یہودیوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی جاری

11 ستمبر 2018 (14:21)


مقبوضہ بیت المقدس :عبرانی سال نو اور اس مناسبت سے اسرائیل کے مذہبی تہوار کی آڑ میں سیکڑوں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اسرائیلی حکومت کے ایک انتہا پسند وزیر سمیت 258یہودیوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کے روز علی الصبح سے مسجدا قصی کے مراکشی دروازے کو یہودیوں کی آمدو رفت کے لیے کھول دیاگیا تھا۔ 260 یہودیوں کے قبلہ اول پر اشتعال انگیز دھاووں کے بعد مراکشی دروازہ بند کردیا گیا۔اس موقع پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جنہوں نے یہودی آباد کاروں کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قبلہ اول پر دھاوا بولنے والوں میں اسرائیلی وزیر زراعت اروی ارئیل بھی شامل تھا۔ یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصی کے اندر گھسنے کے بعد باب الرحمہ کے قریب جمع ہوئی اور اجتماعی طورپر تلمودی رسومات ادا کیں۔اس موقع پر فلسطینی شہریوں کو نماز کے لیے مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مسجد اقصیٰ کے فلسطینی اور محکمہ اوقاف کے مقرر کردہ محافظوں کو حرم قدسی سے بے دخل کردیا گیا۔ ادھر فلسطینی وزیر مذہبی امور اوراوقاف الشیخ یوسف ادعیس نے یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر دھاووں کو مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ اسرائیلی ریاست منظم منصوبے کے تحت عبرانی سال نو کی آڑ میں حرم قدسی کا تقدس پامال کررہی ہے۔

مزیدخبریں