file photo

امریکہ صدر ٹرمپ وائٹ ہائوس میں بغیرماسک نمودار ہوگئے
11 اکتوبر 2020 (13:34) 2020-10-11

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کا شکار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ عوام میں بغیر ماسک نمودار ہوئے ۔

انہوں نے وائٹ ہائوس کی بالکونی سے جنوبی لان میں جمع اپنے سیکڑوں حامیوں کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ میں نمایاں بہتری محسوس کر رہا ہوں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری قوم اس خوف ناک چائنہ وائرس کو شکست سے دوچار کرنے والی ہے۔

امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کو چائنہ وائرس قرار دیا ہے۔ وائٹ ہائوس میں اکٹھے ہونے والے صدر ٹرمپ کے سیکڑوں حامیوں میں سے قریباً نصف نے ماسک پہن رکھے تھے اور نصف اس کے بغیر تھے لیکن انہوں نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے بہت کم سماجی فاصلہ اختیار کر رکھا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ وائرس معدوم ہونے جارہا ہے، یہ ختم ہو رہا ہے۔اس مہلک وائرس کے نتیجے میں 210000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وبا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی کارکردگی پر بعض سوالیہ نشان لگا دیے ہیں اور 3 نومبر کو امریکہ میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ان کی مہم پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سائنسدان انتھونی فائوچی نے الزام لگایا تھا کہ صدر ٹرمپ کورونا پھیلانے کے ذمہ دار ہیں اور ذاتی طور پر انہوں نے ایسے اقدامات کئے جن کی وجہ سے ان کے قریبی لوگوں میں کورونا وائرس پھیلا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کورونا کے دنوں میں سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی تقریب منعقد کی جس کی وجہ سے کورونا کو پھیلنے میں مدد ملی۔ وائٹ ہائوس میں ہونے والی یہ تقریب ٹرمپ کی نااہلی ہے اور اسی تقریب میں شرکت کرنے والے 11 لوگوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

ممتاز امریکی سائنسدان نے بتایا کہ اس تقریب میں کورونا کی ایس او پیز کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ لوگوں نے ماسک نہیں پہن رکھا تھا۔ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ جبکہ ماہرین گزشتہ کئی ماہ سے یہ تلقین کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی جگہ پر زیادہ تعداد میں نہ جائیں اور ماسک کا استعمال لازمی کریں۔


ای پیپر