ایک بار پھر سعودیہ کی ثالثی…
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

تعجب کی بات ہے کہ ایک روز پہلے تک حکومت اپوزیشن کو للکار رہی تھی کہ اسلام آباد آکے دکھائو، خیبر پختونخوا سے گزرنے نہیں دیں گے۔ گھروں سے نکلنے نہیں دیں گے۔ جیسے تحریک شروع ہونے سے پہلے کرفیو کا اعلان کیا جارہا تھا۔پانچ سال پہلے بھی ایک دھرنا لگا تھا وہ عمران خان کا تھا، اور اس میں بھی علامہ طاہر القادری کے ذریعے مذہبی کارڈ استعمال ہوا تھا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہہ دیا ہے کہ ہمارے سب آپشن بند کردیئے گئے ہیں، لہٰذا ان کی پارٹی مولانا کے مارچ میں تعاون کرے گی۔ یہی صورتحال نوازلیگ کے لئے پیدا کردی گئی ہے۔ نواز شریف کو ایک اور مقدمہ یعنی چوہدری شوگر ملز کے کیس میں گرفتارکیا جا رہا ہے۔ مریم اورنگزیب نے جو موقف دیا ہے وہ بلاول بھٹو جیسا ہی ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ نواز لیگ کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔دوسری جانب پروڈکشن آرڈر پر گرفتار اراکین اسمبلی کو ایوان میں پیش نہیں کیا جارہا۔نواز لیگ نے ایک اور قدم اٹھایا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہورہی ہے۔ جب آپ کسی بھی پارٹی کے سب آپشن بند کریں گے تو ان کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ دھرنے اور احتجاج میں شریک ہو جائیں۔ نواز شریف، مریم نواز، اور بلاول بھٹو زرداری کسی نہ کسی طرح سے دھرنے کے حق میں ہیں، کیونکہ بلاول بھٹو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی پارٹی الگ سے راولپنڈی میں دھرنا لگا سکتی ہے۔

دھرنے کا آغاز سندھ کے شہر سکھر سے کیا جائے گا۔ سندھ کے شمالی علاقے میں جے یو آئی کا ووٹ بینک اور اثر رسوخ بھی ہے۔ بلاول بھٹو اس ضمن میں سندھ حکومت اور پارٹی کو ہدایات دے چکے ہیں کہ دھرنے کے شرکاء کی ہر طرح سے مدد کی جائے۔

یہ درست ہے کہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ کی مدد کی بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ لیکن ا س کا مطلب یہ بھی نہیں اسٹبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی تحریک چل نہیں سکتی۔ ایم آرڈی تحریک چلی، جس کو بعد میں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے مارشل لاء حکام نے اس کا رخ موڑنے اور مخصوص رنگ دینے کی کوشش کی ۔ جنرل مشرف کے خلاف عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلی، دونوں صورتوں میں فوری طور پر حکومت ختم تو نہیں ہوئی لیکن اتنی زخمی ضرور ہوئی کہ بعد میں اس کو جانا پڑا۔ اگر ایم آرڈی کی تحریک نہیں چلتی تو اتنا جلدی ضیاء الحق بھی نہیں جاتے۔ اور آج بالکل مختلف صورتحال ہوتی۔ یہی بات عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے لئے بھی کہی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی حکومت کسی ایک تحریک کے نتیجے میں نہیں جاتی، خواہ ایوب خان ہو یا مشرف، ان کے خلاف چھوٹی بڑی تحریکوں کی ایک سیریز ہوتی ہے۔ اور پھر آخر میں ایک فیصلہ کن تحریک چلتی ہے جو معاشرے کے تقریباً تمام طبقات کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ان تحریکوں کی وجہ سے حکمران طبقات کے پاس بھی آپشن آجاتے ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ آج اسٹبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ جب ملک میں سیاسی افراتفری ہو، تب بھی اس کے ساتھ کھڑی رہے۔ اسٹبلشمنٹ ایک حد تک ہی حکومت کے ساتھ کھڑی رہ سکتی ہے۔ بعد میں جب حالات ایسے ہو جائیں تو اسکا اسٹینڈ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن اب خبر ہے کہ ایک بار پھر سعودیہ کو ثالثی کے لئے کہا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں سعودی سفیر سے ملاقات کی ۔ اسی روز ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی سعودی سفیر سے ملے۔ ان ملاقاتوں کو اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ حکومت جے یو آئی (ف) کے رہنما کو آزادی مارچ اور اس کے بعد دھرنے سے روکنے کیلئے ایسے غیر ملکی نمائندوں سے روابط بھی شامل ہیں جن کے مولانا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی سفیر نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر سے ملاقات کی تاکہ میزبان ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ سعودی سفیر پیر کو سعودی عرب سے اسلام آباد پہنچے تھے۔ وفاقی دارلحکومت میں یہ بازگشت ہے کہ وہ رواں ہفتے ہی سعودی عرب روانہ ہو جائیں گے اور اپنی جائزہ رپورٹ سعودی حکام کو پیش کریں گے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی اتوار کو سعودی عرب کے دورے کیلئے جارہے ہیں جہاں وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور کچھ دیگر اہم سعودی شاہی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق ’’یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سعودی عرب پاکستان میں مخالف سیاسی جماعتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کی سیاست میں ثالثی کرنے جارہا ہے۔ اس سے قبل پی این اے کی تحریک کے موقع پر بھی سعودی سفیر نے پاکستان قومی اتحاد کے رہنمائوں اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سعودیہ کی ثالثی کی وجہ سے پی این اے رہنما مذاکرات کے لئے راضی ہوئے تھے۔ بعد میں جنرل مشرف دور میں جب نواز شریف کو جہاز اغوا کیس میں سزا سنائی گئی تو سعودیہ نے ثالثی کی تھی، اور میاں نواز شریف کو جیل سے رہا کرا کے سعودی عرب لے جایا گیا تھا۔ لہٰذا سعودیہ کا اثر نواز شریف پر بھی ہے اور یہ اثرمولانا فضل الرحمٰن پر بھی چلتا ہے۔اسلام آباد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی نواز شریف سے جمعرات والی ملاقات بھی سعود یہ کی ثالثی کے اطلاع کے باعث ملتوی کردی گئی۔ اس ملاقات میں نواز شریف کو دھرنے میں شرکت کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات پیش کی جانی تھی۔

اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ سعودیہ کے پرجوش تعلقات نہیں۔ اگر سعودیہ کی ثالثی مولانا فضل الرحمٰن سے آگے بڑھ کر نوازلیگ تک جاتی ہے تو پیپلزپارٹی متحدہ عرب امارات کا چینل استعمال کرے گی، جہاں کے حکمرانوں کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بینظیر اور آصف زرداری تک سب سے اچھے تعلقات ہیں۔ ان دو ممالک نے حالیہ دور حکومت میں پاکستان کی مالی مدد کی تیل ادھار دیا اور زرمبادلہ کے ذخائر ایک حد تک برقرار رکھنے کے لئے اپنی رقومات پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائی۔ اگر سعودیہ کی ثالثی کام دکھاتی ہے تو صرف حکومت کی فرمائش ہی تسلیم نہیں ہوگی، اس پیکیج میںمولانا فضل الرحمن کے علاوہ نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے لئے بھی کچھ ہوگا۔


ای پیپر