قائداعظمؒ کی علالت اور سفرآخرت
11 ستمبر 2019 (23:28) 2019-09-11

عبدالستار چودھری

پاکستان 14اگست 1947ءکو دُنیا کے نقشے پر اُبھرا تو اس کے ساتھ ہی بحران شروع ہو گئے۔ چند دنوں بعد ہی ہندوستان نے کشمیر کی جنگ چھیڑ دی اور 11ستمبر 1948ءکو مسلمانان ہند کے عظیم قائد اور محسن قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا انتقال ہو گیا۔ بابائے قوم کی سیاسی زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے ایک تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قائداعظمؒ نے اس خطے کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کیلئے جو انقلابی جدوجہد کی وہ دیدہ بینا کے ساتھ ہزار بار مطالعے کی متقاضی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

قارئین کرام! ہم یہاں حضرت قائداعظمؒ کے سفر آخرت کی مختصر تفصیل بیان کرتے ہیں۔ سرشیخ عبدالقادر جو ہمہ جہت شخصیت اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، قائداعظمؒ کے ساتھی اور دوست کی حیثیت سے ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔ زندگی پائی تو ایسی کہ ایک نیم مردہ قوم کے قالب میں نئی روح پھونک دی اور موت دیکھی تو ایسی کہ ہر لحاظ سے قابل رشک ہے۔ بہت سے بڑے آدمیوں کے جنازے ہماری عمر میں اُٹھے۔ بہت سی بڑی شخصیتوں کے گزر جانے پر ان کے مداحوں کو ہم نے روتے بلکتے ہوئے دیکھا مگر جس شان سے قائداعظم ؒکا جنازہ اُٹھا اور جس دلی اندوہ غم کا اظہار کروڑوں بندگان خدا نے پاکستان کے ہر گوشے میں کیا۔ اس کی مثال ملنی محال ہے اور جب تک دُنیا قائم اور دھرتی پاکستان زندہ ہے، قائد کی روح کے ایصال ثواب اور بخشش کے لیے ہاتھ اُٹھتے رہیں گے اور یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات انہیں نہ صرف بخشش دے گی بلکہ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گی۔

قائداعظمؒ کی لگن، محنت، انگریز، ہندو اور اپنوں کی ریشہ دوانیوں سے نپٹنا، تحریک پاکستان کو تیز کرنا اور کھانے کی فکر کرنا نہ سونے، اسی مصروفیت سے آپ ؒ کا جسم تھک گیا اور بیماریوں نے آپ کو گھیر لیا۔ ٹائپ رائٹر پر اُنگلیوں کی حرکت بھی ماند پڑنے لگی، بالآخر جون 1948ءمیں بلوچستان کے پُرسکون مقام ”زیارت“ چلے گئے، پھر کوئٹہ چلے گئے مگر انہیں افاقہ نہ ہوا۔ دوائیاں، پرہیزی کھانے، یہ سب کچھ اپنی جیب سے ہوتا رہا۔ بہن فاطمہ جنہیں قائد ”فاطی“ کہہ کر پکارتے تھے ، وقت پر دوائیاں دیتیں، ان کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے جاتے تھے۔

انہی ایام میں چودھری محمد علی جو اس وقت سیکرٹری جنرل پاکستان تھے۔ نے قائد کی اجازت کے بغیر قائد کے دیرینہ باورچی کو زیارت بھجوا دیا۔ دونوں باورچی بھائیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو پہنچنے اور خدمت کا بتایا۔ انہیں معلوم تھا کہ قائداعظم ؒکی خوراک کیا ہے، ناشتہ، کھانا، اور دیگر کونسی اشیاءانہیں مرغوب ہیں۔ صبح کا ناشتہ جب قائداعظم ؒ تک پہنچا تو انہوں نے بڑی رغبت سے کھایا اور اپنی بہن سے پوچھا کہ آج کا ناشتہ کس باورچی نے تیار کیا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ آپ ؒکے دیرینہ باورچی چودھری محمد علی نے پنجاب کے ضلع لائل پور کے کسی گاﺅں سے تلاش کر کے بھجوائے ہیں اور ناشتہ انہی کا بنایا ہوا ہے۔ قائداعظمؒ نے اسی وقت اپنی بہن فاطی سے پوچھا کہ آپ کے پاس نقد رقم ہے، جواب ہاں میں ملنے کے بعد بہن سے کہا کہ ان سے پوچھو کہ اپنے علاقے سے زیارت پہنچنے پر کیا خرچہ آیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام اخراجات حکومت نے کیے ہیں تاہم قائداعظمؒ نے انہیں مناسب رقم مع جیب خرچ دے کر اسی وقت واپس بھیج دیا۔

12ستمبر 1948ءبانی پاکستان کا نمازجنازہ پڑھانے کے بعد دُعا کے دوران مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر (جنہوں نے بادشاہی مسجد لاہور تعمیر کرائی تھی) کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا، جس کے غیرمتزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ مسلمانوں کی مایوسیوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ ہمارے بہت بڑے محسن ہیں اور زندہ قومیں اپنے بے لوث محسنوں کے احسانات کو سپاس گزاری کے جذبات کے ساتھ اس طرح یاد رکھتی ہیں کہ آنے والی نسلوں کو اس سے روشنی اور رہنمائی ملتی رہے۔ بابائے قوم کی سیاسی زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے ایک تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس خطے کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی جو انقلابی جدوجہد کی وہ دیدہ بینا کے ساتھ ہزار بار مطالعے کی مستحق اور متقاضی ہے، چنانچہ قائد کا تذکرہ اور ان کی شخصیت کا مطالعہ ہر مورخ اور محقق کے لیے بنیادی اور لازمی امر کی حیثیت رکھتا ہے۔

لیفٹیننٹ مظہر احمد جو مئی 1948ءمیں قائداعظم کے نیول کے اے ڈی سی مقرر ہوئے تھے، قیام زیارت کے بارے میں لکھتے ہیں (زیارت میں قائداعظمؒ کی رہائش گاہ کے ساتھ علیحدہ سیکرٹریٹ قائم تھا جس میں مہمان خانہ، مختلف سیکرٹری، ڈاکٹرز اور چھوٹے ملازمین خاکروب، الیکٹریشن وغیرہ رہائش رکھتے تھے)

جس بنگلے میں قائداعظم رہائش پذیر تھے، وہ پہاڑوں کے درمیان خاصی بلندی پر واقع ہے۔ اس کے احاطے میں پھلوں کے درخت اور سرسبز شاداب چمن تھا۔ وہاں پہنچتے ہی ہم نے گورنرجنرل کا نیلا پرچم اور پاکستان کا سبز ستارے والا پرچم لہرا دیئے۔ ہمارا خیال تھا کہ اب قائداعظمؒ کچھ دن آرام کریں گے۔ جب صحت یاب ہو جائیں گے تو پھر ان سے اجازت لی جائے گی اور ڈاکٹروں کے مشورہ سے ان سے ملکی سطح کے مشورے اور حکم نامے تحریر کروا کر دستخط کروا لیا کریں گے لیکن محنت ان کی فطرت بن چکی تھی اور آرام کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا (جیسا کہ وہ زندگی بھر کام ، کام اور پھر کام کے احکامات جاری کرتے اور خود بھی عمل کرتے تھے) ہر روز کراچی سے ان کی ڈاک سیاہ صندوقوں میں آتی تھی، جس میں (محمد علی جناح) کی سنہری مہر لگی ہوتی ہے۔ یہ صندوق سرکاری کاغذوں سے بھرے ہوتے، صندوق مضبوط چمڑے کے تھیلا نُما بنے ہوئے ہوتے، ان سے ایک کے بعد دوسرا لفافہ یا کاغذ کھول کر پیش کیا جاتا۔ قائداعظم دو تین تکیوں کے سہارے بیٹھ کر آنکھ پر ایک عینک نُما شیشہ لگا کر مطالعہ میں معروف ہو جاتے اور ان کی پتلی پتلی اُنگلیاں ان میں اُلجھی رہتیں۔ قائداعظم ؒکا نحیف ولاغر جسم دیکھ کر ہم کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔

یکم جولائی 1948ءکو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح قائداعظمؒ کی زیارت سے آمد پر ہوا تھا۔ (زیارت سے آنے کی درخواست حکومت کے وزراءاور اعلیٰ قیادت نے قائداعظم سے تحریری کی تھی، سخت کمزوری کے باوجود آپؒ نے آنا منظور کیا تھا)، یہ ان کی آخری تقریب تھی۔ جی الانہ نے اس تقریب میں قائداعظمؒ کی جسمانی حالت کا نقشہ ان لفظوں میں کھینچا ہے۔

”ہم میں سے جن لوگوں نے قائداعظمؒ کی یہ تقریر سنی۔ انہوں نے بخوبی محسوس کیا کہ قائد ؒکی طبیعت ناساز ہے اور ان کی آواز بمشکل سنائی دیتی تھی۔ تقریر کے دوران وہ بار بار کھانس رہے تھے اور انہیں سانس لینے کے لیے رُکنا پڑتا تھا“۔

ادھر قائداعظمؒ کی صحت گرتی جا رہی تھی۔ دوسری طرف پاکستان میں سیاست نیا رُخ اختیار کر رہی تھی۔ جب کہ زیارت میں بانی پاکستان ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی روز 8 اگست سندھ اسمبلی اور عوام کی مخالفت کے باوجود کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے کا اعلان کر دیاگیا اور خوب ڈیسک بجائے گئے۔

29اگست 1948ءکو یکایک ان کی قوت ارادی جواب دینے لگی اور قائد نے ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش سے کہا، آپ کو معلوم ہے کہ جب آپ پہلی مرتبہ زیارت مجھے چیک کرنے کے لیے آئے تھے تو میری خواہش تھی کہ میں زندہ رہوں لیکن اب مجھے اس کی کچھ فکر نہیں کہ میں زندہ رہوں یا مر جاﺅں اور اس کے بعد (جب ڈاکٹرکمرے سے نکل گیا) اپنی بہن فاطمہ جناح سے افسردہ لہجے میں کہا تھا: فاطی! مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں، پاکستان پاکستانیوں کا ہے، ان کی جدوجہد، ہمت، قربانیوں سے ہم اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو دنیا میں آیا، اسے جانا ہی ہے۔ اب مجھے بھی جانا ہے، جتنی جلدی گزر جاﺅں اچھا ہے۔

10ستمبر کو ڈاکٹر اور محترمہ فاطمہ جناح اس نتیجے پر پہنچے کہ جتنی جلدی ہو سکے، قائداعظمؒ کو کراچی لے جایا جائے۔ قائداعظمؒ بہت ہی نحیف اور کمزور ہو گئے تھے۔ بات کرنے میں دقت پیش آ رہی تھی تاہم اشاروں سے بات کرتے اور سمجھتے۔ قائداعظمؒ سے کراچی لے جانے کی بات ڈاکٹر ریاض علی شاہ (قائداعظم کو دیکھنے والے تین ڈاکٹرں میں سے ایک) نے کی۔ قائداعظمؒ نے آسانی سے اشارے سے اس کی اجازت دے دی۔ شاید وہ خود بھی سمجھ چکے تھے کہ اب ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔

کوئٹہ سے کراچی قریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد بیمار گورنرجنرل کا وائی کنگ طیارہ سوا چار بجے ماڑی پور کے ایئرفورس بیس پر اُترا جہاں وہ ایک برس قبل بڑی امید اور اعتماد کے ساتھ اُترے تھے۔ اس وقت ہزاروں لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اُمنڈ پڑےے تھے۔ لیکن 11ستمبر 1948ءکو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ ماسوائے جناح کے ملٹری سیکرٹری کرنل نولز کے جو ایک فوجی ایمبولینس لے کر آیا تھا۔ جلد ہی وہ لمحہ آگیا جب قائداعظمؒ زندگی اور موت کی کشمکش کے درمیان سڑک کے کنارے بے یارومدد پڑے تھے۔ چار پانچ میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایمبولینس اچانک ایک جھٹکے سے رُک گئی۔ مس فاطمہ جناح کے بقول میں دروازہ کھول کر باہر نکلی تو بتایا گیا کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے تاہم ڈرائیور انجن میں بھی ہاتھ پاﺅں مار رہا تھا۔ اس جگہ صاف اور ٹھنڈی ہوا بھی میسر نہ تھی، نہ سایہ دار درخت، مرطوب گرمی میں سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ اس بے چینی پر مستزاد وہ سینکڑوں مکھیاں تھیں جو ان کے چہرہ کے اردگرد منڈلا رہی تھیں اور قائد میں انہیں اڑانے کی سکت نہ تھی۔ جب قائداعظم ؒکو گورنرہاﺅس پہنچایا گیا تو انہوں نے اشارے سے اپنی پیاری بہن فاطمہ کو پاس بلایا اور سرگوشی کے انداز میں فرمایا: فاطمہ خدا حافظ! لاالہ اللہ محمدرسول اللہ۔ فاطمہ جناح نے سر اٹھا کر دیکھا تو چلاتی ہوئی ڈاکٹر کی طرف بھاگیں اور بولیں ”ڈاکٹر میرا بھائی رخصت ہوگیا“۔


ای پیپر