ٹرمپ نے طالبان سے معاہدے پر دستخط سے کیوں انکار کیاَ
11 ستمبر 2019 2019-09-11

امریکا افغانستان پرحملہ آور ہونے کے سترہ سال بعدیعنی جولائی 2018 ء میںوہاں قیام امن کے لئے مخالف فریق افغانستان طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لئے راضی ہوا۔افغانستان میں امن کے لئے افغان طالبان کا یہ بنیادی مطالبہ تھا کہ بات چیت ہوگی تو براہ راست امریکا سے ،سابق صدر حامد کرزئی کے دور حکومت میں بھی کوششیں کی گئی تھی لیکن افغان طالبان ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کے لئے راضی نہ ہوئے۔ڈاکٹر اشرف غنی جب صدر منتخب ہو ئے تو انھوں نے بھی نہ صرف کئی مر تبہ افغان طالبان کو براہ راست بات چیت کی پیش کش کی بلکہ کابل میں ان کو دفتر کھولنے پر بھی رضامند تھے،لیکن افغانستان کے طالبان حامد کرزئی کی طرح ڈاکٹر اشرف غنی کو بھی انکار کرتے رہے۔افغانستان کے سابق اور موجودہ حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار پر افغانستان طالبان کا موقف شروع دن سے یہی ہے کہ امن کی چابی کابل کے حکمران کے پاس نہیں بلکہ وائٹ ہائوس کے مکین کے پاس ہے اس لئے بات چیت ہوگی تو صرف واشنگٹن ہی سے ہوگی۔امریکا سترہ سال تک افغانستان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکاری تھا۔آخر کار گزشتہ سال امریکا نے افغانستان طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔ صدر ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو افغانستان کے لئے خصوصی نما ئندہ نامزد کیا۔انھوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان طالبان کے ساتھ گزشتہ سال براہ راست بات چیت کا آغاز کیا۔جب امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت کا ڈول ڈالا گیا تو طالبان کا بنیادی مطالبہ غیر ملکی افواج کا انخلاتھا۔امریکا نے افغانستان طالبان کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا ان کو باور کرایا گیا کہ مرحلہ وار امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل جائے گی۔یاد رہے کہ روز اول سے افغانستان طالبان کے دو ہی بنیادی مطالبات تھے اول کے بات چیت صرف امریکا کے ساتھ ہو گی ۔دوم مذاکرات جب بھی ہونگے تو غیر ملکی فوجیوں کا انخلا سرفہرست ہوگا۔ان دونوں مطالبات پر آمادگی کے لئے امریکا کو سترہ سال لگے۔

ایک سال امریکا زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں افغانستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے۔جب امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ بات چیت شروع ہوئی تو دونوں فریقین نے چار نکات پر اتفاق کیا۔ طالبان وہاں کی سرزمین امریکا اور ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کریں گا۔امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا۔ بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی۔براہ راست بات چیت کے دوران دونوں فریقین کے درمیان صرف دونکات زیر بحث آئے ۔ افغانستان کی سرزمین کو کسی اور کے خلاف استعمال نہ کرنے کی ضمانت اور امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا۔با قی دو نکات بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی پر بحث امن معاہدہ ہوجانے کے بعد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔افغانستان کے لئے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان دونوں امن معاہدے کے لئے پرامید تھے۔دونوں فریقین نے خوش خبری بھی سنائی تھی کہ ستمبر کے شروع میں امن معاہدہ پر فریقین دستخط کر لیں گے۔اس کے بعد بین الافغان مذاکرات ہونگے اور پھر جنگ بندی پر بات چیت ہو گی۔امریکی نمائندے، افغانستان طالبان کے ساتھ حتمی معاہدے کا مسودہ لے کر صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے بات چیت کر رہے تھے کہ یہ خبری آئی کہ امریکا کے وزیر خارجہ پومیپیو نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیاہے۔دوسری طرف ایک جریدے میں افغانستان میں امریکا کے سابق سفارت کارو ں نے مل کر مضمون لکھا جس میں اس معاہدے کی مخالفت کی گئی تھی۔اگلے روز امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کرتے ہوئے امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا۔وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ طالبان نے کابل میں خودکش حملہ کرکے ایک امریکی فوجی کو ہلاک کیا ہے اس لئے اب ان کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوسکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جو صدر ٹرمپ نے لکھا ہے؟ہرگز نہیں۔دونوں فریقین امریکا اور افغانستان طالبان اندرونی طور پر اس معاہدے پر اختلافات کا شکار تھے۔ طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر وائٹ ہائوس کے ساتھ پینٹاگون راضی نہیں تھا۔ طالبان کے عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان بھی اختلافات موجود تھے۔افغانستان کی حکومت چونکہ مذاکرات کا حصہ تھی ہی نہیں اس لئے وہ بھی مخالف تھی۔افغانستان حکومت کا موقف یہ ہے کہ ملک میںصدارتی انتخابات ہونے چاہئے اس کے بعد طالبان امریکاکی بجائے حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں۔افغانستان کے سرکردہ سیاسی رہنما چونکہ اس عمل کا حصہ نہیں تھے اس لئے ان کو بھی تشویش تھی۔امریکا نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران طالبان ہی کے مطالبے پر افغانستان کی حکومت کو مذاکرات میں شریک ہونے سے دور رکھا۔ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو منسوخ کرنے پر اس لئے مجبور ہوئے کہ پینٹاگون اور افغانستان کی حکومت اس معاہدے کے خلاف تھی۔امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی شدید مخالفت بھی اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا سبب بنا۔ شنید یہ ہے کہ سی آئی اے نے صدر ٹرمپ کو قائل کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد وہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد معاملات مکمل طور پر طالبان کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔افغانستان کی فوج اور پولیس ابھی تک اس قابل نہیں کے وہ طالبان کا مقابلہ کر سکے اس لئے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاکے بعد القاعدہ دوبارہ افغانستان میں منظم ہوکر وہاں کی سرزمین کو امریکا اور دیگر اتحادی ممالک کے خلاف استعمال کر سکتاہے۔سی آئی اے نے یہ رپورٹ بھی دی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے لیکن ان کو زیادہ تشویش القاعدہ کے دوبارہ منظم ہونے اور امریکا کے خلاف انتقام کے طور پر وہاں کی سرزمین کو استعمال کرنا پر ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ سی آئی اے نے خطے میں چین کی اقتصادی سرگرمیوں ،روس کی دوبارہ عالمی معاملات میں دلچسپی ،پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ جموں و کشمیرکی موجوہ کشیدہ صورت حال اور مشرقی وسطی کی بگڑتے حالات کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو خطے سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کابل میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر نہیں بلکہ پینٹاگون کی شدید مخالفت اور سی آئی اے کی ان رپورٹس پر منسوخ کیا ہے۔


ای پیپر