ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

7 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان نے ’’ احساس سیلانی لنگر خانہ سکیم ‘‘ کا افتتاح کیا۔انھوں نے وہاں غریب اور نادار لوگوں میں خود مفت کھانا بھی تقسیم کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پورے ملک میں 112 لنگر خانے کھولے جائیں گے جہاں سے غریب اور مفلوک الحال لوگ مفت کھانا کھا سکیں گے۔اگر لنگر خانوں کی قیام کا سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پانچ سالہ آئینی مدت میں ایک کروڑ نادار اور ضرورت مند لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیںگے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پانچ سال بعد وزیر اعظم عمران خان یہ کہنا شروع کردیں کہ ہم نے ضرور کہا تھا کہ ایک کروڑ لوگوں کونوکریاں دیں گے، نوکریاں نہیں دی کھانا تو دے دیااس لئے کہ نوکری کرنے سے ویسے بھی لوگوں نے کھانا ہی خریدنا تھا۔اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان ’’ پناہ گاہ ‘‘ کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع کر چکے ہیں۔ چند روز تک اس کا بھی شور رہا ۔بڑے شہروں میں سرکاری بابوؤں نے پھرتی دکھائی اور کئی ایک جگہ پر ’’ عارضی پناہ گاہیں ‘‘ تعمیر کرکے بالکل لا وارث چھوڑ دی ہیں تو اس میں وزیر اعظم عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس لئے کہ پانچ سال بعد جب وہ آئینی مدت پوری کریں گے تو پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر پر ان ’’پناہ گا ہوں ‘‘ کا تذکرہ ضرور کریں گے کہ ہم نے لوگوں کو قیام کے لئے ’’ پناہ گاہیں ‘‘ جبکہ مفت طعام کے لئے ’’ لنگر خانے ‘‘ کھول کر دئیے تھے۔البتہ اس بات کا قوی امکاں ہے کہ جب سابق وزیر اعظم عمران خان پانچ سال بعد ان عظیم قومی منصوبوں کا تذکرہ کریں گے تو یہ کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی ایک آدھ وزیر اور بیوروکریٹ ان عظیم قومی منصوبوں کی پاداش میں پابند سلاسل ہو ۔ ایک دو پر نیب میں انکوائریاں چل رہی ہوں۔ جس غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ ملکر ان منصوبوں کو شروع کیا گیا ہے ممکن ہے کہ اس کا سربراہ بھی جیل میں ہو اور تنظیم کے بینک اکاونٹس منجمد ہو ں۔بہر حال جب وزیر اعظم عمران خان پانچ سال بعد ان عظیم قومی منصوبوں تذکرہ کریں گے تو ضروری ہے کہ ان منصوبوں میں جن اعلیٰ دماغوں نے کام کیا ہے ان جسموں کومستقبل میں تمام’’حکومتی اور محکمانہ ‘‘ آفات سے محفوظ بنانے کے لئے بھی فل پروف انتظامات کر لیں۔اس لئے کہ انہی ’’غریب پروروں‘‘کی بدولت پانچ سالہ آئینی مدت میں وزیر اعظم عمران خان کروڑوں لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرنے اور لاکھوں کو چھت دینے والے ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہو نگے۔

’’ احساس سیلانی لنگر خانہ سکیم ‘‘ کے افتتاح کے مو قع پر وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی غریب عوام کو مفت کھانا فراہم کرکے اپنا جو منصوبہ سامنے رکھا ہے اس حساب سے آپ خود جمع ،تفریق کرکے معلوم کر سکتے ہیں کہ اکیس کر وڑ عوام میں سے پندرہ کروڑ کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کو مزید کتنے سال جینا اور وزیر اعظم رہنا ہوگا۔اسی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے شکوہ اور شکایت بھی کیا کہ لوگوں سے صبر نہیں ہوتا ،ہمیں آئے ہوئے 13 ماہ ہو گئے اور کہتے ہیں کہ کدھر ہے نیا پاکستان؟وزیر اعظم کا یہ شکوہ اور شکایت بالکل جائز ہے ، اس لئے کہ ابھی تک وہ پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کا محاسبہ کرنے میں لگے ہیں۔آٹے میں نمک کے برابر کو جیلوں میں ڈال دیا ہے۔مشکل وقت میں اس کو یہ لکھا اور پڑھا جائے کہ ’’ہم نے نہیں، نیب نے بند کر دیئے ہیںاور نہ ہی ہم نے ان پر مقدمات بنائے ہیں‘‘ ۔اب آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ جو آٹے کی بوریوں کے حساب سے آزاد گھوم رہے ہیںان بد عنوانوں کو پکڑنے کے لئے عمر ’’خضر ‘‘چاہئے کہ نہیں؟اس لئے تیرہ مہینوں کا حساب مانگنے کی بجائے وزیر اعظم عمران خان کی دراز عمری کی دعائیں کریں۔جب وہ پرانے پاکستان کے پاپیوں سے نمٹ لیں گے تو پھر نئے پاکستان کے ایمانداروں کا حساب ہو گا۔کیاآپ لو گ نہیں سمجھتے کہ تبدیلی سرکار اور ریاست مدینہ کے ایمانداروں کے محاسبے کے لئے عمر ’’ خضر پلس ‘‘ کی ضرورت ہو گی؟جب پرانے اور نئے پاکستان کے بدعنوانوں کا محاسبہ ہو جائے ۔ان سے لو ٹی ہوئی دولت نکال کر قومی خزانے میں جمع کر دی جائے تو پھر پوچھ لینا کہ کدھر ہے نیا پاکستان؟لیکن اس نئے پاکستان کو دیکھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی عمر ’’ خضر پلس‘‘ کی دعائیں مسلسل مانگتے رہنا اس لئے کہ اگر دعائیں قبول نہ ہو ئی تو پھر سب کچھ دھڑام سے گر جائے گا ۔ نہ وزیر اعظم عمران خان کا نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گا اور نہ ہی آپ لوگوں کو نئے پاکستان میں سکونت کی سعادت نصیب ہو جائے گی۔بس ایک احتیاط ضرور رکھنا حالات جو بھی ہوں پوچھنا نہیں کہ نیا پاکستان کدھر ہے؟ہاں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی تقریروں پر ہر گز نہیں جانا۔ان کی یہ بات ہرگز درست نہیں کہ ملک میں لنگر خانوں کی نہیں بلکہ کارخانوں کی ضرورت ہے۔

دورہ چین کے دوران بھی وزیراعظم عمران خان نے ایک معصوم سی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کاش میں پانچ سو لوگوں کو جیل میں بند کر سکتا۔جن پانچ سو لوگوں کو وہ جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں ان کے نام انھوں نے نہیں بتائے،لیکن ہم ضرور چند لوگوں کے نام ان کے سامنے ڈالنا چاہتے ہیں تا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش کی تکمیل ہو۔بندے اپنے بھی ہیں اگر ان کو جیل میں ڈال دیں گے تو واہ واہ بھی ہوگی۔بلکہ یوں سمجھ لیں کہ اگر مستقبل میں وزیر اعظم عمران خان ’’ خواہش پلس ‘‘ کا ارادہ رکھتے ہیں تو پیشگی تکمیل ہو جائے گی۔اس لئے کہ وزیر اعظم نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ وزیروں کو جیل میں ڈالنے کا خواہش مند ہیںتو یہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔جو نام ہم وزیر اعظم عمران خان کے سامنے ڈالنا چاہ رہے ہیں ان میں سابق اورموجودہ دونوں طرح کے وزیر شامل ہیںبلکہ سونے پہ سہاگہ کہ چند ایک نام ان کے پارٹی کے عہدے داروں کا بھی ہے حالانکہ ابھی تک انھوں نے اس خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے کہ وہ پارٹی کے چند عہدے داروں کوبھی جیل میںڈالنا چاہتے ہیں۔تو حضور آپ کی کابینہ میں ایک تگڑا وزیر ہے اعظم سواتی ۔جیل میں ڈالنے کے لئے بالکل فٹ ہے۔ایک دوسرا بھی ہے پرویز خٹک نام ہے اس کا۔بس ،بی آرٹی کی فائلیں منگوا کر اندر کر لیں۔ایک اور بھی ہے ۔سابق وزیر بھی ہے اور پارٹی کا اعلی عہدے دار بھی ۔عامر کیا نی نام ہے۔اس کو جیل میں ڈالنے سے آپ کی دونوںخواہشیں پوری ہو جائیں گی وزیر والی بھی اور پارٹی عہدے دار والی بھی۔پھر بھی اگر کوئی اور خواہش تو غالب سے رجوع کرتے ہیں۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے


ای پیپر