پاکستان میں کرکٹ کی بحالی اور ٹریفک جام
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

اس ہفتے لاہور کے قذافی سٹڈیم میں سری لنکا اور پاکستان کے درمیان T-20 سیریز کے میچوں میں جب شہر میں لاک ڈاؤن کی سی کیفیت پیدا ہوئی تو شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں حکومت مخالف شہریوں اور اپوزیشن سیاستدانوں کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے اور ان کو بنیاد بنا کر ٹی وی چینلوں نے ضرورت سے زیادہ منفی رویہ اختیار کیا وہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے خلاف جاتا تھا اور شاید ایسی باتیں کرنے والوں کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف بول کر کس کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم میں سے بہت کم لوگوں کو پتہ ہو گا کہ 2009ء میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گردی حملے کے بعد سے انڈین RAW نے دنیا بھر میں پاکستان کو غیر محفوظ ملک ثابت کرنے کے لیے ایک سپیشل ونگ بنا رکھا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو روکا جائے۔ جیسے ہی سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان آنے کا اعلان کیا۔ RAW نے سری لنکا کی ٹیم کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو بھاری رقوم کے عوض خرید لیا اور ان سے بیان دلوائے گئے کہ وہ پاکستان نہیں جائیں گے یہ تو سری لنکن حکومت کی کامیابی ہے کہ انہوں نے سینئر کھلاڑیوں کے انکار کے باوجود دورہ ملتوی کرنے سے انکار کر دیا اور ٹیم بھیج دی، وہ پس منظر تھا جس کی بناء پر پاکستان سکیورٹی ادارے متحرک تھے کہ میچ کے دوران کوئی ایسا واقعہ نہ ہوجائے جس سے قومی کرکٹ بحالی کا عمل خطرے میں پڑ جائے۔ ان حالات میں سٹیڈیم سے 10 کلو میٹر باہر بھی کوئی پٹاخہ پھوٹ جاتا تو اس کو بنیاد بنا کر ملکی بدنامی کا بھارتی پراپیگنڈا حرکت میں آجاتا لیکن سکیورٹی اتنی فول پروف ثابت ہوئی کہ کرکٹ کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی۔

مخالفین کو جب میچ کے انعقاد کے ضمن میں کوئی Security Lapse نہیں ملا تو انہوں نے میچوں کے دوران شہر میں ہونے والے ٹریفک جام کو بنیاد بنا کر پاکستان حکومت اور سکیورٹی پر تنقید شروع کر دی۔ چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن لیاقت ملک نے کہا کہ لاہور کی سڑکوں کی مجموعی لمبائی 1300 کلو میٹر ہے جس میں ہم نے صرف 2 کلو میٹر کی وہ سڑک بند کی جو قذافی سٹیڈیم کو جاتی تھی۔ ٹریفک کے عمومی مسائل تو دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں ہم نے دوست ڈاکٹر افضال ملہی امریکہ کے شہر نیو یارک کے بڑے مشہور Pulmonologist ہیں جس دن میچ ہو رہا تھا وہ نیو یارک کے علاقے بروکلین میں اپنے گھر سے کلینک جاتے ہوئے ایک ٹریفک جام میں پھنس گئے ڈاکٹر صاحب معروف انسان ہیں انہوں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اپنے وقت کا درست استعمال کرتے ہوئے مجھے فون ملا دیا۔ وہ خود بھی کرکٹ کے بہت بڑے دیوانے ہیں۔ میں نے انہیں لاہور کے کرکٹ میچ اور ٹریفک جام کی خبر دی مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ خود اس وقت امریکی ٹریفک کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ ہم خوش رہنا نہیں سیکھ سکے ہیں ہر بات کا منفی پہلو تلاش کرنے کی عادت ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر افضال ملہی نے کہا کہ نیو یارک میں کوئی کرکٹ میچ نہیں ہو رہا پھر بھی یہاں ہر وقت ٹریفک کا یہ حال ہے اگر ایک دن آپ کو اس کا سامنا کرنا پڑ گیا تو چیخنے چلانے کی کیا ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ملہی صاحب کی یہ کال تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی جب تک وہ تین کلو میٹر کی مسافت طے کر کے اپنے کلینک نہیں پہنچ گئے انہوں نے اپنا لیکچر جاری رکھا۔

ڈاکٹر افضال ملہی کے نقطہ نظر سے 180 ڈگری کے فاصلے پر ہمارے کراچی سے تعلق رکھنے والے دوست امیر افضل شاہ ہیں جو محکمہ کسٹم کے سابق Collector ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور کے اولڈ بوائے ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ کرکٹ میچوں کے دوران ایف سی کالج یونیورسٹی میں چھٹی کا اعلان کر دیا جاتا ہے صرف اس لیے کہ یونیورسٹی کو قذافی سٹیڈیم کے پارکنگ لاٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ انہیں یہ بات تکلیف دہ لگتی ہے کہ 1894سے قائم اتنے بڑے علمی ادارے کو اگر آپ پارکنگ گراؤنڈ بنا سکتے ہیں تو پھر پنڈ کے چودھری کے سکول میں بھینس باندھنے پر آپ کو کیوں اعتراض ہے۔ افضل امیر شاہ صاحب نے غلط پلاننگ کو اس کا نتیجہ قرار دیا وہ وہ کہتے ہیں کہ قذافی سٹڈیم کے گرد PILAC اور دیگر ثقافتی مرکز اور ہوٹل اور ریسٹورنٹ بنانے کے غلط فیصلوں کی وجہ سے وہاں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ذاتی طور پر ان کی کرکٹ سے دلچسپی کی حد یہ ہے کہ انہیں 70 کی دہائی کے قذافی سٹیڈیم کے ٹیسٹ میچ اور کھلاڑیوں کا سکور بھی یاد ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ قذافی سٹیڈیم 1959ء یعنی آج سے 60 سال پہلے لاہور شہر سے باہر نہر کے قریب بنایا گیا تھا اس وقت اس کا نام لاہور سٹیڈیم تھا۔ 1974ء میں اس کا نام بدل کر قذافی سٹیڈیم رکھا گیا کیونکہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقدہ لاہور میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے پاکستان کے نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے حق کی بھرپور حمایت کی تھی۔ گزشتہ 60 سال میں لاہور نے جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔ اس کے پیچھے بھی سیاسی وجوہات نمایاں ہیں لاہور میں ریئل سٹیٹ اور سیاست کے باہمی گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہاں رہائشی کالونیوں کی رفتار بجلی کی رفتار سے تیز تھی راتوں رات قیمتیں دگنی ہوتی تھیں۔ وسیع عریض زرخیز زرعی زمینوں کو کالونیوں میں تبدیل کیا گیا پورے پنجاب سے لوگوں نے گھر بنانے کے لیے لاہور کا انتخاب کیا کیونکہ یہاں دی گئی شہری سہولتیں دوسرے شہروں میں نہیں تھیں۔ اس سے پراپرٹی مافیا نے کھربوں روپے کمائے۔ سٹی اور ٹاؤن پلاننگ کو بالائے طاق رکھ دیا گیا آج لاہور میں شہری مسائل اور ٹریفک مسائل کی وجہ یہی ہے۔ اگر لاہور میں بلا سوچے سمجھے Exponsion کی بجائے گرد و نواح کے شہروں پر توجہ دی جاتی تو معاملات قابو سے باہر نہ ہوتے لاہور والی سہولتیں شیخوپورہ ، ننکانہ، قصور اور دیگر نواحی شہروں تک پھیلائی جاتی تو آج لاہور کا یہ حال نہ ہوتا دوسرے شہروں سے لاہور کی طرف نقل مکانی سارے مسائل کی جڑ ہے۔

ہمارا اصل موضوع قذافی سٹیڈیم اور ٹریفک جام ہے اس کا بہترین حل یہی ہے کہ قذافی سٹیڈیم کا فیز 2 شہر سے باہر کسی کھلی جگہ پر بنایا جائے اور 60 سال پرانے موجودہ سٹیڈیم کو کرکٹ اکیڈمی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔

لاہور میں T-20 کے کامیاب انعقاد کو ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ دشمن قوتیں اس پروگرام کو سبوتاژ کرنا چاہتی تھیں مگر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


ای پیپر