Source : Yahoo

کینسر اور امراض قلب سے بچاو
11 ستمبر 2018 (00:11) 2018-09-11

انگور: آپ کی صحت کا محافظ
یہ پھل کینسر اور امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے
ترجمہ: عائشہ لیاقت
انگور میں بہت سے مفید غذائی اجزاءپائے جاتے ہیں جیسے پولی فینولک انٹی آکسیڈنٹ ، وٹامنز اور معدن وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ متوازن غذا کھانے والے بہت سے افراد اپنی غذا میں انگورکو ضرور شامل کرتے ہیں خواہ یہ سالم کھائے جائیں یا جوس اور سلادکے ساتھ لیے جائیں۔
انگور ایک ایسا پھل ہے جسے باغوں کے علاوہ گھروں میں بھی بیلوں پر بھی اُگایا جا سکتا ہے۔ انگور بنیادی طور پر یورپ اور بحیرہ روم کے خطے کا پھل ہے لیکن اب دنیا میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ انگورکی کئی اقسام ہیں جن میں زرد و سبز، سفید ، سرخ اور سیاہ انگور زیادہ مقبول ہیں۔ انگور میں ایک پولی فینولک مادہ پایا جاتا ہے اور یہی مادہ ہے جو اسے مختلف رنگ دیتا ہے۔ انگوروں میں مختلف اقسام کے انٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔
انگور کی بنیادی طور پر تین نسلیں ہیں جن میں اول یورپی، دوئم شمالی امریکی اور سوئم فرانسیسی ہائبرڈ قسم ہے۔ یہ تو انگور کا کچھ تعارف ہوگیا ، اب آئیے صحت کے لیے اس کے فوائدکے بارے میں جانتے ہیں:
کینسر اور امراض قلب سے بچاو
انگوروں میں ایک مادہ رزویراٹرول (Resveratrol) پایا جاتاہے جو کہ پولی فینولک فائیٹو کیمیکل پر مشتمل ہوتا ہے۔ رزویراٹرول ایک انتہائی طاقتور انٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ بڑی آنت اور غدودوں کے کینسر ، دل کی بیماریوں ، اعصابی بیماریوں ، الزائمر اور وائرل و فنگل انفیکشن کے خلاف بہت مفید ہوتا ہے۔
فالج کا خطرہ کم کرتا ہے
رزویرا ٹرول خون کی نالیوں میں مالیکیولر میکنزم میں تبدیلی لاکر فالج کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ اس طرح سے کام کرتا ہے کہ پہلے خون کے دباﺅ کے باعث نالیوں کو ہونے والے نقصان کوکم کرتا ہے اوراس کے بعد نائیٹرک ایسڈ کی پیدوارکو بڑھا کر خون کی نالیوں کو نرم کرتا ہے اور یوں دونوں صورتوں میں بڑھتے ہوئے بلڈپریشرکو کنٹرول کرتا ہے۔ پولی فینولک انٹی آکسیڈنٹ کی ایک اور قسم انتھو سائنز سرخ انگور میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ یہ فائٹو کیمیکلز کی ایک قسم ہے جو انٹی الرجی، انٹی ورم ، انٹی مائیکروبائل اور انٹی کینسر ہے یعنی یہ ان تمام طبی مسائل کے خدشے کوکم کرنے میں معاون ہے۔
کولیسٹرول سے پاک غذا
اس طرح ایک اور انٹی آکسیڈنٹ کیچنز بھی سفید اور سبز انگور میں بکثرت ہوتا ہے اور یہ بھی صحت کے تحفظ کے لیے کئی قسم کے کردار ادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ انگور میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں یعنی 100گرام تازہ انگور میں صرف 69کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ کولیسٹرول کا تناسب صفر ہوتا ہے۔
خون کی کمی دورکرے
انگور میں دیگر معدنیات جیسے فولاد ، کاپر اور مینگنیز بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ کاپر اور مینگنیز جسم میں خون کی کمی کو دور کرنے میں معاون ہوتے ہیں جبکہ فولاد انگور میں اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ اس کی کشمش بنائی جاتی ہے۔ اس طرح 100گرام تازہ انگور میں لگ بھگ 191ملی گرام الیکٹرولائٹ پوٹاشیم ہوتی ہے جو صحت کے لیے بہت مفید معدن ہے۔
وٹامننزکا ذخیرہ
اس کے علاوہ انگور وٹامن سی، وٹامن اے ، وٹامن کے، کیروٹینز اور بی کمپلیکس وٹامنز جیسے پائری ڈوکسنز، رائبوفلاون اور تھائیامن کا بھی بہت اچھا ذریعہ ہیں۔

ناشپاتی: وٹامنز اور طاقت کا خزانہ
قدرت نے ہر موسم کے مطابق نباتات، پھل اور سبزیاں پیدا کی ہیں۔ آج کل چونکہ برسات کا اختتام ہے تو ان دنوں ناشپاتی ہمیں بہت زیادہ بازاروں میں فروخت ہوتی نظر آرہی ہے۔ ہر پھل کی طرح ناشپاتی کے بھی بہت زیادہ فوائد ہیں۔
بڑھاپا دور کرے اوروزن گھٹائیں
ناشپاتی کا جادوئی فائبر کولیسٹرول کو قابو میں رکھتا ہے۔ ایک مناسب سائز کی ناشپاتی اسی وزن کے سیب کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ فائبر ہوتا ہے۔ ناشپاتی میں پایا جانے والا فائبر جسم میں بہت تیزی سے حل ہوکر اس کا حصہ بنتا ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو بڑھاپے سے پریشان ہیں ان کے لیے ناشپاتی بہترین پھل ہیں کیونکہ اگر آپ وزن گھٹانا چاہتے ہیں تو اس پھل کو ضرور آزمائیے کیونکہ یہ بھوک کو دباتی ہے اور اندھا دھند کھانے سے بچاتی ہے۔
ناشپاتی میں کیلوریز
100گرام ناشپاتی میں کیلوریز کی تعداد 57 ہوتی ہے۔ فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاءسے بھرپور یہ پھل کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔ ناشپاتی میں وٹامن سی، وٹامن کے اور کاپر جیسے اجزاءبھی موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے والے مضر عناصر کی روک تھام کرکے جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
امراض قلب اورفالج سے تحفظ
ناشپاتی میں موجود فائبر جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر امراض قلب سے تحفظ دیتا ہے۔ناشپاتی کو روزانہ کھانا فالج کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
بریسٹ کینسرسے نجات
ناشپاتی میں موجود فائبر ایسے خلیات کی روک تھام کرتا ہے جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ناشپاتی کھانا خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 34فیصد تک کم کرسکتا ہے۔
موٹاپے کاعلاج
جو لوگ ناشپاتی کو روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانے اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشپاتی فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ناشپاتی آنتوں کے افعال کو بہتر کرکے قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ہڈیوں کے امراض کاعلاج
آج کل ہڈیوں کے امراض کافی عام ہوچکے ہیں، اگر ہڈیوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں اور بھربھرے پن کے مرض کو دور رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ ناشپاتی کھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین طب کی تجویز کردہ کیلشیم کی مقدار کھانا بہت ضروری ہے جبکہ ہائیڈروجن کی سطح کو متوازن رکھنا بھی اہمیت رکھتا ہے، ناشپاتی کیلشیم کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دینے والا پھل ہے۔
طاقت کا خزانہ
ناشپاتی میں موجود گلوکوز کی مقدار کمزوری کی صورت میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے، یہ گلوکوز بہت جلد جسم میں جذب ہوکر توانائی کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔
پیدائشی معذور بچوں کاعلاج
فولک ایسڈ حاملہ خواتین کے لیے بہت اہم ہے تاکہ بچے پیدائشی معذوری سے بچ سکیں، ناشپاتی میں بھی فولک ایسڈ موجود ہے اور دوران حمل اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
بخار کاعلاج
ناشپاتی اپنی تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ ٹھنڈک بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ناشپاتی کے دیگر فوائد:
ناشپاتی کھانے کے بہت سارے فوائد ہیں جودرج ذیل ہیں:
٭ناشپاتی مسوڑوں سے خون کے آنے کو روکتی ہے۔
٭ناشپاتی دانتوں کو گرم ٹھنڈا لگنے سے محفوظ رکھتی ہے۔
٭ناشپاتی سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔
٭ناشپاتی معدے کو درست رکھتی ہے اور منہ کی بد بو کو دور کرتی ہے۔
٭ناشپاتی سے پرانی سے پرانی قبض دور ہو جاتی ہے۔
٭ناشپاتی سے بچوں میں دمہ کی شکایت نہیں ہوتی۔
٭ناشپاتی سے سانس کے مریضوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
٭ناشپاتی بواسیر میں کھانا مفید ہوتا ہے۔
٭ناشپاتی جگر کی سوزش میں فائدہ مند ہے۔
٭ناشپاتی کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھتی ہے۔
٭ناشپاتی کو باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو جلد صاف ہو جاتی ہے۔
٭ناشپاتی کھانے سے بال مضبوط ہوتے ہیں۔
٭ناشپاتی میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اس لئے اسے ہر کوئی کھا سکتا ہے چاہے وہ موٹاپے کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔
٭ناشپاتی کا استعمال اگر بخار میں کیا جائے تو مفید رہتا ہے۔
٭ناشپاتی کینسر کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے۔


ای پیپر