ٹرمپ کا جوا
11 ستمبر 2019 2019-09-11

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو عین اس وقت جبکہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر آ رہا تھا اور صدر ٹرمپ طالبان کے قائدین اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقاتیں کرنے والے تھے… صدر موصوف نے بیک جنبش قلم ساری کارروائی کو موقوف کر کے رکھ دیا… عذر پیش کیا کہ طالبان نے جنگ بندی نہیں کی اور ایک امریکی فوجی کو بھی ہلاک کر دیا جبکہ امریکہ کے اندر اور باہر ہر مبصر اسے عذر لنگ سے تعبیر کر رہا ہے کیونکہ ایک تو طالبان کی جانب سے امریکی فوجوں کے انخلاء سے پہلے جنگ بندی کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی تھی دوم رواں سال کے اندر ہی اس جنگ میں ایک دو یا چار نہیں 16 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسی مزاحمتی جنگ کے دوران طالبان اور امریکی نمائندوں زلمے خلیل زاد کے درمیان مذاکرات تیزی کے ساتھ کسی کامیاب سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے جاری بلکہ بظاہر کامیابی کی منزل کی جانب رواں رہے… تب امریکیوں کی ہلاکت مانع نہ ہوئی تو پھر اصل وجہ کیا ہے؟…جن مذاکرات کی کامیابی کا دنیا بھر میں تذکرہ تھا وہ کاٹھ کی ہنڈیا کیوں ثابت ہوئے؟… دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سمجھوتے کو جو تقریباً طے ہو چکا تھا، حیران کن انداز میں ٹھوکر مار کر اپنے بارے میں ثابت کر دیا ہے کہ ان سے بڑا جواری کوئی نہیں… سیاست کے میدان میں چھلانگ لگانے سے پہلے ان کا کیریئر بہت بڑی کاروباری شخصیت کا رہا ہے… انہوں نے جو کاروباری دنیا آباد کی اس میں کئی جوا گھر (کیسینوز) آج بھی کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں… یہاں سے موصوف نے جس فن پر دسترس حاصل کی اسی کی بدولت غیر متوقع طور پر امریکہ کا صدارتی انتخاب جیتا اور اندرونی سیاست کے علاوہ اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادیں بھی کیسینو کے مالک کے طور پر جوا بازی کے کھیل پر استوار کیں…طالبان کا مسئلہ لے لیجئے … اُن کے ساتھ بڑے دبنگ طریقے سے مذاکرات شروع کیے… کئی شرائط مانتے چلے گئے… انہیں باور کرا دیا کہ وہ ان کے ساتھ اٹھارہ سالہ جنگ کے خاتمے اور اپنی افواج کی مکمل واپسی کی خاطر بیتاب ہوئے جا رہے ہیں… اس معاملے میں اپنے اخلاص کا یقین دلاتے ہوئے طالبان سمیت دنیا بھر کو یقین دلا دیا کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر ان کے پاس اور کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہا کہ ملک افغاناں پر اپنی مسلط کردہ اشرف غنی حکومت کو نظر انداز کر کے طالبان جیسے کھلے دشمن کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالیں … ان کی پیشتر شرائط قبول کر لینے کا تاثر دیں… اس کی آڑ میں آخری سمجھوتے کے طور پر ان سے یہ تک منوا لیا کہ 13 ہزار فوجیوں پر مبنی قوت میں سے صرف 5 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلائیں گے، 8 ہزار سے کچھ زائد کو ابھی وہیں رکھا جائے گا… یہاں تک پہنچنے کے بعد جبکہ خوب واویلا مچایا جا رہا تھا کہ معاہدہ امن روبہ عمل آیا چاہتا ہے…پورے کے پورے کاغذی سمجھوتے کو اٹھا باہر پھینکا… کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ لیکن طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی… نتیجے کے طور پر امریکی حکومت میں معاہدے کے بارے میں مضطرب ساتھیوں اور باہر بیٹھے اپنے ملک کے طاقتور عناصر پر واضح کر دیا کہ وہ افغانستان کو طالبان کے حوالے نہیں کرنے جا رہے… دوسری طرف اشرف غنی اور ملک افغاناں کے تمام سیاسی اور غیر پشتون نسلوں سے تعلق رکھنے والے عناصر کو پیغام دے دیا کہ انہیں شامل کیے بغیر افغانستان کے اندر مستقبل کی کسی آزاد حکومت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا… یوں اس جواری نے پنجابی محاورے کے مصداق سجی دکھا کر کھبی ماری ہے…

طالبان کا تادم تحریر اس بارے میں تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا… امریکہ نے ان کے ساتھ جو وعدہ خلافی کی ہے وہ اسے کس انداز سے دیکھ رہے ہیں ، کیا دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے… ان کی جانب سے اشارہ تو بات چیت کے دوبارہ آغاز کا ملا ہے مگر کن نئی شرائط پر یا پرانا اور جانا پہچانا مؤقف ہی پیش کریں گے… تاہم ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے اپنی سر زمین وطن سے آخری امریکی فوجی کی زندہ یا مردہ واپسی کی یقین دہانی حاصل کیے بغیر امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا جو با ر بار اعلان کیا تھا، اس کے بغیر سر دست 8 ہزار جمع کی تعداد میں امریکی سپاہ کو اپنے یہاں قبول کرنے پر کیسے آمادہ ہو گئے …اور ہوئے بھی یا نہیں مگر امریکیوں نے 9 ادوار پر مشتمل مذاکراتی عمل کے اختتام پر ممکنہ سمجھوتے کی جو تفصیلات دنیا کو بتائیں … ان میں یہ بات شامل تھی اور طالبان کی جانب سے اس کی کوئی واضح اور قطعی تردید بھی نہ کی گئی… لہٰذا اس گمان کے حقیقی ہونے پر یقین کرنا پڑتا ہے… اس کے بعد اگر امریکہ نے از سر نو مذاکرات کا آغاز کیا تو اس کی سب سے بڑی شرط کیا ہو گی… آیا وہ طالبان کے لیے قابل قبول ہو گی… امکاناً شرط یہ ہو سکتی ہے کہ طالبان مستقبل کے حکومتی نظام میں اشرف غنی اور ان کے ساتھیوں سمیت اپنے ملک کی تاجک، ازبک اور شیعہ آبادی کی نمائندگی کو پیشگی قبول کر لیں… طالبان ابھی تک اشرف غنی اور ان سے پہلے حامد کرزئی جیسے امریکہ کے پسندیدہ افغان حکومتی عناصر سے براہ راست ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں… اسی طرح افغانستان کی نصف سے ذرہ کم آبادی پر مشتمل تاجک، ازبک اور شیعہ وغیرہ جنہیں عام طور پر شمالی اتحاد کا نام دیا جاتا ہے کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے؟… انہیں کن بنیادوں پر حکومت میں شامل کریں گے… یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکا امریکہ ان تمام عناصر کو اتحادی اور دوست سمجھتا ہے … وہ انہیں باقاعدہ شریک حکومت کرنے کی کھلی یقین دہانی حاصل کیے بغیر سمجھوتہ نہیں کرے گا… لہٰذا نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات کا اگر نیا دور شروع ہوا تو اس کی بنیادیں کیا ہوں گی؟… طالبان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے جسے وہ گزشتہ اٹھارہ برس سے نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال کرتے چلے آئے ہیں اور وہ ہے امریکہ کی قابض فوجوں کو ناکوں چنے چبوانے والی گوریلا جنگ جسے وہ جہادی جذبے سے سرشار ہو کر لڑتے چلے آئے ہیں… صدر ٹرمپ نے ان کے ساتھ جواء کھیلا کہ ان کی اس حیثیت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا … کچھ اپنی باتیں منوا لیں خاص طور پراور آٹھ ہزار سے زیادہ فوجی رکھنے پر آمادہ کرنے کے بعد پورے کے پورے معاہدے کے تیار شدہ مسودے کو پرزے پرزے کر ڈالا… بظاہر فریقین وہیں آن کھڑے ہوئے ہیں جہاں مذاکراتی عمل کی ابتدا پر تھے… ظاہر ہے طالبان اپنی جنگ جاری رکھیں گے… امریکہ بھی پوری طاقت کے ساتھ وہاں موجود رہے گا… پاکستان پر واحد سپر طاقت کا دباؤ امکاناً ایک دفعہ پھر بڑھ جائے گا… تقاضا کیا جائے گا کہ طالبان کو کوئی سمجھوتہ طے ہونے سے پہلے ہی جنگ بندی پر آمادہ کرو… کیا طالبان اس مطالبے کو قبول کر لیں گے کیا پاکستان طالبان لیڈروں کے ساتھ اعتماد کے تمام تر تعلقات کے باوجود انہیں اس پر راضی کرنے کی پوزیشن میں ہے… اگر طالبان پورے افغان کھیل میں اپنی فوقیت منوائے بغیر جنگ بندی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس کچھ نہ بچے گا… دوسری جانب اگر امریکہ افغانستان کے اندر آئندہ وجود میں آنے والی حکومت میں اپنے دوست عناصر کی مؤثر نمائندگی جو جیسا کہ آثار بتاتے ہیں، تناسب کے لحاظ سے نصف سے کم نہ ہو گی… قبول کرائے بغیر نیا سمجھوتہ کر لیتا ہے تو صدر ٹرمپ کی ساکھ اور امریکی مفادات بری طرح متاثر ہوں گے… یہ وہ تعطل اور ڈیڈ لاک ہے جس پر لمحۂ موجود کے اندر افغان تنازع آن کھڑا ہوا ہے… بھارت اس تعطل کی وجہ سے بہت شاداں ہے کہ مذاکرات اگر کامیاب ہو جاتے اور عملی سمجھوتے کی شکل اختیار کر لیتے تو ملک افغاناں کی نئی حکومت میں طالبان کا غلبہ اس کے لیے سوہان روح بن سکتا تھا… مگر اب جو یہ عمل بند دیوار سے جا ٹکرایا ہے تو پاکستان کے لیے حقیقی معنوں میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے… امریکہ ہمیشہ کی طرح افغان تعطل کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دے سکتا ہے یا کہہ سکتا ہے یہاں کے حکمران اس کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو رہے… جبکہ ارض پاک کے ارباب بست و کشاد کو مشکل یہ آن پڑی ہے کہ طالبان کے ساتھ جتنی اور جیسی بھی دوستی ہو وہ اپنا تشخص اور اپنی بات پر منوانے کی تاریخ رکھتے ہیں… اس موقع پر امریکہ کہہ سکتا ہے کہ اگر طالبان 8 ہزار سے کچھ زیادہ امریکی فوجیوں ک موجودگی پر خواجہ وقتی طور پر ہی صحیح اتفاق کر سکتے ہیںتو اشرف غنی جمع عبداللہ عبداللہ حکومت سے بغل گیر کیوں نہیں ہو سکتے… یہ وہ چوراہا ہے جہاں پر آ کر افغان عمل رک گیا ہے… جواری ڈونلڈ ٹرمپ اگلا پتا کیا پھینکے گا اور طالبان کی جانب سے کیا جوابی کھیل کھیلا جائے گا… اس پر موجودہ افغانستان کے مستقبل کا بہت کچھ انحصار ہے…


ای پیپر