نمائشی یا بااختیار؟عارف علوی کیسے صدر ہوں گے؟

11 ستمبر 2018 (00:01)

حافظ طارق عزیز:انتخابات 2018ءکے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی اور مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، اور4 ستمبرکو الیکش کا آخری مرحلہ مکمل ہونے یعنی صدارتی الیکشن کے بعد صدر مملکت بھی تحریک انصاف ہی کے ہوں گے۔ اس کامیابی سے پی ٹی آئی کی پوزیشن اور بھی زیادہ مضبوط ہوگئی ہے جب کہ اپوزیشن کا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا خواب ٹوٹ گیا ہے۔


اپوزیشن کی ”محبت“ سے صدر پاکستان منتخب ہونے پر عارف علوی کو مبارک باد، بلکہ قوم کو مبارک باد کہ وہ ایک منتخب اور فعال صدر دیکھے گی جو ملک میں موجود مسائل کے حل کے لیے عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرے گا، جو فاٹا ریفارمزکے لیے کام کرے گا، جو دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت چہرے کو روشناس کرائے گا، جو امن و امان کے لیے کام کرے گا۔ عارف علوی یقینا پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ موجودہ قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں، جو استعفیٰ دینے کے بعد صدرکے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔ اس سے قبل بھی وہ جون 2013ءسے مئی 2018ءتک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن رہ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے فعال رکن رہے ہیں، اور یہ تحریک انصاف کی کارکردگی اور صاف نیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عمران خان نے ایک ایسے شخص کو اس منصب کے لیے چنا ہے جو نئے پاکستان میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صدر پاکستان نے 1996ءمیں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی۔ اور ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں ہوتا ہے۔1996ءمیں وہ پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ایک سال کے لیے رکن بنے اور1997ءمیں وہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر بن گئے۔ اور مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے اب وہ ملک کے تیرھویں صدر بنے ہیں، انہوں نے قومی اسمبلی سینیٹ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اپوزیشن امیدواروں کو شکست سے دوچار کیا۔ جب کہ مولانا فضل الرحمٰن دوسرے اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن تیسرے نمبر پر رہے۔ قومی اسمبلی و سینیٹ میں 424 ووٹوں میں سے عارف علوی نے 212، فضل الرحمٰن نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کئے۔ سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے، جن میں 1مسترد ہوا، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے 100 اور پی ٹی آئی کے عارف علوی نے 56 اور مولانا فضل الرحمٰن نے ایک ووٹ حاصل کیا۔ فارمولے کے تحت اعتزاز احسن کو 39 اور عارف علوی کو 22 ووٹ ملے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ ڈالے، عارف علوی نے 45 اور مولانا فضل الرحمٰن نے 15 ووٹ حاصل کئے جبکہ اعتزاز احسن کوئی ووٹ نہ لے سکے، صوبائی اسمبلی میں ہونے والی پولنگ چیف جسٹس سیدطاہرہ صفدر کی سربراہی میں انجام کو پہنچی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کی نگرانی میں پولنگ ہوئی،112 میں سے 111 ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے،عارف علوی نے 78،فضل الرحمٰن نے 26 اور اعتزاز احسن نے 6 ووٹ حاصل کئے، فارمولے کے تحت بالترتیب 39،13 اور 2 ووٹ حاصل کئے۔ پنجاب اسمبلی میں 354 میں 351 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں سے 18 مسترد قرار پائے، عارف علوی نے 186، فضل الرحمٰن نے 141 اور اعتزاز احسن نے 6 ووٹ حاصل کئے، پولنگ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس یاور علی کی نگرانی میں ہوئی۔ صدارتی الیکشن میں اپوزیشن متفق امیدوار نہ لاسکی، جس کی بدولت پی ٹی آئی کے عارف علوی کا راستہ پہلے ہی ہموار ہوگیا تھا، جس کا ملبہ (ن) لیگ نے پی پی پر ڈالا اور اس پر پی ٹی آئی کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا۔


خیر اُمید یہی کرنی چاہیے کہ عارف علوی ”ڈمی“ صدر نہ ہوں۔ عارف علوی کے لیے ہماری ہمدردیاں اس لیے بھی ہیں کہ وہ عمران خان کے وژن کو آگے لے کر چلیں گے۔ اور ویسے بھی عمران خان وزیر اعظم بننے سے قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ الیکشن جیت کر بر سر اقتدار آنے کے بعد صدارتی نظام حکومت کو اپنانا پسند کریں گے۔ وہ یہ بیان اس لیے بھی دے چکے ہیں کیوں کہ پارلیمانی نظام کی وجہ سے قوم کو سیاست میں ان جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ طاقتور خاندانوں کو دیکھنا پڑتا ہے جنہیں پاکستانی روز اول سے میدانِ سیاست میں گھوڑے دوڑاتے دیکھ رہے ہیں۔


حقیقت میں ماضی میں خاص طور پر اٹھارہویں ترمیم کے بعد صدرہمیں تقریبات میں ہی نظر آیا کرتے تھے، ہمارے ہاں صدر کے اختیارات اتنے ہی رہ گئے ہیں جتنے برطانیہ کی ملکہ اور بھارت کے صدر کے ہیں۔ لیکن صدر کے اختیارات میں وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کی توسط سے اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔اور ویسے بھی اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے ”75 فیصد“ جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ بیشتر ملکوں میں صدارتی نظام کو فوقیت حاصل ہے۔ اس نظام میں صدر حکومت اور مملکت، دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام نے برطانیہ میں نشوونما پائی۔ یہی وجہ ہے، برطانیہ کی اکثر نو آبادیاں جب آزاد ہوئیں، تو انہوںنے اپنے سابق انگریز آقاﺅں کے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنانا آسان سمجھا اور اس کی خامیوں پر زیادہ غور و فکر نہیں کیا۔ اس نظام حکومت کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں آزادی کے فورا بعد انگریز آقاﺅں کے طفیلی بہت سے جاگیردار، امرا اور با اثر لوگ حکومت کے ایوانوں میں پہنچ گئے۔ وجہ یہ کہ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں انھیں ہی قوت و اختیار حاصل تھا۔ چناں چہ وہ افسر شاہی کے ساتھ مل کر سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے۔ مختصر یہ کہ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام حکومت کی وجہ سے پسندیدہ افراد، اثرو رسوخ رکھنے والے افراد، بڑی برادریوں والے افراد، مال دار شخصیات اور جو کوئی بھی اسمبلی میں پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جس کے بعد وہ ذاتی مفادات مقدم رکھتے ہیں، انہیں قانون سازی کرنے اور حکومت چلانے سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبے انجام دینے کے لیے فنڈز ملنے لگے۔ یوں مال کمانے کا نیا در کھل گیا۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ70 سالوں میں جب جب ملک صدر کے زیر انتظام رہا تب تک ترقی کر تا رہا جیسے پہلے گیارہ سال (1947ءسے 1958ءتک) جس میں کئی جمہوری حکومتیں برسر اقتدار آئیں پاکستان کی جی ڈی پی کی اوسط شرح 3.1 فیصد رہی۔ دوسرے دور (1958ءسے 1971ءتک)، جس میں ملک میںبنیادی طور پر جنرل ایوب خان 1969ء۔1958ء) کی حکومت تھی ملک میں نجکاری اور صنعتکاری کی حکمت عملی کو اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت ایشیاءکی سب سے تیز رفتار ترقی کرتی ہوئی معیشت بنی۔ اس دور میں ملک کی جی ڈی پی کی اوسط شرح6.8 فی صد تک جا پہنچی۔ اس دور میں، جس کو ساٹھ کی سنہری دہائی کہا جاتا ہے، بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی اور صنعت سازی میں 9 فیصدسالانہ اضافہ مشاہدے میں آیا، نیز سبز انقلاب کے نتیجے میں زرعی شرح 4 فیصد سالانہ تک ہوگئی۔ 1969ء میں ہماری برآمد ات انڈونیشیا، ملائشیا اور تھائی لینڈ کی مجموعی بر آمدات سے بھی بڑھ گئیں۔ تیسرا دور (1971ءسے 1977ءتک ) ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا دور تھاجس میں جی ڈی پی کی شرح تیزی سے گرتی ہوئے3.9 فی صد سالانہ پر آگئی۔ اس کے بعد چوتھا جنرل ضیاءالحق کا دور آیا (1978ءسے 1988ءتک ) ، اس میں اوسط جی ڈی پی پھر بڑھ کر 6.6 فی صد سالانہ ہوگئی۔ پانچویں جمہوری مرحلے(1988ءسے1999ءتک) جس میں چار مختصر مدتوں کے لئے بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومت رہی ، جی ڈی پی کی سالانہ اوسط شرح گر کر4.5 فیصدرہ گئی، جب کہ چھٹے مرحلے (1998ءسے 2008ءتک) میں جس میں جنرل پرویز مشرف حکمراں تھے یہ شرح بڑھ کر6 فیصد ہوگئی، جب کہ صنعت کاری کے شعبے میں سالانہ شرح 11.3فیصد تک بڑھی اور غربت کی شرح میں نمایاں کمی نظر آئی۔ اس دوران آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے میں متعارف کروائی جانے والی اصلاحات کے نتیجے میںاور تیز رفتار ترقی ہوئی۔ ساتویں دور میں جس میں پی پی پی (2008ءسے 2013ءتک) بر سر اقتدار رہی GDPکی اوسط شرح تیزی سے گر کر2.9 فیصد پر آگئی۔ اس کے بعد برسر اقتدار آنے والے پی ایم ایل این کے دور حکومت (آٹھواں مرحلہ )میں جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد تھی جو ماضی کی حکومتوں کی ترقی سے کم ہی رہی۔


ان تمام باتوں کو لکھنے کا مقصد یہ قطعاََ نہیں ہے کہ ملک میں یک دم صدارتی نظام کو رائج کر دیا جائے بلکہ صدرکو ڈمی بنانے کے بجائے انہیں بااختیار بنایا جائے،1997ءمیں تیرھویں ترمیم کے بعد اس عہدے کے ساتھ جو زیادتی کی گئی وہ بحث ایک طرف مگر اُن کے اختیارات کو متحرک بنایا جائے، فاٹا جیسے علاقوں جہاں اُن کے اختیارات ہیں انہیں استعمال میں لایا جائے، تعلیم میں بہتری کے حوالے سے ان بڑے اور اہم ترین ”عہدوں“ کی خدمات لی جائیں، گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح کے لیے کام کیا جائے، جن علاقوں کی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ہے، وہاں کے نمائندہ کے طور پر معاملات کو دیکھیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم یا دیگر وزراءاپنی مصروفیات میں سے وقت نہ نکال سکیں اور جانا بھی ضروری ہو وہاں صدر پاکستان کو جانا چاہیے جیسے یو این او ، او آئی سی اور دیگر تنظیمیں ہیں۔


ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ عارف علوی عوام کی فلاح کے لیے کام کریں گے،کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے بہت سے کام انہیں کرنے ہیں۔ اُمید واثق ہے کہ وہ ہماری اُمیدوں پر پورا اُتریں گے۔ جیساکہ وہ واضح بھی کر چکے ہیں کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے وہ کسی پارٹی کے نہیں، پورے پاکستان کے صدر ہوں گے اور غیر جانبدار رہ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد اور آئین کی دفعہ58ٹو بی کے خاتمے سے صدر مملکت کے عہدے کی حیثیت بڑی حد تک محض نمائشی رہ گئی ہے مگر قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر عارف علوی امور مملکت میں وزیراعظم عمران خان کے مو¿ثر مددگار ثابت ہوں گے۔ الیکشن سے پہلے میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ بطور صدر ممنون حسین بنیں گے نہ آصف زرداری یعنی نہ محض نمائشی نہ مختار مطلق۔ وہ وفاق کے نمائندے کے طور پر چاروں صوبوں میں یک جہتی کی علامت ہوں گے ۔ امید ہے کہ عمران خان نے جس طرح صوبائی گورنروں کو عوامی مسائل کے حل میں سرگرم رہنے کا اختیار دیا ہے اسی طرح وہ صدر مملکت کو بھی فعال بنائیں گے۔

مزیدخبریں