سی سی پی او لاہور عمر شیخ ....غلطی کی گنجائش نہیں
11 ستمبر 2020 2020-09-11

سیاست میں عروج وزوال فطری عمل ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کا الزام ہے کہ مسلم لیگ ن کے بیوروکریٹس انہیں ناکام کرنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ساتھ کام کرنے والے بیورو کریٹس خواہ فواد حسن فواد،احد چیمہ ڈاکٹر توقیر ودیگر کرپشن مقدمات کا سامنا کرنے کے باوجود سرخرو ہورہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے باوجود سابق چیف سیکرٹری پنجاب اکبر درانی،اعظم سلیمان ناصر دارنی سمیت پانچ آئی جیز ودیگر خوارو رسوا ہوئے ہیں کیا وجہ ہے کہ بیوروکریٹس مسلم لیگ ن کو اعلی پر فارمنس کے ساتھ سرو کرتے ہیں تو تحریک انصاف کو کیوں مشکلات پیش آرہی ہیں ان عوامل کا موازنہ کرلیتے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کو دوبرس گزرنے کے بعد بھی انتظامی بحران کا سامنا ہے خاص طور پر پنجاب میں ناقص طرز حکمرانی نے تحریک انصاف کو بری طرح ایکسپوز کیا ہے لیکن اسکی وجہ بھی تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو ہی قرار دینا ہوگا کیو نکہ تحریک انصاف کے قائد وزیر اعظم عمران خان جو بات کرتے ہیں اس پر قائم نہیں رہتے خاص طور پر اگر ان کے رویے کی بات کی جائے تو وہ پل میں تو لہ پل میں ماشہ والا معاملہ لگتا ہے ۔تحریک انصاف میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جو تبدیلی آئی ہے اسی پر غور کرنا عمران خان کیلئے بہتر ہو گا کیو نکہ پاکستان میں تبدیلی لانے کے خواب کی تعبیر اسی میں پنہاں ہے ۔عمران خان کی بطور اپوزیشن کی سیاسی جدوجہد میں انکے شانہ بشانہ نظر آنے والے ساتھی اب حکومت میں آنے کے بعد نظر نہیں آرہے ہیں اور جنہوں نے دو برس کے دور اقتدار میں اگر کہیں جلوہ دکھایا بھی تھا تو وہ کسی نہ کسی الزام کی وجہ سے اب کہیں نظر نہیں آرہے بلکہ گوشہ نشین ہو چکے ہیں ۔تحریک انصاف کے بانی کارکنان اکبر ایس بابر فارن فنڈنگ کیس کو لیکر اپوزیشن کو تقویت پہنچارہے ہیں تو جسٹس ر وجیہہ الدین بھی گوشہ نشینی اختیار کیے ہوئے ہیں اسی طرح پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں آنے والی فردوس عاشق اعوان وفاق و صو بائی حکومتوں کو بہترین انداز میں ڈیفنڈ کرنے کے باوجود روتی ہوئی گئیں اور گوشہ نشین ہوگئی ہیں۔مسلم لیگ ن کے دور میں رانا مقبول نامی پولیس افسر ایس پی کے عہدے سے شریف برادران کے ہم خیال ہوئے اسکے بعد جب میاں نواز شریف 1999 میں سابق صدر پرویز مشرف سے نبردآزما تھے تو رانا مقبول آئی جی سندھ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے انہوں نے پرویز مشرف کے طیارے کو کراچی اترنے سے روکنے کیلئے بھرپور مزاحمت کی اس وجہ سے انہیں مختلف آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اگرآج دیکھا جائے تو وہ مسلم لیگ نواز کے سینیٹر ہیں اسی طرح وہ کبھی مشیر کے عہدے پررہے یا سرکاری طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے انہوں نے شریف برادران سے اپنے تعلق کو نبھایا اور اسکے عوض وہ مراعات بھی لیتے رہے فواد حسن فواد دس سالوں کے دوران متعدد بلنڈرز کرنے کے باوجودشریف برادران کی گڈ بک میں چہیتے بن کررہے مراعات لیتے رہے بااثر پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کے عہدے کو انجوائے کیا ۔احد چیمہ کا بھی اسی طرح کا معاملہ ہے ڈاکٹر توقیر کاظمی ماڈل ٹاو¿ن واقعے کے بعد نہ صرف فارن پوسٹینگ پر بھجوا دیے گئے بلکہ نواز شریف اپنے دورے کے دوران انکے گھر جاکر ان سے اظہار یکجہتی بھی کرنے گئے میجر ر اعظم سلیمان کو شہباز شریف نے گریڈ اکیس میں ترقی دلوا کر ان کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سیٹ تخلیق کی سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود شہباز شریف کے ساتھ بطور ڈپٹی سیکرٹری ٹو سی ایم کام کرتے رہے وہاں سے ہی وہ چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے تک پہنچے یہاں تک کے نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں یوسف رضا گیلانی سے درخواست کرکے پنجاب کیلئے جاوید محمود کی دوبارہ خدمات حاصل کیں لیکن ایک کار حادثے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن شریف برادران نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انہیں صو بائی محتسب پنجاب کے عہدے پر تعینات کردیا۔جاوید اسلم بھی شریف برادران کے قریب رہے ہیں ان کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب ،چیرمین پی اینڈ ڈی وپرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کے اہم عہدے انجوائے کرائے نواز شریف کے اوائل حکومت میں سعید مہندی اے کے شیر دل سے لیکر انکی اولادیں اور داماد بھی اہم عہدوں کو انجوائے کرتے رہے قارئین ایک طویل فہرست ہے ایسے افسران کی جنہوں نے شریف برادران کے ساتھ احسن انداز میں خدمات سرانجام دیں اور شریف برادران نے ان کے بلنڈرز پر انہیں آئندہ کیلئے محتاط رہنے کی تنبیہہ کے ساتھ سرو کروایا ان کو پروٹیکٹ کیا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کے تیئس ماہ میں انتظامی نااہلی اور بیورو کریسی کے عدم اعتماد کا یہ عالم رہا کہ پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے ناصر درانی شکستہ دلی کے ساتھ واپس پویلین لوٹے سابق چیف سیکرٹری اکبر درانی کو پنجاب سے جانا پڑا اعظم سلیمان بھی واپس ہوئے صورت حال یہ ہے کہ جن کو وزیر اعظم عمران خان نے خود عہدے پر رہنے کی یقین دہانی کرائی وہ ہی اہم عہدوں سے واپس لوٹے ۔تئیس ماہ کے دوران ایف بی آر کے پانچ چیر مین بورڈ آف انویسمنٹ کے پانچ چیئر مین چار سیکرٹری کامرس پانچ آئی جی پنجاب چھ سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب تین وفاقی سیکرٹری خزانہ تین ایس ای سی پی کے چیر مین سمیت سینکڑوں تبادلے ہوئے ہیں حالیہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا تبادلہ تحریک انصاف کی انتظامی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی ساکھ اس حوالے سے بری طرح مجروح ہوئی ہے اور بیوروکریسی جو پہلے ہی ڈری سہمی پرفارم کررہی تھی اسطرح کے اقدامات سے بد دل ہو چکی ہے اور ڈلیور نہیں کرپارہی ہے ۔تحریک انصاف کا الزام اپنی جگہ لیکن بیوروکریٹس ریاست کا وفادار ہونے کے باوجود اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اسلئے ان کو کسی کا زاتی ملازم قرار دینا درست نہیں۔اگر تحریک انصاف کی بات کریں تو عمر سرفرازچیمہ ،فوزیہ قصوری ،عون چوہدری،شیریں مزاری،ابرارالحق ، فواد چوہدری،عامر لیاقت حسین ،افتخار درانی سمیت دیگر بہت سے ساتھی اب عمران کی نہ صرف گڈ بک میں نہیں رہے بلکہ شدید سائیڈ لائن ہو چکے ہیں سابق ڈی جی ایل ڈی اے معظم سابق ڈی سی صالحہ سعید اپنی گفتگو میں بنی گالہ میں اپنی اہمیت کا ذکر بہت زور و شور سے کرتے تھے سنا ہے کہ انھیں ابھی تک پوسٹنگ نہیں ملی یہ تمام تمہید میں نے بھولے بھالے نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے لئے باندھی ہے کہ ان سے پہلے اس گلستان میں بہت سے عمران خان سے قربت کے دعویدار آئے اور چلے گئے لحاضہ انکے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں انکا ہر جائی بہت بے پروا ہے چاہے اپ کینڈین شہریت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپ بیگ کندھے پر رکھ کر پردیس سدھار جانا ہی کیوں نہ چاہتے ہیں۔


ای پیپر