مافیاز اور ہمارا معاشرہ
11 اکتوبر 2020 2020-10-11

پاکستان میں حالیہ مہینوں میںادویات آٹا چینی گندم پٹرول ودیگر شعبوں میں مہنگائی کرکے عوام پر کھربوں روپے کا بوجھ ڈال دیاگیا۔جس پر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب مافیاز ہیں جبکہ حکومت ان سب کے سامنے تاحال بے بسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ پاکستان میں سالانہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے مافیا کیسے کام کرتے ہیں ان کی سرپرستی حکومت اور اہم اداروں کے سربراہان کیسے کرتے ہیں یہ جاننے کیلئے آپ کو ماضی قریب میں ہونے والی کرپشن کی داستان سناتا ہوں .ہیپا ٹائٹس جیسے موذی مرض کی دوا پاکستان میں انتہائی مہنگے داموں امریکہ سے منگواکر فروخت کی جاتی ہے جبکہ اس دوائی کو امریکی این جی اوز پاکستان میںمفت فراہم کرتی ہیں .امریکی این جی اوز سے مفت حاصل کی جانے والی دوا کو پاکستان میں 5500 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ معروف فارماسیو ٹیکل کمپنی سے یہ دوائی ملتی ہے جبکہ معروف سیاسی شخصیت جس کا فارماسیوٹیکل سے کئی دہائیوں کا تعلق ہے کی کمپنیاں اس دوائی کو ملک بھر میں سپلائی کرتی ہیں ۔سابق چیف جسٹس .ثاقب نثار پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرکے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئر مین ڈاکٹر اختر حسین کو بنوادیا جس کے خلاف نیب میں 2011 میں دوریفرنسز دائر ہوئے اور ڈاکٹر اختر حسین نے نیب میں اپنے مردہ ہونے کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا اور بعد ازاں ان کی ڈگری بھی جعلی ثابت ہوئی ایک کرپٹ شخص جس کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر تھے اس کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئر مین بنوانے کا مقصد مخصوص فار ماسیوٹیکل کمپنیوں کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرکے اس انڈسٹری کو فتح کرنا تھا . ایسا ہی ہورہا تھا کہ ایک عثمان نامی نوجوان جسکے والد ہیپا ٹا ئٹس کا شکار ہوکر وفات پاچکے تھے اس نوجوان نے ہیپا ٹائٹس کی دوا کو مقامی طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی کمپنی بنالی ۔لیکن عثمان نامی شخص جس نے Sovaldi دوا کو پاکستان میں تیار کرکے اسے 230 روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا اس شخص کو سپریم کورٹ میں طلب کرکے جنسی ادویات فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کروادیا گیا۔

. پاکستان میں 19فیصد لوگ ہیپاٹائٹس کا شکارہیں اور اس مرض کا علاج Sovaldi نامی دوا ہے جس کا پاکستان میں سالانہ 231 ارب کا بزنس ہے یہ دوا چھ ماہ تک ہیپاٹائٹس کے مریض کو کھا نا پڑتی ہے اور یہی دواکچھ لوگ امریکہ سے درآمد کرکے پاکستان میں فروخت کررہے ہیں ۔ ایک کرپٹ اور نیب میں خود کو مردہ ظاہر کرنے والے شخص کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر لگواکر 230روپے میں فروخت کر نے والے عثمان کو سبق سکھایا گیا کیونکہ اس نے کچھ کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچادیا تھا ۔اسی طرح اس کاروبار میں ملوث ایک اور فارماسیوٹیکل کمپنی جو Sovaldi دوا کو اپنے میڈیکل سٹورز پر فروخت کرواتی ہے اس کمپنی کو اچانک Sovaldi کے مقامی سطح پر تیار ہونے سے شدید نقصان ہونے لگا تو انہوں نے بھی سابق وزیر داخلہ کے ذریعے عثمان کے خلاف مختلف مقدمات درج کرادیے اور اسی طرح عثمان کے بہنوئی جو پولیس افسر ہیں کو بھی ہراساں کروایا گیا تاکہ عثمان اس دوا کی مقامی سطح پر تیاری کو روک دے ..لیکن عثمان ان مافیا ز کے خلاف ڈٹ گئے اور ہر طرح کے جبر کا مقابلہ کرتے رہے ۔

 دوسری طرف مافیاز کس طرح اپنا کنٹرول کرتے ہیں اس کی ایک شکل یہ بھی ملاحظہ فرمائیں گزشتہ دنوں شہباز شریف کے ایک انتہائی قریبی ڈی آئی جی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ایک طاقتور فون کرواکر انکے گھر پر ملے اور مدعہ بیان کیا کہ قصور میں زینب قتل کیس کا ملزم بھی میں نے گرفتار کیا تھا اور پیشکش کی کہ اگر آپ مجھے ڈی آئی جی انسوسٹی گیشن لاہور تعینات کردیں تو عابد ملہی کو بھی گرفتار کرلوں گا جس پر وزیراعلی نیم راضی نظرآتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر تو یہ تعیناتی کر دیتے ہیں تو سمجھ جائیں مافیاز کس طرح حکومتی مشینری کو بے بس کرکے اپنا مشن مکمل کرتے ہیں .قارئین اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مافیاز کتنے بااثر ہوتے ہیں اور حکو متی مشینری و اداروں کو کیسے اپنے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے .حالیہ مہینوں میں پاکستان کی عوام کی جیبوں پر اربوں کا ڈاکہ ڈالنے والے خود ہی چوری کرتے ہیں اور خود ہی منصفی کرتے ہیں کیا آٹا چینی ادویات پٹرول کے بحران کے حوالے سے حکومتی مشیر اور وزراءذمہ دار ہیں یا سہولت کار ہیں ...


ای پیپر