وزیر اعظم عمران خان کے ڈیمی جذبے !

11 ستمبر 2018

توفیق بٹ

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ڈیم کی تعمیر کے لئے چندہ یا فنڈز دینے کی اپیل پر سوشل میڈیا پر مختلف اقسام کی آراءسامنے آرہی ہیں۔ منفی ذہنیت کے حامل کچھ ایسے لوگ جن کا کام ہر اچھے کام میں سے کیڑے نکالنا ہے۔ بلکہ کسی کام میں سے اُن کی پوری کوشش کے باوجود کیڑے نہ نکل رہے ہوں وہ اپنے ” ذاتی کیڑے “ اُس میں ڈال دیتے ہیں، تو اپنی اِس فطرت کے مطابق اُن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ چندے سے ڈیم تعمیر نہیں ہوتے، یا عمران خان یہ کام کسی صورت میں نہیں کر سکے گا۔ یا وزیر اعظم بننے کے بعد اُسے زیب نہیں دیتا وہ بیرونی دنیا سے چندہ وغیرہ مانگے۔ اِس کے برعکس اندرون اور بیرون ملک مقیم لوگوں کی اکثریت نے اِس عمل کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ اِس کا باقاعدہ حصہ بھی بن رہے ہیں۔ عمران خان پر لوگ اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اُس کی پوری کوشش ہے لوگوں کے اِس اعتماد میں کمی واقع نہ ہو۔ اِس حوالے سے اُسے بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔ ابتدائی طور پر کچھ غلطیاں، خصوصاً مختلف حوالوں سے اپنی سیاسی و انتظامی ٹیم کے انتخاب میں اُس سے ہوئی ہیں۔ اللہ کرے اِن غلطیوں کا اُسے احساس ہو جائے، اور وہ اِن سے سبق سیکھ لے، مگر ابھی وہ کرپٹ نہیں ہے۔ اُس میں ہزار خرابیاں ہوں گی۔ مجھ سمیت ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ مگر اُس کے بدترین دشمن ، یعنی شریف برادران بھی دِل سے اُس کی ایمانداری کے یقیناً معترف ہی ہوں گے۔ بلکہ دل ہی دل میں شاید اُس کے بے ایمان ہونے کی دعا بھی کرتے ہوں گے، تا کہ وہ بھی اُنہی کی صف میں کھڑا ہو جائے۔ ہاں اپنی سیاست وغیرہ کی ضرورت کے مطابق وہ بعض اوقات اُسے کرپٹ قرار دینے کی پوری ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے وہ سُنی سنائی بات بغیر تصدیق کے آگے پھیلا دے۔ اِسی طرح میں یہ سمجھتا ہوں کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے وہ عمران خان کو مالی طور پر کرپٹ قرار دے۔ مجھے یقین ہے پانی کے خوفناک مسائل حل کرنے کے لئے، خصوصاً ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک دیانتدار وزیر اعظم نے اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ یا فنڈز وغیرہ مانگنے کی جو اپیل کی ہے اُس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ عمران خان کی ایک خوبی یہ بھی ہے وہ جس کام کا ایک بار دِل سے ارادہ کر لے اُس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ ہمیشہ یہ بات بہت زور دیکر کہتا ہے ” انسان کے اختیار میں صرف کوشش ہے، کامیابی یا ناکامی اللہ کے اختیار میں ہے“۔ سو یہ ممکن ہی نہیں انسان کوئی کام نیک نیتی سے شروع کرے، اور اُس میں اُس کا کوئی ذاتی مفاد بھی نہ ہو، تو اللہ کی طرف سے اُس میں برکت نہ پڑے اور وہ پورا نہ ہو۔۔ لہٰذا میں پورے وثوق سے کہتا ہوں ڈیموں کی تعمیر کا جو بیڑا عمران خان نے اٹھایا ہے، اور اُس سے پہلے اس کی بنیاد محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے رکھی، اور اب آرمی چیف بھی اِن جذبوں میں شریک ہوگئے ہیں تو یہ کارنامہ اِن تینوں کی کوشش سے ضرور پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ پانی کے حوالے سے پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ انتہائی خوفناک ہیں۔ عمران خان چونکہ ہمیشہ لوگوں کی ڈھارس بندھاتا ہے۔ وہ خود مایوس ہوتا ہے نہ لوگوں کو کرتا ہے تو اپنے اِس جذبے کے مطابق اپنی طرف سے اُس نے شاید درست ہی کہا ہے کہ ” ہم نے ڈیم تعمیر نہ کئے تو اگلے سات آٹھ برسوں میں ملک میں قحط والی صورتحال ہوگی“۔ میرے خیال میں سات آٹھ برس کا عرصہ اُس نے کچھ زیادہ بتا دیا ہے۔ پانی کے مسائل کے حوالے سے میری جو معلومات ہیں، خصوصاً وزارت آبی و سائل کے کچھ افسروں نے مجھے جو بریف کیا ہے ، اُس کے مطابق اس ایشو پر فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو 2022 میں غسل وغیرہ کے لئے تو دور کی بات ہے پینے کے لئے بھی لوگوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق پانی نہیں ملے گا۔ ہمارے سابقہ فوجی وسیاسی حکمرانوں کا اس حوالے سے بڑا گھناﺅنا کردار ہے۔ ہمارے افسران اُن سے بھی دو ہاتھ آگے رہے۔ اِن سب نے ملکی مفاد کو باقاعدہ ایک کھلونا سمجھا ہوا تھا۔ میں اکثر یہ کہتا اور لکھتا بھی ہوں اِس ملک کی تین شخصیات ، وزیر اعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف نیک نیتی سے مل کر یہ فیصلہ کر لیں ہر قسم کے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اِس ملک کی تقدیر انہوں نے بدلنی ہے ، خدا کی قسم اس میں صدیاں نہیں چند مہینے ہی لگیں گے۔ اب پہلی بار بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے مذکورہ بالا تینوں شخصیات
ملکی مفاد میں اکٹھی ہیں۔ سو ملکی تقدیر بدلنے کا اب بھی آغاز نہ ہوا یہ بڑی بدقسمتی ہوگی۔ میرے خیال میں تو مذکورہ بالا تینوں شخصیات اب ایک پیج پر ہیں۔ یا ایک ہی کشتی کی سوار ہیں تو ان کی باہمی رضا مندی سے ایک کمیشن بننا چاہئے جو یہ جائزہ لے کہ پاکستان کو اسقدر خوفناک مسائل سے دو چار کرنے کے ذمہ داران کون کون ہیں؟ خصوصاً وہ کون سے فوجی ، سیاسی و انتظامی حکمران ہیں جو پانی کے حوالے سے ملک کو ایک ایسے خوفناک مقام پر لے آئے جہاں آگے سوائے قحط کے کچھ نظر نہیں آتا؟۔ اِن سب کو سزائیں ملنی چاہئیں۔ ورنہ ملکی وسائل کا صِرف اور صرف ذاتی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال عارضی طور پر تو شاید رک جائے، مستقل طور پر نہیں رک سکے گا۔ جہاں تک ڈیم کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے جذبوں کا تعلق ہے وہ انتہائی قابل قدر ہیں۔ اُس کی کچھ خصوصیات کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی اُس پر جان تک نچھاور کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، رقم تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مجھے امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک میں جانے کا اکثر اتفاق ہوتا رہتا ہے۔ وہاں سالہا سال سے مقیم لاکھوں پاکستانی خود کو ایک ایماندار معاشرے کا عادی بنا چکے ہیں۔ اِس کے اُنہیں ہر لحاظ سے بے پناہ فائدے بھی ہوئے ہیں۔ اب وہ دِل سے چاہتے ہیں پاکستان میں بھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ بددیانتی کا تصور ہی ختم ہو جائے۔ وہ سمجھتے ہیں سیاستدانوں میں اب صِرف عمران خان ہی ایسا رہ گیا ہے جو کرپشن وغیرہ ختم یا کم کر سکتا ہے۔ اگلے روز میں نے عرض کیا تھا ” وزیر اعظم عمران خان کو ڈیم کے لئے اوورسیز پاکستانیوں سے فنڈز یا چندے وغیرہ کی اپیل کرنے سے پہلے اپنی جیب سے بھی کچھ دینے کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ اُن کی اپیل کو مزید تقویت ملتی۔ اِس پر مجھے بیرون ملک مقیم کئی پاکستانیوں ، خصوصاً کینیڈا میں مقیم پی ٹی آئی کے بانی رکن جناب حفیظ خان ، کیلگری میں مقیم انتہائی انسان و ادب دوست شخصیت برہان خان اور آئر لینڈ میں مقیم برادرم امتیاز خان کے بڑے جذباتی فون آئے اور فرمایا” ہمارے نزدیک اِس کی کوئی اہمیت ہی نہیں کہ ڈیم فنڈ میں خان صاحب نے اپنی جیب سے کیا دیا ہے کیا نہیں دیا؟۔ یہ کم ہے کہ خان صاحب نے ہمیں جذبہ دے دیا ہے ہم اپنے ملک کے لئے کچھ کر سکیں۔ اِن تینوں ” خانوں “ کے منہ سے عمران خان کے بارے میں یہ سن کر میں سوچ رہا ہوں اپنے یہ الفاظ واپس لے لوں کہ ” عمران خان نے خود کیا دیا ہے؟“!!

مزیدخبریں