امریکہ ، افغانستان ، کشمیر ، بھارت و پاکستان
11 ستمبر 2019 2019-09-11

’’افغانی صدر اور طالبان رہنماؤں کے ساتھ’’ کیمپ ڈیوڈــ‘‘ پر اتوار کو ہونے والی میری خفیہ ملاقات میں نے خود منسوخ کر دی ہے کیونکہ افغان طالبان نے ہمارے ایک عظیم فوجی اور 11 معصوم لوگوں کو قتل کر دیا ہے ــ‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آخری مراحل میں ٹویٹ کر کے کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدراور طالبان رہنماؤں کے ساتھ ملاقات منسوخ کر کے طالبان کی طاقت و قابلیت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر غلط اندازہ لگایا ہے۔ 18سال جنگ کے میدان میں اور اب مذاکرات کی میز پر طالبان نے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ وہ نہ صرف جنگجو ہیں بلکہ سفارتی لحاظ سے بھی ایک تربیت یافتہ ٹیم کے حامل ہیں ۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان مذاکرات منسوخ کیے جانے کا نقصان طالبان کو ہو گا یا امریکہ کو یہ اتنا اہم نہیں جتنا یہ اہم ہے کہ مذاکرات منسوخ ہونے سے بھارت اور اسرائیل سمیت ان طاقتوں کو ضرور فائدہ پہنچا ہے جو جنو بی ایشیا کے امن کو سبوتاژ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی جنگ میں مصروف عمل رکھنا چاہتی ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ سپر پاورامریکہ کے صدر ضرور ہیں لیکن کیا وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں ؟کیا اندرونی اور بیرونی عالمی طاقتیںانھیں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کی اجازت دیتی ہیں ؟یہ وہ سوال ہیں جو آج امریکی صدر کو اپنے آپ سے کرنے کی ضرورت ہے ۔مذاکرات کی منسوخی کو بہانہ طالبان کی جانب سے جس حملے کو بنایا گیا ہے اس طرح کے حملے مذاکرات کے پہلے دن سے دنوں جانب سے ہو رہے ہیں۔مذاکرات کے معاہدے میں طالبان کی جانب سے سیز فائر یا جنگ بندی کی شرط پہلے دن سے ہی نہیں مانی گئی تھی ۔ مذاکرات کی منسوخی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پینٹا گون جنگ کے میدان کے بعد مذاکرات کی میز پر بھی معاہدے کو نکات کو امریکہ کی شکست سمجھتا ہے۔ امریکہ کی اندرونی رپورٹس کے مطابق طالبان تمام شرائط اپنی منوا رہے ہیں اور امریکی تھنک ٹینکس بھی اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مخالفت رکھتے ہیں ۔حقیقت بھی یہی ہے کہ مذاکرات کے میز پر افغان طالبان کا پلڑا بھاری ہے اور اس معاملے پر صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ افغانی حکومت کو بھی تکلیف ہے جسے طالبان کی حکومت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آ ہا ہے ۔ اس معاہدے سے بھارت کو بھی تکلیف ہے کہ کیونکہ اس صورت میں افغانستان کے ذریعے پاکستان مخالف سرگرمیاںبند ہو جائیں گی اس سے اسرائیل کو بھی تکلیف ہے کیونکہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل گیا تو سپر پاور کا دھیان اسرائیل کی معاشی سرگرمیوں کی طرف بھی جا سکتا ہے او ر پھر اربوں ڈالر کا اسلحہ کون خریدے گا ؟ امریکہ کو جنگ کے میدان میں طالبان کو سمجھنے کے لئے 18 سال کا عرصہ لگا، مذاکرات کا عمل تو ابھی صرف شروع ہوا ہے ۔ امریکی صدر کی خواہش ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی طرح افغانستان سے نکلا جا سکے لیکن اب طالبان انھیں اپنی ہی شروع کی ہوئی جنگ سے نکلنے کے لئے خاصہ مشکل وقت دے رہے ہیں ۔امریکی تھنک ٹینکس آج نہیں تو کل یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ افغانستان سے نکلنا ہے تو انکی تقریباََ تمام شرائط ماننا ہو نگی کیونکہ وہ تو مذاکرات کی میز پر آنے کو بھی تیار نہیں تھے ۔ پاکستان سے امریکہ نے افغان طالبا ن سے مذاکرات کے لئے مدد چاہی تو پاکستان نے پورے خلوص سے اپنی تمام تر توانائی اور طاقت پیش کر دی ۔ماضی میں بھی پاکستان اگر کسی ملک کا اتحادی بنا تو پورے خلوص سے بنا لیکن وقت اور حالات نے ثابت کی کہ امریکہ ہو یا بھارت بطور اتحادی دھوکہ انکی فطرت میں شامل رہا ہے ۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے سلسلے کی منسوخی کا فائدہ جہاں بھارت کو ہو رہا ہے وہاں ہی اسرائیل بھی امریکہ کو مسلمان ملکوں میںجنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ دنیا کی معشیت اپنے قابو میں رکھ سکے۔ بھارت نے امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں اپنے اڈے بنا کر پاکستان میں امن کوخراب کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔کلبھوشن یادیو اس کی زندہ مثال موجود ہے ۔ بھارت کا خیال تھا کہ پاکستان کو مغربی سرحد پر مصروف رکھ کر مشرقی سرحد پر من مانی کی جائے جبکہ امریکہ کا مفاد یہ تھا کہ افغانستان کے ذریعے جنوبی ایشیا کو کنٹرول کیا جا سکے ۔ بھارت اور امریکہ دونوں کے اپنے اپنے مفادات تھے اور ہیں اور دونوں اس لحاظ سے بھی مماثلت رکھتے ہیں کہ اپنے اتحادیوں کو وقت پڑنے پر اکیلا چھوڑ دینا اور ضرورت پڑنے پر نقصان پہنچانا بھی کوئی بڑی بات نہیں ۔ان دونوں ممالک ( امریکہ اور بھارت )سے بھی زیادہ بے رحم اور دھوکے باز اتحادی اسرائیل ہے جو دنیا میں صرف اپنے مفاد کے لئے مختلف ممالک کو استعمال کر رہا ہے ۔ 18سال قبل جنگ شروع کرنے سے قبل امریکہ کا اندازہ یہ تھا کہ وہ چند سالوں میں افغانستان فتح کر لیں گے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ قبائلیوں سے جنگ شروع کرنا آسان رہا ہے مگر ختم کرنا انتہائی مشکل ۔ کشمیر میں قبائلی لشکر کے ہاتھوں شکست کے قریب پہنچنے والا بھارت جب اقوام متحدہ کے دروازے پر پہنچا تو دھوکے سے جنگ بندی کرائی گئی ۔ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب قبائلیوں کو دھوکے اور سازش سے ہارایا گیا مگر جنگ کے میدان میں ہمیشہ شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا۔آج اگر دنیا کے نقشے کی سپر پاور کی حالت دیکھیں تو ماضی میں قبائلیوں سے الجھنے والی طاقتوں سے کچھ مختلف نہیں ۔ مختصر یہ کہ افغانستان امریکہ کے گلے کی وہ ہڈی بن چکا ہے جونہ نگلی جا رہی ہے اور اگلی جا رہی ہے ۔18سال قبل امریکہ سے ہونے والی غلطی آج بھارت بھی دہرا چکا ہے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کرفیو لگانے والی بھارتی حکومت کو معلوم نہیں کہ کشمیر ی جنگجو قبائلیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔ایک طرف سپر پاور کی ایک معمولی ریاست افغانستان میں شکست دنیا کے سامنے ہے تو دوسری طرف بھارت اپنے اندرونی حالات جانتے ہوئے بھی خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کے لئے بضد ہے ۔


ای پیپر