ایران اور امریکہ کی جنگی ہٹ دھرمی
11 ستمبر 2019 (23:33) 2019-09-11

امتیاز کاظم

ایران امریکہ کشیدگی کسی نہ کسی حوالے سے کم و بیش ہر وقت عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کئے رہتی ہے، دنوں ممالک اپنے اپنے مو¿قف پر ڈٹے رہتے ہیں، امریکہ ایران پر لگی معاشی پابندیاں ختم کئے بغیر اپنی بات منوانا چاہتا ہے جب کہ ایران کا مو¿قف ہے کہ پہلے پابندیاں ختم کی جائیں، تب ایران جوہری ڈیل کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے۔ تین ستمبر کو ایرانی صدر حسن روحانی نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، مذاکرات کے لیے بہت سی آفرز ہیں، لیکن ایران کا جواب ہمیشہ نہیں میں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لے تو ایران جوہری ڈیل کے فریقین کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے۔جوہری پروگرام کے حوالے سے اگر ایران امریکہ تعلقات و کشیدگی کا مختصر جائزہ لیا جائے، تو اس میں بڑے دلچسپ اور اونچ نیچ پر مبنی موڑ آتے ہیں۔

فیڈریکا موگرینی اور محمد جواد ظریف (ایرانی وزیر خارجہ) نے جب دو اپریل 2015ءکو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں مذاکرات پر ایک نتیجے پر پہنچے تو ورلڈ پاورز P5+1 اور یورپی یونین نے اس نتیجہ خیز مذاکرات پر شکر ادا کیا اور پھر معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے حالانکہ یہ مسئلہ نومبر 2013ءمیں ہونے والے جنیوا مذاکرات میں ناکام ہو چکا تھا۔ بہرحال عالمی سطح پر اس کامیاب معاہدے کو اطمینان بخش قرار دیا گیا لیکن 8 مئی 2019ءکو ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبردار ہو کر دُنیا کو پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور دُنیا بے سکونی کی کیفیت میں سے گزر رہی ہے۔ حالات زیادہ کشیدہ اس وقت ہوئے جب ایران نے امریکہ کا 123ملین ڈالرز کا جاسوس ڈرون مار گرایا۔ 20 جون کو 11بج کر 35 منٹ پر ایران کے صوبہ ”ہرمزگان“ کے علاقے ”کوہ مبارک“ میں گرائے گئے اس امریکی ڈرون کا ماڈل ”آرکیو4 گلوبل ہاک“ تھا۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ ایران پر حملے کی پوزیشن میں آچکا تھا۔ جنگیں کسی غلط فہمی یا کسی واقعہ سے ہی چھڑتی ہیں اور ایران کے ساتھ جنگ کا ایک موقع ٹل چکا ہے تاہم اب ایران بھی خود کو 2015ءوالے معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا حالانکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین یعنی P5+1 اور یورپی یونین اب بھی ایران کی حامی ہے جس میں صرف امریکہ شامل نہیں ہے۔ P5+1 یعنی روس، فرانس، برطانیہ، چین، جرمنی اور یورپی یونین کے علاوہ امریکہ ایران کو معاہدے کی پاسداری کے لیے کہہ رہے ہیں جبکہ امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کی اوٹ میں بہت کچھ کر رہا ہے اور جنگی تیاریوں میں مصروف نظر آتا ہے کیونکہ وسط اگست میں امریکہ نے اپنے دفاعی مشن کے تحت امریکی جوہری طیارہ بردار بحری بیڑہ ”ہیری ٹرومین“ (امریکی صدر کے نام پر رکھا گیا بحری بیڑے کا نام) عالمی سمندری حدود کی طرف روانہ کر دیا تھا اور اہم بات یہ ہے کہ اس کا کپتان ایک ایرانی نژاد امریکی ”کافون حکیم زادہ“ ہے جو کہ 30 سال قبل امریکی نیوی میں شامل ہوا تھا۔ امریکہ پچھلے دو ماہ سے ایران کے ساتھ چھیڑچھاڑ میں مصروف ہے اور اپنی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کی اوٹ میں کچھ کر گزرنے کا سوچ رہا ہے مثلاً امریکہ نے ایرانی آئل سُپرٹنکر کو قبضہ میں لینے کے وارنٹ جاری کر دیئے۔ ”گریس ون“ آئل ٹینکر 21 ملین بیرل آئل لے کر 4 جولائی کو شام کی طرف روانہ ہوا تو غیرقانونی سفر کے الزام میں پکڑا گیا لیکن اگلے ہی دن جبرالٹر/ جبل الطارق (یہ نام مشہور تاریخی جرنیل طارق بن زیاد سے منسوب ہے) کی عدالت نے ایرانی آئل ٹینکر کو چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا جسے امریکہ نے ماننے سے انکار کر دیا اور جواز یہ پیش کیا کہ وہ اقتصادی ایمرجنسی ایکٹ، بینک فراڈ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی قوانین کی بنیاد پر گریس ون کو قبضہ میں لے سکتا ہے۔ کشیدگی میں اضافہ اُس وقت بھی ہوا جب آبنائے ہرمز کے نزدیک خلیج عمان میں دو آئل ٹینکرز پر حملہ ہوا تو جون میں بھی حالات نازک رُخ اختیار کر گئے تھے۔ ”پلائی ماتھ سٹی“ کے قریب بحری مقاصد کے لیے ”ٹاسک فورس 19“ کی تشکیل، مائیک پومپیو کا یہ بیان کہ امریکہ خطے میں تیل کی سپلائی کو آزادانہ نقل وحرکت اور رسد یقینی بنائے گا۔ امریکہ کی طرف سے ایرانی قوم کو دہشت گرد قرار دینا، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا عالمی برادری پر زور دینا کہ ایران پر پابندیاں مزید سخت کی جائیں اور ایسی ہی بہت سی باتیں کشیدگی کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔ یہ بات امریکہ نے اُس وقت کیوں نہ سوچی، جب 1950ءمیں امریکہ نے خود ایران کا ایٹمی پروگرام شروع کرایا تھا اور اس کا نام ”ایٹم برائے امن پروگرام“ رکھا تھا۔ بات اس سے بھی آگے جاتی ہے کیونکہ 1957ءمیں عملی طور پر امریکہ نے نہ صرف ایٹمی پروگرام شروع کرایا بلکہ نیوکلیئر ری ایکٹر بھی خود مہیا کیا اور1967ءمیں ”ویپن گریڈ افزودہ یورینیم“ بھی خود مہیا کی ۔ یہ سارا کیا دھرا تو خود امریکہ کا ہی ہے، اب وہ رو پیٹ کیوں رہا ہے اور ہائے ہائے کی دہائی پوری دُنیا میں مچا رہا ہے۔ انقلاب ایران 1979ءسے پہلے تک سب کچھ ٹھیک تھا، یہ بعد میں سب کچھ خراب کیسے ہو گیا۔ دراصل اب کوئی شاہ ایران نہیں رہا جس کا امریکہ آمد پر ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا تھا۔ وہی ایران جسے خود امریکہ افزودہ یورینیم فراہم کرتا تھا اب اُسی ایران پر ایٹمی پابندیاں لگا کر اُسے کیا جا رہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ شرائط میں پابندیوں کے ضمن میں، یہ بات شامل تھی کہ ایران کو 202 کلوگرام یورینیم افزودگی کی اجازت ہو گی جبکہ اب ایران 241 کلوگرام یورینیم افزودہ کر رہا ہے اور عالمی توانائی ایجنسی (IAEA) کہہ رہی ہے کہ 2015ءمیں طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر عمل کیا جائے۔ بات صرف یورینیم افزودگی پر پابندی سے ختم نہیں ہوتی بلکہ معاشی پابندیوں اور بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ ایران کی تیل کی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے جو کہ ایران کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران سے تیل لے جانے والے آئل ٹینکرز کو روکا جا رہا ہے اور ایران مزاحمت کے طور پر آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان کے بحری راستے سے تجارت کو روکنے کی دھمکی دے رہا ہے جبکہ اسرائیل بھی ایران کی زد پر ہے۔ ایرانی تیل کی بندش سے سعودی سٹیٹس کا تیل عالمی مارکیٹ میں جگہ وسیع کر رہا ہے جس کا براہ راست فائدہ امریکہ کو بھی ہو رہا ہے اور وہ اُسی فائدے کے حصول کے لیے ایران سے تعلقات خراب کر رہا ہے جبکہ برطانیہ بھی کسی دور میں ایرانی تیل سے دولت کماتا رہا ہے۔ سلطنت برطانیہ نے بیسیویں صدی کے آغاز میں ایران میں تیل کی ایک بڑی کمپنی ”اینگلوایرانین آئل کمپنی (AIOC) قائم کی تھی جس میں 85 فیصد حصص برطانیہ کے تھے اور 15فیصد ایران کے تھے۔ ایران میں اُس وقت محمد مصدق کی حکومت تھی۔ ”آبادان بحران“ (1951-1953ئ) کے دوران ہی مصدق گورنمنٹ نے AIOC کو قومیانے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور آخرکار اس کمپنی کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا جس کے نتیجے میں برطانیہ نے ایرانی تیل کی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اُس وقت امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے ”آئزن ہاور“ صدر تھے۔ آئزن ہاور کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے ”ہیری ٹرومین“ صدر بنے تو 1953ءمیں امریکہ اور برطانیہ نے مل کر مصدق گورنمنٹ کے خلاف آپریشن کیا جس میں امریکی CIA اور برطانوی MI-16 نے حصہ لیا اور اس آپریشن کو ”آپریشن ایجیکس“ کا نام دیا گیا۔ پہلی کوشش ناکام گئی اور شاہ مصدق اٹلی فرار ہو گیا جب کہ دوسری بار کوشش میں مصدق کو گرفتار کر لیاگیا۔ امریکہ کا اتحاد بنا کر جنگ لڑنا، معاشی پانبدیاں عائد کرنا اور مختلف آپریشن کرنا بڑا پُرانا مشغلہ ہے بلکہ تاریخی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ 1099ءکی صلیبی جنگوں کے آغاز میں بھی یہی سب کچھ ہوا تھا اور اب بھی امریکہ کشکول لے کر اتحادیوں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اتحادیوں کے بغیر کچھ بھی نہیں، یقینا امریکہ کچھ بھی نہیں اگر مسلم ممالک متحد ہوں۔

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے اسرائیل کو نظرانداز نہیں کر سکتا جب کہ اسرائیل کسی بھی ایسی پیش رفت کے حق میں ہرگز نہیں ہو سکتا جس میں ایران کا فائدہ مضمر ہو۔ دوسری جانب ایران بھی اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ سے پوری طرح آگا ہے اور اپنے دفاعی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال 2 ستمبر کی ہے۔ جب ایران کے فضائی دفاع کے قومی دن کے موقع پرنوجوان ایرانی ماہرین کے تیار کردہ جدید ترین سمارٹ ڈرون طیارے، کیان کی رونمائی کی گئی۔ ایران کی ایئر ڈیفنس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر علی رضا صبا حی فرد نے مذکورہ ڈرون طیارے کی رونمائی کی ۔ بریگیڈیئر جنرل صباحی فرد نے اس موقع پر کہا کہ کیان کی شمولیت سے ڈرون بیسڈ ایئر ڈیفنس کی توانائی میں اضافہ ہو گا، انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ ڈرون طیارہ بری فوج کے کمانڈر کی خصوصی ہدایت پر ملک کے نوجوان سائنسدانوں کی مشارکت سے ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر ڈیفنس فورس کے جوانوں نے صرف ایک سال کی مدت میں یہ منصوبہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے جو قابل ستائشں ہے۔کیان نامی جدید ترین ڈرون طیارہ حملے اور دفاع دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، یہ طیارہ برق رفتاری کے ساتھ اہداف کی شناخت کی اور انہیں نشانہ بنانے کی توانائی رکھتا ہے اور مسلسل کئی گھنٹوں تک کافی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔

٭


ای پیپر