھا ہے اور ایک بااثر شخص کی ویڈیو بھی دیکھی ہے جس نے اپنی گاڑی تلے پولیس کے سب انسپکٹر کو کچل کے ہلاک کر دیا تھا اور پھر وہ تھوڑے ہی دن ہوئے عدم ثبوت کی بنیاد پر باعزت بری ہوگیا لہذا میں اس نظام پر کوئی یقین کوئی اعتماد نہیں رکھتا کہ یہ نظام بہت مشکل، بہت گنجلک ہے، میں نے اس نظام کو ہمیشہ کمزوروں، غریبوں اور حکومتی مخالفین سے جیلیں بھرتے ہوئے دیکھا ہے لہذا مجھے لاہور کے ایک سابق ڈی آئی جی آپریشنز یاد آ گئے جو میرے پروگرام میں آئے تھے اور مقدمہ ایک بچی سے زیادتی اور قتل کا تھا جسے گنگارام ہسپتال کے سامنے پھینک دیا گیا تھا۔ وہ پولیس افسر اس واقعے بہت دلگرفتہ تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم نے مجرم پکڑ بھی لیا تو اسے سزا نہیں ہو سکے گی۔ میں نے اس شہر میں امن اور انصاف کے نظام کے لئے عشروں سے جدوجہد کی ہے مگر میں نے انہیں تب بھی کہا تھا کہ اگر آپ درست مجرم پکڑ لیں، آپ کے پاس مکمل ثبوت ہوں اور اس کے بعد اگر وہ مجرم کسی پولیس مقابلے میں مر جائے تو میں اس پر نہ پروگرام کروں گا نہ اور ہی کالم لکھوں گا۔ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ جب یہ مجرم پکڑے جائیں اور کسی پولیس مقابلے میں کتے کی موت مارے جائیں تو میں خاموش رہوں۔ میرا رب میری نیت جانتا ہے کہ میں جعلی پولیس مقابلوں کے حق میں ہرگز نہیں ہوں مگر اب میں تھک گیا ہوں، میں اس نظام میں بہتری کے خوابوں پر جبر، ظلم اور درندگی کا یہ کاروبار کب تک دیکھوں، کب تک برداشت کروں؟


ای پیپر