file photo

پولیس نے بغاوت کے مقدمے میں نواز شریف کے علاوہ تمام کے نام نکال دیے
11 اکتوبر 2020 (12:38) 2020-10-11

لاہور: پولیس نے بغاوت کے مقدمے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے علاوہ دیگر تمام افراد کے نام نکال دیئے ہیں۔

جن افراد کے نام نکالے گئے ہیں ان میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی سمیت دیگر شامل ہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے بغاوت پر اُکسانے کی دفعہ برقرار رکھی ہے تاہم مقدمے میں درج چار دفعات نکال دی ہیں۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں پر کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت لیگی قیادت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ لاہور کے علاقے شاہدرہ کے تھانہ میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف نے اشتعال انگیز تقاریر کیں، ملک کے مقتدر اداروں کو بدنام کیا اور بھارت کی پالیسیوں کی تائید کی تاکہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے۔

ادھر عدالت نے غیر قانونی پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں نواز شریف کے اشتہارات چسپاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اسد علی نے غیر قانونی پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں میرشکیل کے شریک ملزم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے اشتہار چسپاں کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نواز شریف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر بھی اشتہارات چسپاں کئے جائیں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے تاہم میر شکیل کے شریک ملزم نواز شریف پاکستان کے دیئے گئے ایڈریس پر موجود نہیں تھے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ملزم کی رہائش گاہ کے باہر اشتہارات چسپاں کئے جائیں۔

عدالتی حکم پر تفتیشی افسر نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا نوٹس عدالت کے باہر اور ان کی رہائش گاہ پر آویزاں کر دیا ہے۔ اشتہار میں تحریر کیا گیا ہے کہ ملزم نواز شریف اشتہار چسپاں ہونے کے 30 روز تک عدالت میں پیش ہو جائیں۔ 30 روز کے اندر عدالت میں پیش نہ ہونے پر نواز شریف کو مفرور قرار دے دیا جائے گا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ دفتر وزارت خارجہ 15 اکتوبر کو نوازشریف کیخلاف لندن میں اشتہارات کی چسپاندگی کی عملدرآمد رپورٹ پیش کرے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذرائع رجسٹرار آفس نے بتایا ہے کہ نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاوٴں کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ہائی کورٹ نے نواز شریف بذریعہ اشتہار 24 نومبر کو طلب کر رکھا ہے۔

ذرائع رجسٹرار آفس کے مطابق نواز شریف کی العریزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں بذریعہ اشتہار طلبی کے اشتہارات آئندہ ہفتے اخبارات میں شائع ہوں گے۔ بذریعہ اشتہار طلبی کے باوجود عدم حاضری پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت اشتہاری قرار دیا جائے گا۔


ای پیپر