پنجاب کے سلطان کا وژن
11 اکتوبر 2020 (16:49) 2020-10-11

سلطان کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے اور اس کا اثر پنجاب کے ہر گھر میں محسوس کیا جا رہا ہے اس سے پہلے شوباز کے دس سالہ عہد میں مایوسی،  غربت،  محرومی اور نظرانداز کا بسیرا تھا۔اس جادو نے محرومی کے آسیب کو دور مار بھگایا ہے۔ اب پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کرنے والا ایک عام انسان کی طرح سوچنے والا، دوسروں کے مسائل حل کرنے میں جان لگانے والا سردار عثمان بزدار ایک امید کی کرن بن کر 2018 کے الیکشن میں ابھرا تو نہ صرف سرائیکی وسیب کے لوگوں کے ماتھے کا جھومر بنے بلکہ پورے پنجا ب کے عوام کے دلوں پر میں راج کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے فیصلوں نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے سابقہ شوز باز وزیراعلیٰ سے موازنہ کسی طور  نہیں بنتا ہے۔ کیونکہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار سابقہ دور کے حکمران کی فرعونیت کا مقابلہ کرکے اب عوام کو اسلامی فلاحی ریاست کی طرف لے کر جارہے ہیں۔ رب العزت کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے اب مشکل وقت ختم ہوچکا ہے۔رواں سال پنجاب میں 1394 منصوبے مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ کوئی شہر،قصبے اور دیہات یکساں ترقی سے محروم نہیں رہے گا۔

 سردار عثمان بزدار نے اپنے دفتری آخراجات میں کفایت شعاری کی بڑی مثال قائم کی۔ ان کے مدبرانہ فیصلوں نے دشمنوں کے دانت کھٹے کردیے ہیں۔ آتے ہی تنخواہوں کے علاوہ دیگر اہم مراعات میں 60فیصد کمی کی۔ سابق وزیر اعلیٰ اور ان کے عزیزواقارب کی نجی رہائش گاہوں کی سیکورٹی پر تقریباً 2ہزار سے زائد اہلکار تعینات تھے ان میں 66فیصد کمی کی جو آخرجات 83کروڑ روپے سے کم ہوکر 20کروڑ روپے رہ گئے ہیں۔ رہائش گاہوں کی سیکورٹی میں 55کروڑ روپے کی کمی۔سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی بہتری اور نئی تعمیرات کی غلط روایت کا خاتمہ کیا۔ بیوہ کی گرانٹ بڑھا کر 20ہزار تک کردی گئی۔ وزیراعلیٰ نے چولستان کے لیے بے زمین کاشت کاروں کو سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی۔ اور اب زمین کی شفاف طریقے سے کمیٹیوں کی نگرانی میں الاٹمنٹ کی جائے گی۔ زمینداروں کے لیے فرد کے اجراء اور ملکیتی دستاویزات کی تصدیق کے حوالے سے نجی 

بینکوں کے ساتھ معاہد ہ مکمل کیااور وزیر اعلیٰ کی ہی کاوش سے کسانوں اور زمینداروں کو اب فرد کا اجراء بینکوں سے بھی ہوسکے گا۔ لمبی قطاروں میں اور کئی کئی دن ایک کام کے لیے متعد چکر لگانے سے بھی چھٹکارا۔ اب کاشت کار 30دن میں 09چکروں کی بجائے ایک وزٹ اور تین دنوں میں قرضہ حاصل کرسکیں گے۔ جدید ڈیجیٹل نظام سے اراضی انتقال کے فرسودہ نظام کا خاتمہ کیا۔اراضی سنٹر کی تعداد بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کئے۔

 اب تک پنجاب بھر میں 115نئے اراضی سنٹر کی تکمیل سے عوام کے لیے سہولت میسر ہو چکی ہے۔ شہریوں کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے 20موبائل اراضی سینٹر ز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 

اپوزیشن ذاتی مفادات کی سیاست کی آڑ میں ملکی مفادات سے کھیل رہی ہے۔ منفی سیاست کے ذریعے انتشار پھیلانے والے عناصر ملک کی ترقی نہیں چاہتے۔ ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالنے والے 22 کروڑ عوام سے دشمنی کر رہے ہیں۔اپوزیشن ملک کو پسماندگی، بیروزگاری اور اندھیروں کی جانب دوبارہ دھکیلنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ واویلا مچانے والوں کا حال کی طرح مستقبل بھی تاریک ہے۔ عوام کی حمایت سے ترقی کے سفر کے خلاف ہر سازش ناکام بنائیں گے۔ 

سرائیکی وسیب کے جھومر عثمان بزدار نے کرونا صورت حال پر 56 ارب کا ریلیف پیکج دیا۔صوبہ پنجاب میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 1521 ہے۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 10712ٹیسٹ کئے گئے۔ پنجاب میں اب تک 1329042 کورونا ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں.موسم سرما میں کورونا کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا-وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کے بروقت فیصلوں سے کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں بے پناہ مدد ملی ہے۔ پنجاب میں تحائف و مہمانداری میں 8کروڑ روپے کی بچت کی۔ جو ایک ریکارڈ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کا لاہور میں کوئی کیمپ آفس، نجی رہائش یا دفتر نہیں سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی بہتری اور نئی تعمیرات کی غلط روایت کو بھی بدل دیا گیاہے۔ تحائف، مہمانداری کے اخراجات 11کروڑ سے کم کرکے 3کروڑ روپے کردیے گئے اور اس طرح اس مد میں تقریباً 8کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے۔ 

وزیراعلیٰ سردار عثمان نے اپنے 18ماہ دور اقتدار میں اب خصوصی اقدامات کئے ہیں و ہ قابل قدر ہیں۔ جن میں سرکاری ملازمین کے لیے گرانٹس میں اضافہ کیا جس میں ان کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھا کر 20ہزار سالانہ  کی۔ میراج گرانٹ بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دیے۔ جب کوئی غریب صادق آباد سے لاہور آتا تھا تو رات سڑک پرگزارتا تھاکیونکہ ہوٹل میں رات گزارنے  کا خرچہ بہت تھا۔ لیکن پنجاب حکومت کو نا صرف غریبوں کی مشکلات کا ادارک ہے بلکہ ہمار ا عزم ہی پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانا ہے۔  وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار پہلی دفعہ وزیراعلیٰ بنے۔ آتے ہی پنجاب میں ریکارڈ مدت میں 50لاکھ ٹن سے زائد گندم کی خریداری کی او ر اس کی 15ارب سے زائد ادائیگی کی اور سند ھ میں PPP کی 12سال سے حکومت ہے وہ گندم کا ایک دانہ بھی ریکور نہیں کرسکے۔ پنجاب میں لائیو سٹاک کے حوالے سے بیرونی سرمایہ کاری سے جنوبی پنجاب میں لائیو سٹاک میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ مائیکر و اکنامکس کے تحت چھوٹے منصوبے انفرادی طورپر عوام کو روزگار فائدہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کی دیہی آبادی کا انحصار زراعت اور لائیو سٹاک پر ہوتا ہے۔ یعنی دودھ، گوشت اور انڈے کی پیداوار کا باعث بننے والے چھوٹے بڑے جانوروں کی فراہمی سے مویشی اور پرندے پال کر افراد کی معاشی زندگی میں خوشحالی کا انقلاب آئے گا۔

بعض لوگ بلاوجہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں کہ عمران خان بھینس، بکریوں، اور مرغیوں کی فراہمی سے ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ میں ان تنقید کرنے والوں کو صرف اتنا بتانا چاہتی ہوں کہ زراعت کی نسبت لائیو سٹاک کئی گنا پر کشش منافع بخش کاروبار ہے۔ نہ صرف یہ اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس کی نوعیت بھی ملازمت سے کہیں بہتر روزگار ہے۔ جس کے ماں باپ نے دودھ، انڈے بیچ کر تعلیم کا خرچ اٹھایا۔ اور دیہی علاقوں سے شہر بھیجا۔ وہ وزیر اعظم عمران خان کی اس اہم اسکیم کا فائدہ سمجھتے ہیں۔ سردار عثمان بزدار کے فکری تصورات اور زریں فیصلوں کے ثمرات ہوتے ہیں وژن جو سردار عثمان بزدار کے منصوبوں میں نظر آتا ہے۔ جو صبح کی پہلی کرن ثابت ہورہی ہے ابھی مکمل سورج نکلنا باقی ہے مکمل خوشحالی آنا باقی ہے۔ ویل ڈن سردار عثمان بزدار


ای پیپر