ماضی کے نامور خطیب اور مجالس عزا
11 ستمبر 2019 (23:41) 2019-09-11

مقبول خان:

ماہ محرم کا آغاز ہوتے ہی امام بارگاہوں اور پبلک مقامات پر فرش عزا بچھا دیا جاتا ہے۔ سیاہ علم لہرا دئے جاتے ہیں، اور عشرہ محرم کی مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو دس محرم کو شام غریباں کی مجلس پر ختم ہوتا ہے۔ ان مجالس میں ذاکرین اور عالم دین، سید الشہداءؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کے فضائل اور مصائب بیان کرنے کے ساتھ واقعہ کربلا اور فلسفہ شہادت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں، اس وقت کراچی کے سیکڑوں چھوٹے بڑے عزاخانوں سمیت پبلک مقامات پر بھی مجالس عزا منعقد کی جا رہی ہیں۔ کراچی کے نشتر پارک میں پاک محرم ایسو سی ایشن کے تحت مرکزی مجلس عزا منعقد کی جا رہی ہے، خالق دینا ہال میں بزم حسینی کے تحت مجلس عزا مختلف عنوانات کے تحت منعقد کی جاتی ہیں، اسی طرح اسلامک ریسرچ سینٹر میں بھی مجلس عزا کا انعقاد کیا یاتا ہے، جبکہ شہر کی اہم امام بارگاہوں بشمول محفل شاہ خراسان، امام بارگاہ شاہ نجف، مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد، امام بارگاہ بوتراب عزیز آباد، اور دیگر امام بارگاہوں میں بھی مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے، اس کے ساتھ مختلف علاقوں سے چھوٹے چھوٹے جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ یکم محرم سے ہی شروع ہوجاتا ہے، جبکہ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے ہر سال 8،9 اور10محرم کو مرکزی جلوس نشتر پارک سے بر آمد ہوتے ہیں، اور مقررہ راستوں سے گزر کر امام بارگاہ حسینہ انجمن ایرانیان کھارادر پر ختم ہوتے ہیں، شہر بھر میں ہزاروں چھوٹی بڑی سبیلیں شہداءکربلا کی یاد میں بنائی جاتی ہیں۔ جہاںٹھنڈا پانی اور شربت پلایا جاتا ہے۔ ماہ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی نوحوں کی صدائیں، گلیوں اور سڑکوں پر گونجنے لگتی ہیں۔ لوگ اپنی گاڑیوں، بسوں، ویگنوں، ٹیکسیوں اور رکشوں میں نوحوں اور سلاموں کے کیسٹ لگاتے ہیں۔ نوحوں کی صدائیں، نہ صرف عشرہ محرم تک فضاو¿ں میں گونجتی رہتی ہیں بلکہ یہ سلسلہ اس کے بعد چہلم امام حسین ؓ تک بھی جاری رہتا ہے۔

کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک ماہ محرم میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے، اور ماضی میں کئی نامور علماءاور خطباءو ذاکرین ان مجالس سے خطاب کرتے رہے ہیں، ماضی میں جو علماءعشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کیا کرتے تھے، وہ اپنی تقریر میں اتحاد بین المسلمین کا پیغام دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ فقہ جعفریہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اہلسنت کا عقیدہ رکھنے والوں میں بھی ذوق اور شوق سے سنے جاتے تھے۔ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور اہلسنت کے لوگوں میں مشہور علماءکی بڑی تعداد اب اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو چکی ہے، ان میں علامہ رشید ترابی سر فہرست ہیں۔ مجالس عزا سے خطاب کرنے والے جو نامور شیعہ علماءاب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں، ان میں علامہ رشید ترابی کے علاوہ، علامہ ابن حسن جارچوی، علامہ نصیرالاجتہادی، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ عقیل ترابی، علامہ نسیم عباس رضوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ اظہر حسین زہدی، علامہ عبدالحکیم ترابی وغیرہ قابل ذکر ہیں، ہم یہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے نامور شیعہ علماءکا ذکر کرتے ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں، لیکن ان کے آڈیو اور وڈیو کیسٹس کی صورت میں تقاریر اب بھی لوگوں کی بڑی تعداد سنتی ہے، اس حوالے سے ہم سب سے پہلے علامہ رشید ترابی کا ذکر کرتے ہیں۔

علامہ رشید ترابی

قیام پاکستان کے بعد سے اپنی حیات کے اختتام تک علامہ رشید ترابی عشرہ محرم کی مجالس میں سب سے زیادہ سنے جانے والے خطیب تھے۔ ان کی مجالس میں ہزاروں سنی بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ وہ عنوان کے تحت مجالس عزا کے بانی تھے۔ علامہ رشید ترابی عشرہ محرم کے دوران ایک دن میں چار مختلف مقامات پر مجالس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔ اور ہر مجلس کا موضوع علیحدہ ہوا کرتا تھا۔ عشرہ محرم میں پہلی مجلس شام کو کراچی کے نشتر پارک میں ہوا کرتی تھی، دوسری مجلس سے رات ساڑھے 8 بجے خالقدینا ہال میں خطاب کیا کرتے تھے، تیسری مجلس رات گیارہ بجے بڑا امام باڑہ کھارادر اور چوتھی مجلس امام بارگاہ حسینیہ انجمن ایرانیان میں رات بارہ بجے خطاب کیا کرتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں علامہ رشید ترابی نے صرف نشتر پارک کی مجلس سے خطاب کیا تھا۔ انہیںپاکستان میں ریڈیو پاکستان سے پہلی مجلس شام غریباں اور پاکستان ٹیلی ویژن سے بھی پہلی مجلس شام غریباں پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے، جب تک علامہ رشید ترابی حیات رہے، ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے شام غریباں کی مجالس وہ ہی پڑھتے رہے ہیں، علامہ رشید ترابی نہ صرف مجالس عزا پڑھتے تھے، بلکہ وہ ایک مذہبی رہنما، ممتاز شاعر، سیاست، حالات حاضرہ اور تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی تھے۔ جولائی 1906ءمیں حیدرآباد دکن کے ممتاز مذہبی و علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے علامہ رشید ترابی نے شیعہ کالج لکھنﺅ¿ سے انٹر، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سے بی اے اور فلسفہ میں ایم اے کی سند الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہیںاردو کے ساتھ، انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ اپنی تقاریر میں موقعہ محل کے اعتبار سے اردو کے ساتھ فارسی اور عربی کے اشعار بھی پڑھا کرتے تھے۔ علامہ صاحب کو میر انیس، علامہ اقبال سمیت دیگر کلاسیکل شعراءکے ہزاروں اشعار یاد تھے، جن کا وہ اپنی تقاریر میں برمحل استعمال کیا کرتے تھے۔ علامہ رشید ترابی اپنی 65 سالہ زندگی کے 57 سال تک مجالس اور مذہبی محافل میں خطابت کے جوہر دکھاتے رہے، ان کی مجالس کی تعداد پانچ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کی مجالس کی تقاریر بھی عنوانات کے تحت کتابی شکل میں بھی موجود ہیں۔ علامہ رشید ترابی نامور خطیب ، بلند پایہ شاعر ہی نہیں تھے، انہیں سیاست سے بھی گہری دلچسپی تھی، ان کا سیاسی کیریئر نواب بہادر یار جنگ کے معاون کے طور پر شروع ہوا تھا، قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ رشید ترابی کو ریاستی مسلم لیگ کا سکریٹری اطلاعات بھی مقرر کیا تھا۔ 1949ءعلامہ رشید ترابی ہجرت کر کے پاکستان آگئے، پاکستان آنے کے بعد پہلے محرم کے عشرے میں امام بارگاہ کھارادر، امام بارگاہ مارٹن روڈ اور خالقدینا ہال میں مجالس عزا سے خطاب کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نشتر پارک کی مجالس سے بھی خطاب کرنا شروع کر دیا۔1971ءمیں انہیں دل کا دورہ پڑا، اور ان کے معالجین نے انہیں مجالس عزا سے خطاب کرنے منع کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ 1973ءتک نشتر پارک کی مجلس عزا سے خطاب کرتے رہے۔ ان کی مجالس کے آڈیو، اور ویڈیو کیسٹ اور ان کی تقاریر پر مشتمل کتابیں بلاشبہ ایک علمی خزانہ ہیں، جن سے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد استفادہ کر رہے ہیں۔

علامہ ابن حسن جارچوی

علامہ ابن حسن جارچوی بھی پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں محرم میں کراچی کی امام بارگاہوں اور پبلک مقامات پر مجالس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مجالس میں شیعہ افراد کے علاوہ اہلسنت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی شرکت کیا کرتی تھی۔ وہ مارچ 1904ءمیں بھارت کے شہر جارچہ کے علاقے بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے، اور وفات جولائی 1975ءمیں پائی۔ انہوں نے خطابت کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے میں بھی نمایا ں کردار ادا کیا تھا۔ تحریک پاکستان میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے والے علامہ ابن حسن جارچوی نے پاکستان اور بھارت کے متعدد تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دئے، سیاست کے شعبہ میں انہیں بانی پاکستان قائد اعظم کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ بھی ملا، وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے اسلامک انسٹیٹیوٹ ریسرچ سینٹر کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے لئے انہوں نے زمین بھی حاصل کر لی تھی۔ مگر عمر نے وفا نہیں کی، وہ اسی انسٹیٹیوٹ کے احاطے میں آسودہ خاک ہیں۔ علامہ نے متعدد کتابیں بھی یادگار چھوڑی ہیں، جن میں فلسفہ آل محمد، شہید نینوا، جدید ذاکری، علیؓ کا طرز جہاں بانی، مقدمہ فلسفہ آل محمدشامل ہیں، جبکہ انہوں نے زوال رومة الکبریٰ کا اردو میں ترجمہ کیا تھا، جو شائع کیا جا چکا ہے۔

علامہ نصیر الاجتہادی

علامہ نصیر الاجتہادی بھی اپنی خطابت کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت کے حامل تھے۔ 1931ءمیں غیر منقسم برصغیر کے شہر لکھنو¿ میں پیدا ہونے والے علامہ نصیر الاجتہادی نے مذہبی تعلیم ناظمیہ کالج لکھنو¿ سے حاصل کی تھی، انہیں الہ آباد یونیورسٹی سے بھی فارغ تحصیل ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستان کے شہر لاہور کے تعلیمی اداروںسے بھی متعدد مذہبی کورسز کئے، مجتہد کے تمام نصابوں کی تکمیل کے بعد انہوں نے آیت اللہ عظمیٰ سید کاظم اور آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی سے اجازہ حاصل کیا، انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی سے تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اور بہت جلد ہی شعلہ بیان مقرر کہلانے لگے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مجالس عزا سے بھی خطاب کرنا شروع کر دیا، اور جلد ہی ملک گیر شہرت حاصل کر لی، علامہ نصیر الاجتہادی کو اردو سمیت عربی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ اپنی تقاریر میں اردو اور فارسی اشعار کا برمحل استعمال کرتے تھے۔ علامہ نصیر الاجتہادی 1971 ءمیں کراچی تشریف لائے، اور لیاقت آباد کے مرزی امام بارگاہ میں عشرہ محرم کی مجلس پڑھا کرتے تھے، جہاں پر بے پناہ افراد شریک ہوتے تھے۔ علامہ رشید ترابی کے انتقال کے بعد علامہ نصیر الاجتہادی پاکستان ٹیلیویژن سے مجلس شام گریباں پڑھا کرتے تھے۔

علامہ عرفان حیدر عابدی

ماہ محرم میں علامہ عرفان حیدر عابدی کی مجالس پر بھی سوگواران حسین کا رش دیدنی ہوتا تھا، ان کے مصائب پڑھنے کا انداز بھی منفرد تھا۔ علامہ عرفان حیدر عابدی 1950ءمیں سندھ کے تاریخی شہر خیرپور کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد گرامی کا نام سید امیر عباس عابدی ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم خیرپور میں ہی حاصل کی، جبکہ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی تھی، جبکہ مذہبی تعلیم مولانا سید قیصر عباس سے حاصل کی تھی، زمانہ طالب علمی ہی میں انہوں فن تقریر میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ وہ ایام عزا کے دوران مختلف امام بارگاہوں میں مجالس عزا پڑھا کرتے تھے۔ انہیں ماہ محرم میں کئی سال تک پاکستان ٹیلیویژن پر مجالس عزا پڑھنے کا اعزاز حاصل رہا ہے، علامہ عرفان حیدر عابدی اپنی مجالس میں اکثر یہ جملہ کہا کرتے تھے کہ مولا سلامت رکھے یا علی مدد کہنے والوں کو، بعد ازاں یہ جملہ شیعہ فرقے کے لوگوں کےلئے ٹریڈ مارک کی حیثیت اختیار کر گیا۔ علامہ عرفان حیدر عابدی صرف پاکستان کے مومنین کے پسندیدہ خطیب نہیں تھے بلکہ ان کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجود تھی۔ علامہ عرفان حیدر عابدی جنوری 1998ءمیں اپنی اہلیہ کے ساتھ خیر پور سے بذریعہ کار کراچی واپس آرہے تھے، کہ راستے میں ایک ٹریفک حادثے میں دونوں شدید زخمی ہو گئے، انہیں فوری طور پر کراچی کے ایک ہسپتال پہنچایا گیا، لیکن علامہ صاحب کی اہلیہ ہسپتال پہنچنے قبل ہی جاں بحق ہو چکی تھیں، جبکہ علامہ صاحب بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ علامہ عرفان حیدر کے انتقال سے شیعہ حضرات بلاشبہ ایک مایہ ناز خطیب سے محروم ہو گئے۔ ان کے دنیائے فانی سے چلے جانے کے بعد خطابت کی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا۔

علامہ عباس کمیلی

علامہ عباس کمیلی کا شمار بھی فقہ جعفریہ کے ممتاز دینی عالموں اور خطیبوں میں کیا جاتا ہے، وہ نہ صرف ممتاز خطیب تھے بلکہ اتحاد بین المسلمین کے بڑے داعی بھی تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے دوران مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہ مذہبی علوم کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھتے تھے۔ وہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر 6 سال تک ایوان بالا سینیٹ کے رکن بھی رہے ہیں، علامہ عباس کمیلی فلسطین فاو¿نڈیشن کے سرپرست اراکین میں بھی شامل تھے، وہ فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی توانا آواز تھے۔ اتحاد بین المسلمین اور کشمیر و فلسطین کے مظلوموں کے حقوق کی دادرسی کے لئے انہوں نے گراںقدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ امام بارگاہ محفل شاہ خراسان، عزا خانہ زہرا اور دیگر امام بارگاہوں سمیت نشتر پارک اور دیگر پبلک مقامات پر بھی محرم کے عشروں کی مجالس عزا سے خطاب کرتے تھے۔ ان کی خطاب کی گئی مجالس میں بھی ہزاروں افراد شرکت کیا کرتے تھے۔ عشرہ محرم کے دوران مختلف نجی ٹی وی چینلوں سے ان کی مجالس ٹیلی کاسٹ ہوتی رہی ہیں۔ ان کا انتقال طویل علالت کے بعد گزشتہ سال ہوا تھا، وہ شوگر، بلڈ پریشر اور عارضہ قلب کے مریض تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ذکر حسین کی مجالس سے آخری وقت تک خطاب کرتے رہے۔

علامہ رشید ترابی، علامہ ابن حسن جارچوی، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ نصیر الاجتہادی، اور علامہ عباس کمیلی جیسے مایہ ناز خطیب آج ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کی تقاریر انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر دستیاب ہیں ، جنہیں اب بھی عقیدت واحترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر