میٹھی جیل(6)

11 ستمبر 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج چھٹی قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                دس منٹ اسی ادھیڑبن میں رہا کہ پہلے کہاں فون کروں،ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جہاز کے راستے میں کھڑے امیگریشن افسر نے خالصتا امریکی انداز میں پکارا © ©ہے ” مسٹر اینوار پلیز کم “ بے دلی کے ساتھ اس کے پاس پہنچا ،اس نے پاسپورٹ طلب کیا اور وہیں کھڑے کھڑے انٹری سٹیمپ لگا تے ہوئے کہا ویل کم ٹو یو نائٹیڈ سٹیٹس، میں نے کہا کہ شکریہ جناب لیکن میری فلائٹ تو چلی گئی۔ جس پر مسکراتی آنکھوں کے ساتھ اس نے بتایا کہ فلائٹ ابھی نہیں گئی اور مجھے جلدی کرنی چاہیے یہ سن کر بھاگم بھاگ جہاز کی طرف روانہ ہوا© ،دروازے پر موجود سٹاف نے نہایت سرد مہری سے استقبال کیا جونہی میں جہاز میں داخل ہوا پہلے سے موجود ہر مسافر نے مجھے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا ،جس کا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ یہ فلائٹ میری وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی ہے کیونکہ ائیر لائن مجھے بورڈنگ کارڈ جاری کرچکی تھی ۔اپنی نشست کی تلاش میںمستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے اور نثار ناسک کا واقعہ بھی یاد آیا کہ نثار ناسک نے تارڑ صاحب کے سفر نامے پڑھ کر یہ فرض کرلیا تھا کہ جس ملک کی سیر پر وہ جارہے ہیں وہاں کی خواتین آنکھیں راہ میں بچھائے منتظر ہوں گی ،توقعات اتنی بلند تو نہ تھیں مگر پھر بھی دل کے کسی گوشے میں یہ خیال ضرور چٹکیاں لے رہا تھا کہ کاش ساتھ والی نشست پر پہلے ہی کوئی ماہ جبیںبراجمان ہو اور جس کی بدولت پندرہ گھنٹے سے زائد کا یہ سفر خوشگوار گزر جائے ۔تاہم اکانومی کلاس میں جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا توں توں میری امیدیں دم توڑتی جارہی تھیں کہ حالات خراب سے مخدوش ہوتے جارہے تھے ،پھر وہی ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی کہ جس سیٹ نمبر کا بورڈنگ پاس لہراتے ہوئے پیسیج سیٹ پر پہنچا وہاں ایک انتہائی ”©چٹا سیاہ© “موٹا تازہ افریقی ساتھ والی نشست پر براجمان تھا ۔سلمی آغا نے بہت پہلے گارکھا ہے ۔
دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے
مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا مگر فلائٹ تھی کہ پھر بھی روانہ نہیں ہوئی ،ابھی بھی کوئی مسافر رہتا تھا تھوڑی دل کو تسلی ہوئی کہ اس فلائٹ کی تاخیر کا تنہا ذمہ دار نہ تھا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک پاکستانی شناسا صورت نظر آئی جو غالبا میڈیکل فورتھ ائیر کا طالبعلم تھا اور اپنے والد سے ملنے امریکا جارہا تھا ،امیگریشن سے قبل اضافی فارم بھرتے وقت اس سے لاونج میں ملاقات ہوچکی تھی ،وہ ائیر ہوسٹس کے ساتھ اسی نشست پر آکھڑا ہوا جس پر بیٹھے ”چٹے سیاہ“ ایفریقن امریکن کو میں دل ہی دل میں کوس چکا تھا۔ معلوم پڑا کہ ساتھ والی نشست اس نوجوان کی تھی،آج سمجھ میں آیا تھا کہ موت کا منہ دیکھ کر بخار کیسے قبول ہوجاتا ہے ،خدا خدا کرکے فلائٹ نے ٹیک آف کیا اور تقریبا پندرہ گھنٹوں بعد اسی تاریخ میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائر پورٹ پر لینڈ کیا جس تاریخ میں پاکستان سے روانہ ہوا تھا ،معلوم پڑا کہ امریکا کا وقت پاکستان سے دس گھنٹے پیچھے تھا جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹے سے زائد وقت سفر میں گزارنے کے باوصف اسی تاریخ میں لینڈنگ ممکن ہوئی تھی۔یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ امریکا میں سات ٹائم زون ہیں اور خود امریکا کی شرقی ریاستوں اور مغربی ریاستوں کے وقت میں تین گھنٹے کا فرق ہے کیونکہ دونوں ساحلوں میں ا ٹھائیس سو میل کا فاصلہ حائل ہے جبکہ پاکستان سے امریکا کا فاصلہ ساڑھے بارہ ہزار کلومیٹربنتا ہے ۔پچاس ریاستیں اور ایک واشنگٹن ڈی سی (ڈسٹرکٹ آف کولمبیا)کو ملا کر ہم ریاست ہائے متحدہ امریکا بولتے ہیں جبکہ ان میں سے ہوائی اور الاسکا زمینی طور پر ساتھ جڑی ہوئی ریاستیں نہیں ہیں۔پچھلے دنوں ہمارے ہاں جو ”گھنٹہ تبدیلی “کا بہت شور سنتے رہے ہیں اس تبدیلی کو وہاں چلتے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہے اور اس کے ذریعے وہ دن کی روشنی کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہیں اور کوئی شور نہیں کرتا اور نہ ہی احسان جتلاتا ہے کیونکہ وہاں پر کام کرنے والے افراد خواہ اپنی گاڑی پر کام پر جائیں یا ایک ،دو یا تین بسیں اور ٹرینیں بدل کر جائیں انہیں سات بجے اپنے کام کی جگہ پر پہنچنے کا ہنر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں بہانے بنانے یا جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی ،ان فنون میں صرف ہم مسلمان ہی طاق ہیں ۔
نیویارک ائیرپورٹ پر اندرون ملک آمد کے ٹرمینل سے باہر نکلے صرف سامان کی وصولی میں کچھ منٹ صرف ہوئے جس کے بعد ڈھلتی روشنی میں ہم ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ شاید کوئی شناسا چہرہ نظر آجائے کیونکہ ہمدم دیرینہ ناصر قیوم کے ساتھ ساتھ واشنگٹن ڈی سی کے پاکستانی سفارتخانے میں متعین پریس اتاشی ندیم ہوتیانہ کو بھی احتیاطا اپنی آمد کی پرواز سے آگاہ کررکھا تھا کہ ناصر قیوم اگر کسی وجہ سے وہاں نہ پہنچ پائیں تو کم از کم ایک آدمی وہاں ضرور موجود ہو،بھائی !امریکا میں لوگوں کے پاس وقت نہیں بھی تو ہوتا ۔ فون کرنا ضروری تھا کہ اس کے بغیر چارہ نہ تھا جبکہ فون کے لئے کھلے پیسے درکار تھے چارو ناچار ائیرپورٹ کے اندر ہی سے سو ڈالر کا کھلا لینے کے لئے ایک دو سٹالز سے منہ کی کھانے کے بعد خریداری کی تو معلوم پڑا کہ سو ڈالر مجھ جیسے غریب ملک کے مسافر کے لئے تو ایک بڑی رقم تھی ہی خود امریکن سو ڈالر کا نوٹ بہت جانچ پڑتال کے بعد وصول کرتے ہیں کیونکہ ان کی کرنسی کا یہ سب سے بڑا نوٹ تھا۔مارکر اور الٹرا وائلٹ لائٹ سے چیک کرنے کے بعدنوٹ قبول کرلیا گیا تھا ۔ ایک طویل عرصے تک دنیا کا واحد سپر پاور رہنے والے اس ملک میں کسی کو پانچ ہزار کا کرنسی نوٹ اور چالیس ہزار کا پرائز بانڈ متعارف کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، کہتے ہیں کہ بڑا کرنسی نوٹ کرپشن کے فروغ کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے یہ جو کروڑوں روپے کے کمیشن کھانے والے سرکاری افسران اور عوامی نمائندے ہیں ان کی سہولت بھی تو اسی میں ہے کیو نکہ اربوں کی بات ایک طرف اگر کسی کوصرف ایک کروڑ روپے رشوت یا کمیشن لینا ہے تو سو روپے کے نوٹ میں اسے لیجانے ، دینے اور پھر پانی کی ٹینکی میں چھپانے تک دانتوں پسینہ آجائے گا ۔ بہرحال باہر نکل کر ناصر کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ انٹرنیشنل آمد کے ٹرمینل پر خاصی دیر سے موجود تھے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ پاکستان قونصلیٹ نیویارک سے خالد محمود بھی منتظر تھے کہ ندیم ہوتیانہ جو واشنگٹن ڈی سی میںتھے نے مسعود انورکو درخواست کی تھی جنہوں نے خالد محمود کو بھجوارکھا تھا ، ان کا شکریہ ادا کیا اور سامان ناصر کی گاڑی میں رکھا اور لانگ آئی لینڈ کی جانب روانہ ہوئے کہ میرے لئے کرائے کے کمرے کا نتظام لانگ آئی لینڈ کے ڈئیرپارک میں تھا ۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں