تعلیمی معاملات و مسائل… کچھ اس کا بھی علاج اے چارہ گراں!
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

ملک میں رائج تعلیمی نظام کے حوالے سے کچھ مزید معاملا ت ، مسائل اور امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بلاشبہ ملک میں یکساں نصابِ تعلیم کی بجائے تین طرح کے نصاب تعلیم پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یکساں ذریعہ تعلیم بھی نہیں ۔اردو اور انگلش میڈیم دونوں طرح کے ذریعہ تعلیم (Medium of Instructions) رائج ہیں۔ دینی مدارس میں دینی تعلیمات کے حصول کے لیے عربی زبان میں مہارت اور جزوی طور پر عربی بول چال کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ کہنا بھی کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے ہاں ابتدائی ، ثانوی، اعلیٰ ثانوی اور گریجویٹ سطح کی تعلیم اگر اپنے معیار اور امتحانی نظام میں بعض خامیوں کی وجہ سے روئبہ تنزل ہے تو اعلیٰ تعلیم اور تعلیم و تحقیق کے لیے قائم کردہ یونیورسٹیاں بھی اپنے تعلیمی معیار ، تحقیق و جستجو اور تصنیف و تالیف کے لحاظ سے طلباء ساخت کرنے اور ڈگریاں جاری کرنے کے کارخانے ضرورہیں لیکن ایسے تعلیمی مراکز ہرگز نہیں جن کا عالمی معیار کے تعلیمی مراکز اور یونیورسٹیوں سے موازنہ اور مقابلہ کیا جا سکے۔ شعبہ تعلیم میں موجود مسائل و معاملات یہاں پر ہی ختم نہیں ہو جاتے ۔ سچی بات ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری ، غیر سرکاری اور عوامی ہر سطح پر تعلیم سے بے اعتنائی اور بے رخی شروع سے برتی جاتی رہی ہے اور اب بھی یہی عالم ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور نظامِ تعلیم میں اصلاح لانے کے لیے زبانی کلامی دعوے تو بہت کرتے رہتے ہیںاور اب وزیر اعظم جناب عمران خان نے بھی ان دعووں کی تکرار کی ہے لیکن اس حقیقت کو جُھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ہمارا نظامِ تعلیم مختلف طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ ہمارا ہاں اکثر یہاں رونا رویا جا تا ہے کہ ہماری سکول سطح کی پرائمری ، مڈل ، ثانوی اور کالج سطح کی اعلیٰ ثانوی اور گریجویٹ سطح کی تعلیم بہت کم تر معیار کی حامل ہے۔ سٹوڈنٹ اپنے سالانہ بورڈ امتحانات میں نمبر(Marks)تو بہت لے لیتے ہیں لیکن ان کی مجموعی قابلیت ،ان کی ذہنی وسعت اور صلاحیت ، نصاب کے مختلف موضوعات پر بھرپور گرفت اور (Concepts) پر مکمل عبور اس سطح کا نہیں ہوتا جو آگے چل کر اعلیٰ معیار کی حامل یونیورسٹیوں یا مختلف پروفیشنل کالجوں میں داخلے اور مقابلے کے امتحانوں میں ان کے لیے پوری طرح ممدو معاون ثابت ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹر کی سطح پر بورڈ امتحانات میں بہت اعلیٰ نمبر لینے والے سٹوڈنٹس پروفیشنل کالجز میں داخلے کے امتحانات میں میرٹ پر پورا نہیں اتر پاتے۔اسی طرح اس بات کا تذکرہ بھی ہر سطح پر کیا جاتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم گراوٹ کا شکار ہی نہیں ہے بلکہ تحقیق و تصنیف کے لحاظ سے بھی یونیورسٹیاں کوئی معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ التصیل ایم فل سکالر زاور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی تعداد بلاشبہ بڑھ چکی ہے لیکن ان ڈاکٹرز اور سکالر ز کے حوالے سے یہ پوچھا جائے کہ یہ بیرونی یونیورسٹیوں سکے گریجویٹس یا ماسٹرز کی ڈگریوں کے حامل خواتین و حضرات کا مقابلہ کر سکتے ہیںتو جواب شاید نفی میں ہوگا۔

نئی یونیورسٹیوں کے قیام اور یونیورسٹیوں کے معیار تعلیم کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کردار بہت اہم ہے۔2002میں قائم کردہ ہائیر ایجوکیشن بلاشبہ اس بات کا کریڈیٹ لے سکتا ہے کہ اس کے قیام کے بعد پبلک اور پرائیوٹ سیکڑز میں یونیورسٹیوں کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ کمیشن اس بات کا کریڈیٹ لینے میں بھی حق بجانب ہے کہ ملک بھر میں چارٹرڈ یونیورسٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے قائم کرنے کے لیے بھاری رقوم کی گرانٹس بھی جاری کرتا ہے۔ اگر چہ ان گرانٹس میںاب بہت کمی آچکی ہے اور یونیورسٹیاں کئی طرح کی مالی مشکلات اور مسائل کا شکار ہو چکی ہیں تاہم پی ایچ ڈی کے لیے نامزد سکالرز کو وظائف دینا اور بیرونی یونیورسٹیوں میں ایک مخصوص عرصے کے لیے ان کے تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے کارہائے نمایاں میں شمار کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک ملکی یونیورسٹیوں کے معیار تعلیم کی بات ہے اس کا اندازہ اس تکلیف دہ حقیقت سے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کا عالمی معیار کی بلند پایہ یونیورسٹیوں میں آج تک شمار نہیں ہو سکا۔تاہم یہ کہنا کسی حد تک درست ہو سکتا ہے کہ ملک کی چند ایک یونیورسٹیاں ایسی ہیں جو کچھ نہ کچھ اعلیٰ معیار کی حامل گردانی جا سکتی ہیں لیکن ان کے حوالے سے کچھ دیگر معاملات و مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں مختلف قومی حلقوں میں تحفظات اور خدشات کا اظہار ہی سامنے نہیں آتا رہتا ہے بلکہ ان یونیورسٹیوں کے مجموعی ماحول ، اساتذہ اور طلباء و طالبات کے باہمی تعلقات ، اساتذہ کی مخصوص طالبات پر نوازشات ، سٹوڈنٹس میں گروپ بندی اور علاقائی اور لسانی تقسیم وغیرہ کے بارے میں میڈیا میں وقتاً فوقتاً جو خبریں اور تفصیلات سامنے آتی رہتی ہیں انہیں زیادہ خوشگوار اور پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا۔

خیر بات سکول و کالج تعلیم اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم کی ہو رہی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ 2002میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد یونیورسٹی سطح کے تعلیم کے لیے زیادہ وسائل اور فنڈز مخصوص کیے جاتے رہے ہیں۔ جبکہ سکولوں اور کالجوں کی سطح کی تعلیم (پرائمری سے انٹرمیڈیٹ) کے لیے اس طرح کے اور اتنی مقدار میں فنڈز مخصوص نہیں کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کالامحالہ نتیجہ اگر ابتدائی ، ثانوی ، اعلیٰ ثانوی اور کسی حد تک گریجویٹ سطح کی تعلیم کے معیار میں کمی اور تنزلی کی صورت میں سامنے آیا ہے تو یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں اور نہ ہی حیرانی کی بات ہو سکتی ہے کیونکہ یہ مانا ہوا اصول ہے کہ جو بویا جائے وہی کاٹنا پڑتا ہے۔

اب کچھ ذکر نظام تعلیم کے حوالے سے مختلف اوقات بالخصوص موجودہ حکومت کے دور میں کیے جانے والے یا مجوزہ فیصلوں اور اقدامات کا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے ایک قوم تین نصاب کی بات کرکے قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے وہ اگر پورے ملک میں کم از کم پرائمری سے انٹر میڈیٹ سطح تک یکساں نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کا قوم پر بہت بڑا احسان ہوگا۔دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا اور ان کے نصاب میں کچھ دیگر موضوعات اور مضامین کو شامل کرنا بھی یقینا وقت کی ضرورت ہے اس میں کوئی بھی پیش رفت یقینا مثبت نتائج کی حامل ہوگی۔ یہاں ایک اور پیش رفت کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ آخر وفاقی وزیر تعلیم وتربیت جناب شفقت محمود کو یہ دور کی کیوں سوجھی کہ وہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطحوں کے مروجہ امتحانی طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر تیار ہو چکے ہیں۔ اس صدی کے شروع سے وفاقی تعلیمی بورڈ (FBISE) کے دائرہ کار میں سکول سطح پر نویں اور دسویں اور کالج کی سطح پر گیارہویں اور بارہویں کے الگ الگ امتحانات لینے کا طریقہ کار شروع کیا گیا۔ بیچ میں دو تین سالوں کے لیے اس کو تبدیل کر دیا گیا لیکن بعد میں اس کودوبارہ رائج کر دیا گیا۔پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی تعلیمی بورڈز نے اس طریقہ کار کو بتدریج اختیار کر لیا۔ یہ امتحانی نظام کچھ خامیوں اور کمی کے باوجود کامیابی سے چل رہا ہے اب اس کی بجائے کمپوزٹ امتحان یعنی نویں اور دسویں کا اکٹھا اور گیارہویں اور بارہویں کا اکٹھا امتحان لینے کا اعلان کیا گیا ہے تو ضرور یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے فیصلے کرنے اور اقدامات اٹھانے سے قبل تمام تر مشاورت اور ہوم ورک کر لیا گیا ہے یا نہیں۔ یہ نہ ہو کہ کل پھر اس فیصلے کو تبدیل کرنا پڑ جائے۔


ای پیپر