پولیس ریفارم اور تاجا حوالدار
11 ستمبر 2019 2019-09-11

پولیس تشدد سے ذہنی معذور شخص صلاح الدین کی پولیس حراست میں موت کا واقعہ جتنا افسوسناک ہے اس سے زیادہ قابلِ مذمت حکومت کا وہ ریہ ہے جس میں اسے نظر انداز کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوئی اس کو جتنا دبایا گیا یہ اتنا ہی ابھرتا گیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عوامی سوچ یہ ہے کہ اس ملک میں یا پولیس رہے گی یا پھر ہم رہیں گے۔ گزشتہ سال ساہیوال میں جعلی پولیس مقابلے میں دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کیے جانے والی فیملی کے واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اس وقت وزیر اعظم عمران خان شاید ابھی نئے نئے بر سر اقتدار آئے تھے لہٰذا ضمیر کا بوجھ کافی بھاری لگتا تھا آپ نے فرمایا کہ میں نے ٹی وی پر اس واقعہ کی فوٹیج دیکھی ہے اور میں رات بھر سو نہیں سکا آپ نے مزید فرمایا کہ یہ قطعاً کسی قیمت پر نہیں ہو سکتا کہ اس واقعہ میں ملوث ذمہ دار سزا سے بچ جائیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا سب کو پتہ ہے ۔ حکومت نے خون کی قیمت سرکاری خزانے سے ادا کرتے ہوئے لواحقین کو پلاٹ دے دیئے بچوں کے اکائونٹ کھلوا کر فکس ڈیپازٹ رقوم ڈال دی گئی سرکاری نوکری کے پروانے سائن ہو گئے اور اس کے بعد کچھ بھی نہ ہوا۔ اگر اس واقعہ میں مثالی سزا دے دی جاتی تو شاید صلاح الدین اور دیگر 60 بے گناہ افراد جو گزشتہ ایک سال میں صرف پنجاب پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں وہ سارے آج زندہ ہوتے۔ ساہیوال واقعہ پر میڈیا نے بھی ریت میں سر چھپا لیا اور جعلی پولیس مقابلے کی طرح راضی نامہ پر چپ سادھ لی۔ معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا ۔

صلاح الدین کے ماورائے عدالت قتل کو شروع میں تو پنجاب پولیس اور حکومت نے معمول کی کارروائی سمجھا۔ موجودہ حکومت کا سسٹم اس طرح کا ہے کہ ان کی حکمرانی میں Whatsapp اور فیس بک اور ٹویٹر کا رول کافی زیادہ ہے اس حکومت کو کوئی فیڈ بیک دینی ہے تو ٹی وی اور اخبارات سے زیادہ یہ سوشل میڈیا سے حساس ہیں۔ جب سوشل میڈیا صلاح الدین واقعہ سے ٹریفک جام کی پوزیشن پر آیا تو حکومت نے انگڑائی لی اور ملزموں کو معطل کرنے کا فریضہ سر انجام پایا۔ جبکہ ساتھ ہی جعلی میڈیکل رپورٹ تیار کروالی گئی کہ تشدد ثابت نہیں ہوا۔ آر پی او بہاولپور کی پریس کانفرنس میں سارے پولیس والے فرشتہ سیرت نکلے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ پختونخواہ اور بلوچستان میں پولیس مقابلے نہیں ہوتے ۔ پولیس مقابلے سب سے زیادہ سندھ اور پنجاب میں ہی کیوں ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پختونخواہ اور بلوچستان میں قبائلی روایات اب بھی مضبوط ہیں پولیس اس طرح کی زیادتی کرے گی تو ان کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا نا انصافی اور ظلم کے آگے بلوچ اور پٹھان مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں لہٰذا پولیس وہاں پر رسک نہیں لیتی ۔ اس کے بر عکس سندھ اور پنجاب کا کلچر یہ ہے کہ کمزور کو دبانا ہے اور طاقتور کے آگے سجدہ ریز ہونا ہے اس لیے پولیس بھی اسی فارمولے پر عمل کرتی ہے۔ اس کے پس منظر میں وہ نو آبادیاتی دور کا استحصالی نظام ہے جس میں طبقاتی تقسیم اس طرح کی ہے کہ معاشرہ دو واضح طبقوں میں تقسیم ہے یہی وہ خرابی ہے جس کی اصلاح کے لیے موجودہ حکومت نے اپنی انتخابی مہم میں دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا تھا مگر وہ نعرہ بھی جعلی نکلا۔

جلال الدین رومی نے کہا تھا کہ جس چیز کو آپ درخت کی شاخوں میں تلاش کرتے ہیں ہو سکتا ہے وہ اس کی بجائے آپ کو درخت کی جڑوں میں مل جائے۔ رومی نے نہ جانے یہ بات کس سیاق و سباق میں کی تھی مگر مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ 100 فیصد پنجاب پولیس پر صادق آتی ہے اگر آپ چاہتے ہوں کہ ہمارے ملک کے تھانے عوام پر ٹارچر اور تشدد کے مراکز اور بہت بڑے عقوبت خانے نہ بنیں تو اس کے لیے آپ کو تھانیدار یا SHO کی بجائے کہیں اور دیکھنا ہو گا ۔ تھانیدار تو پولیس کلچر کی ایک چھوٹی سی اکائی ہے اصل کردار حکومت اور بیورو کریسی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ملک کا وزیر اعظم واقعی پولیس ریفارم چاہتا ہو تو وہ صوبوں میں آئی جی کی تعیناتی سیاسی بنیاد پر نہیں کرے گا۔ اگر آئی جی ٹھیک ہو گا تو وہ پولیس کو قانون کے تابع رکھ سکتا ہے ۔ وزیر اعظم اور آئی جی کے بعد پولیس ریفارم میں سب سے زیادہ رول ٹریننگ کا ہے۔ آپ نے آج تک کبھی سنا ہے کہ کسی پولیس افسر نے حکام بالا کا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کیا ہو ۔ وہ سارے اپنی نوکری بچانے پر کشش پوسٹنگ اور پرموشن کے چکر میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ تھانیدار کے پاس اس کی صلاحیت سے کہیں زیادہ اختیارات ہونے کی وجہ سے بھی پولیس تباہ ہوئی ہے ۔ اسے اپنے علاقے میں ایک بادشاہ کا رتبہ حاصل ہے۔

پاکستان کے فرسودہ عدالتی نظام کی کمزویوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پولیس کا ناجائز استعمال تخریبی ذہن کے مالک عناصر کے لیے ایک ایسا ہتھکنڈا ہے جس کی بنیاد پر مخالفین پر جھوٹے پرچے کرائے جاتے ہیں ۔ پولیس کے پاس تفتیش اور تحقیقات کی سمجھ بوجھ نہیں ہے نہ ہی تربیت ہے جس وجہ سے تشدد کے ذریعے اعتراف کرایا جاتا ہے یہ بہت پیچیدہ اور الجھا ہوا نظام ہے جس میں اصلاح نا ممکن ہو چکی ہے ۔ موجودہ پولیس کو مکمل طور پر سکریپ کر کے اس کی جگہ نئی فورس کھڑی کی جائے تو شاید یہ ٹھیک ہو جائے۔ پولیس میں پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نو جوانوں کو براہ راست انسپکٹر بھرتی کرنے کا تجربہ بھی اتنا اچھا ثابت نہیں ہوا۔ اس نظام میں جو بھی Induct ہو گا وہ اسی سانچے میں ڈھل جائے گا۔

پولیس میں سیاسی مداخلت اور بے جا مگر بے پناہ اثرو رسوخ نے اسے ایک ایسی فورس میں تبدیل کر دیا ہے جہاں یہ مراعات یافتہ ایلیٹ طبقے کی خوشنودی کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ پولیس میں بھرتی کا نظام سارے کا سارا سفارشی بنیادوں پر ہے اس میں امیدوار کا کیریکٹر یا اس کی نفسیاتی ترغیبات چیک کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں۔ نہ ہی انہیں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ پیسے کی چمک سے کیسے بچنا ہے قدم قدم پر رشوت کی پیشکش کا کیسے مقابلہ کرنا ہے اور آخرت میں کس طرح نا انصافی ظلم اور خیانت کا سامنا کرنا ہے۔ نہ قانون کا خوف ہو اور نہ خدا کا خوف ہو اور نہ معاشرے کا اخلاقی دبائو ہو تو اس کے نتائج کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

پولیس کے اعلیٰ افسران جب ریٹائر ہو جاتے ہیں تو وہ سکیورٹی ایکسپرٹ بن کر ٹی وی پر آ کر نظام کی خرابیوں کا پردہ چاک کرتے ہیں یہی افسران جب پولیس کا حصہ ہوتے تھے تو اس وقت اپنے دور میں انہوں نے کوئی Initiative نہیں لیا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ساری پولیس اور بیورو کریسی سیاستدانوں کے آگے ڈھیر ہو گئی وہ دن اور آج کا دن یہ سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔

پانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948 ء میں چٹا گانگ اور پشاور میں بیورو کریسی سے اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ اصل گورنمنٹ سیاستدان نہیں بلکہ آپ ہیں سیاستدان اقتدار میں آتے جاتے رہتے ہیں مگر آپ مستقل ہیں آپ کو اگر کوئی غیر قانونی حکم دیا جاتا ہے تو ماننے سے انکار کر دیں چاہے آپ کی نوکری چلی جائے مگر افسوس کے بابائے قوم کا فرمان فراموش کر دیا گیا ۔

یہاں پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا ذکر ضروری ہے۔ جنہوں نے ایک نئی روایت کو جنم دیتے ہوئے مقتول کے والد سے تعزیت کے لیے انہیں اپنے دفتر بلایا۔ ان سے پہلے وزیر اعلیٰ جب خصوصی طیارے کے ذریعے موقع واردات پر پہنچا کرتے تھے تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ اگر SHO کو معطل کرنا تھا تو یہ کام تو SP یا DPO بھی کر سکتا ہے۔لیکن بزدار صاحب نے تبدیلی کا تاثر دے دیا ہے وہ اب مظلوم کی دہلیز پر نہیں جاتے بلکہ اسے اپنی دہلیز پر لے آتے ہیں باقی سب کچھ وہی ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک جتنی کمیٹیاں اور کمیشن پولیس ریفارم پر بنے ہیں شاید ہی کسی اور معاملے پر بنے ہوں مگر نتیجہ صفر ہے پولیس ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ ایک پنجابی محاورہ ہے جس کا مفہوم تاجا حوالدار آئی جی نہیں بلکہ ملک کا چیف ایگزیکٹو ہے۔


ای پیپر