12 اکتوبر: منتخب حکومت کاخاتمہ اور مارشل لاء کا نفاذ
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

12اکتوبر 1999کومحمد نوازشریف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے جنرل پرویزمشرف نے ملک پر قبضہ کر لیا، وزیراعظم ہائوس میں محمد نوازشریف کے پاس چند جرنیل گئے اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے کاغذپر دستخط کرنے کو کہاگیا اور انہیں کچھ رعایتیں دینے کی پیشکش کی گئی لیکن محمد نوازشریف نے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے سے صاف انکار کردیا اور جب ان پر دبائو ڈالا گیا تو انہوں نے جرنیلوں کو واضح الفاظ میں کہا کہ کسی صورت اسمبلیوں کو نہیں توڑوں گا۔اس انکار کے بعد محمد نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کو نظر بند کردیاگیا اور ان پرپرویزمشرف کے ہوائی جہاز کے ہائی جیکنگ کا مقدمہ درج کردیاگیا ۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے ذریعے انہیں عمر قید کی سزاسنائی گئی ۔12اکتوبر 1999کو اس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویزمشرف کو چیف آف دی آرمی سٹاف کے منصب سے برطرف کرکے انکی جگہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف تعینات کردیا تھا تاہم جنرل پرویزمشرف نے اپنے ہمنوا جرنیلوں کے ذریعے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا،آئین کو معطل کرکے پی سی او کا نفاذ کیا ۔اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے پرویزمشرف کے ماوراء آئین اقدامات کے خلاف سید ظفرعلی شاہ کی آئینی درخواست پرفیصلہ سناتے ہوئے مشرف آمریت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیا اور پرویز مشرف کوپارلیمنٹ کے بغیرہی آئین میں ترامیم کا اختیاربھی دیدیاجبکہ پرویزمشرف کے وکلاء کی جانب سے ایسی کوئی استدعا بھی نہیں کی گئی تھی۔پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹیو بن گئے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایااور قوم کے سامنے اپنا سات نکاتی ایجنڈا پیش کیا لیکن آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود سات نکاتی ایجنڈے پر عمل نہیں کیا احتساب کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایااور نیب کے ادارے کو سیاسی مقاصد کے حصول اور اپنے مخالفین کو دبانے وہراساں کرنے کے لئے خوب استعمال کیا ۔2002کے جنرل الیکشن میں پرویزمشرف کے تخلیق کردہ مسلم لیگ(ق)کو باوجود کوششوںقومی اسمبلی میں اکثریت نہیں ملی پیپلزپارٹی کو توڑ کر پیٹریاٹ گروپ بنایاگیا لیکن اسکے باوجود بھی میر ظفراللہ جمالی صرف ایک ووٹ کی برتری سے ہی وزیراعظم منتخب کروایاگیا۔ڈکٹیٹر مشرف کا آٹھ سالہ دور بدترین دورثابت ہوا۔امریکہ کے اتحادی بن کر ملک کے مفادات کا سودا کیاگیا، سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈالر کے عوض امریکہ کے حوالے کیاگیا، ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت دی جیکب آباد اور شمسی کے ہوائی اڈے امریکہ کے حوالے کئے اور امریکی جنگ کو اپنی جنگ بناکر قوم پر مسلط کی گئی جس کی وجہ سے ملک میں بدامنی پھیل گئی ۔ خودکش دھماکے شروع کئے گئے ۔ قبائلی علاقوں میں امریکی دبائو پر ملٹری آپریشن شروع کئے گئے جس میں ہزاروں بے گناہ قبائلیوں کو ماردیاگیا ۔ امریکی جنگ کی وجہ سے قومی خزانے کو 80ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایاگیا۔

جنرل مشرف کا 12اکتوبر کا ٹیک آوور پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھاجب وزیراعظم محمد نوازشریف نے انڈیا کے ساتھ مذاکرات شروع کئے اور انڈیا کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے بس کے ذریعے لاہور آکر مسئلہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔جنرل مشرف نے مذاکرات کو سبوتاژکرنے کیلئے کارگل کی جنگ شروع کی اور وزیراعظم محمد نوازشریف کو بے خبر رکھاگیا ۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب (یہ خاموشی کہاں تک)میں لکھا ہے کہ کارگل مہم جوئی کی سوائے جنرل مشرف ، جنرل عزیزخان، جنرل محمود اور میجرجنرل جاوید حسن کے علاوہ کسی اور سینئرآفسر کوکانوںکان خبر نہ تھی۔پرویزمشرف نے سری لنکا جانے سے پہلے آخری ملاقات میں یہ فیصلہ کیا تھااگر انکی غیر موجودگی میں نوازشریف نے انہیں فوج کی کرسی سے ہٹانے کی کارروائی کی تو فوراً حکومت کا تختہ الٹ دیاجائے۔ کئی دنوں سے انکے گھرپر اس سلسلے میں ملاقاتیں جاری تھیں۔ ان ملاقاتوں میں جنرل محمود،جنرل عزیزخان ، جنرل احسان الحق اور بریگیڈیئر راشد قریشی اور چیف کے پرنسپل سٹاف آفیسر موجود ہوتے تھے ۔مزید لکھتے ہیں کہ پرویزمشرف امریکہ کی فرمائشیں پوری کرنے پر آمادہ ہوگئے کشمیر کے جہاد کی امدادامریکی دبائو پرہی ختم کی گئی تھی ۔سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پائول نے اپنی کتابMy American Journeyمیں لکھا ہے 9/11کے واقعے کے بعد پرویزمشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر تمام امریکی مطالبات تسلیم کئے جو ہماری بہت بڑی کامیابی تھی یعنی امریکی وزیرخارجہ کے ایک فون پر ملکی سلامتی وخودمختاری کا سودا کیا اور مشرف دبائو برداشت نہ کرسکے۔ سابق امریکی صدربش نے اپنی کتابDecission Pointمیں لکھا ہے کہ مشرف نے پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کی اجازت دی ،تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو نظربند کردیا۔ مشرف نے خود اپنی کتاب In The Line of Fireمیں خود اعتراف کیا ہے کہ ڈالروں کے عوض پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیا ۔

ملکی تاریخ گواہ ہے کہ فوجی آمروں نے ہمیشہ امریکہ سمیت ہر بیرونی دبائو کے سامنے سرنگون کیا۔ ایوب خان نے روس کی جاسوسی کرنے کیلئے بڈھ بیر ائر بیس پشاور کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے روس کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔سیاسی لیڈربیرونی دبائو کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور قوم کو اعتماد میں بھی لیتے ہیں ۔ محمد نوازشریف کے بارے میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنی کتابMy Life میں لکھا کہ مئی 1998کے وسط میں بھارت کی جانب سے پانچ ایٹمی دھماکے کئے گئے تو وزیر اعظم نوازشریف پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ جواب میں ایٹمی دھماکوں سے گریز کریں جواب میں دو ہفتوں کے بعد پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر دیئے۔

نوازشریف محب وطن لیڈر ہیں انہوں نے ملکی خودمختاری وسلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا قوم کے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرکے ملک کو ایٹمی قوت بنادیا ۔2013کے انتخابات کے بعد محمد نوازشریف وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انکے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع کیاگیا پہلے لندن پلان کے مطابق دھرنوں کا پروگرام بنایاگیا اور لندن میں دھرنوں کے لئے عمران خان ، طاہر القادری اور چوہدری برادرا ن کو اکٹھا کیا گیا اور محمد نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کیلئے ملکی تاریخ کا طویل ترین 126 دن دھرنا دیاگیاملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیادھرنے کے ذریعے محمد نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی کرانے میں ناکامی کے بعد خلائی مخلوق نے پانامہ سکینڈل کے ذریعے محمد نوازشریف کو وزیر اعظم کو انکے عہدے سے ہٹایاگیا۔بیٹی اور داماد سمیت جیل اور نا اہلی کی سزائیں سنائی گئیں ۔ محمد نوازشریف کی تین دفعہ حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے کی بڑی وجہ انکی جانب سے سویلین بالادستی کا قیام اور جمہوریت کا استحکام تھا۔بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے ہمارے ملک نے ترقی نہیں کی ۔بنگلہ دیش بھی معاشی لحاظ سے پاکستان سے آگے نکل گیا ہے ۔انڈیا نے بھی جمہوری نظام میں ترقی کی ہے اور انڈیا کی تاریخ میں کبھی مارشل لاء نہیں لایاگیا ، کرپشن وہاں بھی ہوتی ہے لیکن وہاں پر سویلین ادارے عدلیہ اور الیکشن کمیشن مضبوط ہیں کسی کی ڈکٹیشن پر عمل نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ وہاں پر اس قسم کے بحران پیدا نہیں ہوتے جس قسم کے بحرانوں کا موجودہ صورتحال میں پاکستان کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔


ای پیپر