ماڈل لنگر خانہ یا ڈنگر خانہ …؟
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

نبی ؐ صحابہ اکرامؓ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا کہ نبیؐ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا گھر میں کوئی چیر ہے؟ تو اس شخص نے کہا یا رسولؐ ایک کمبل اور ایک پیالہ ہے۔ آپؐ نے کہا جاؤ اور لے کر آؤ۔ وہ شخص گیا اور اپنے گھر سے کمبل اور پیالہ لے کر آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گیا۔ آپؐ نے صحابہ اکرامؓ سے فرمایا کوئی ان دونوں چیزوں کو خریدے گا؟ ایک صحابیؓ بولے ! حضورؐ میں ان دونوں چیزوں کو دو درہموں کے عوض خریدنے کو تیار ہوں۔ آپؐ نے وہ دونوں چیزیں اس صحابیؓ کو دو درہموں کے عوض فروخت کر کے اس شخص سے کہا کہ جاؤ بازار سے کلہاڑا لے کر آؤ۔ وہ شخص بازار گیا اور ایک درہم کا کلہاڑا خریدا اور آپؐ کی خدمت دوبارہ حاضر ہوا۔ آپؐ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کلہاڑے میں دستہ ڈالا اور اس شخص سے فرمایا جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور فروخت کر کے اپنی زندگی بسر کرو اور اس ایک درہم سے کوئی کھانے پینے کی چیز خرید لو۔ وہ شخص گیا اور لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرنے لگا۔ وہ شخص چند دن بعد پھر حضور اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے پاس چند درہم بھی جمع ہو چکے تھے… اگر نبیؐ ایک اشارہ کرتے تو ہر صحابی اس شخص کی مددکو اتر آتا… بلکہ اس کے پاس اتنا پس انداز بھی ہو جاتا کہ کئی مہینے گزر جاتے۔ مگر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں تھا۔ یہ مصلحت پسندی نہیں تھی… بلکہ دست سوال دراز کرنا شاید اس شخص کی عادت اور طبیعت میں شامل ہو جاتا اور حصول رزق اور تلاش رزق کے لیے وہ شخص یہ سلسلہ مستقل طور پر اپنا لیتا اور اس طرح شاید وہ شخص اپنی خودداری اور عزت نفس بھی مجروح کر بیٹھتا۔

بہتر سالوں سے اس قوم کے ساتھ مستقل کھلواڑ ہو رہا ہے۔ ہر سیاسی مداری اپنی ڈگڈگی سے اپنی مرضی کی نکیل اس جاہل عوام کی ناک میں ڈال کر عوام کو نچاتا ہے اور داد کے ڈونگرے وصول کرتا ہے۔ موجودہ وزیراعظم کو لوگ بڑا دور اندیش اور ویژنری کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اس نے ملک میں ماڈل لنگر خانے کھول دیئے ہیں تاکہ لوگ پیٹ بھر کر کھائیں اور آلتی پالتی مار کر کسی گھنے درخت کے سائے میں استراحت فرمائیں۔ سست روی، بے کاری اور بے فکری کو اپنی عادت ثانی تصور کرنے لگیں۔ اندھا کیہ بھالے دو اکھاں‘‘ ( اندھے کو تو دو آنکھوں کی تلاش ہی ہوتی ہے) یہ قوم تو پہلے ہی کام کرنے کو اپنی کسر شان سمجھتی تھی اور بے ایمانی اور ذخیرہ اندوزی کی عادی تھی… یہ قوم تو پہلے ’’ شارٹ کٹ‘‘ کو اعلیٰ وارفع مقصد گردانتی تھی اور بغیر کام کے پیٹ بھرنے کی عادی تھی۔ اب اس قوم کو ماڈل لنگر خانے سے سر عام، لنگر دستیاب ہو گا۔ حالانکہ لنگر تو اس قوم کو پہلے بھی بہت دستیاب تھا۔ داتا دربار، فرید الدین گنج شکر سمیت ملک بھر میں ہزاروں خانقاہیں ہیں یہاں سے بلا ناغہ و بلا معاوضہ لنگر دستیاب ہوتا ہے۔یکم محرم سے لے کر یوم عاشور تک رنگا رنگ لنگر اتنی وسیع مقدار میں دستیاب ہوتا ہے کہ چرند پرند اور حیوانات بھی مستفید ہوتے ہیں۔ گلی محلوں میں جمعرات کی جمعرات لنگر تقسیم ہوتا ہے۔ گیارہویں شریف کے دن دودھ کی نہریں بہتی ہیں اور گوالے اس دن دودھ بیچنا گناہ سمجھتے ہیں۔ اب اس قوم کو اور لنگر کی کیا ضرورت تھی؟اب اس قوم کو مزید آسائش کی کیا ضرورت تھی؟ حالانکہ یہ قوم جعلی آئل، دودھ، کولڈ ڈرنک، جوسز، گدھے، مینڈک اور اس طرح کی سینکڑوں چیزیں لکڑ، پتھر، کوئلہ، افیون، چرس، شراب، ہیروئن، پان، سگریٹ ہضم کر چکی ہے۔ ان کو ماڈل لنگر خانے کی کیا ضرورت ہے؟ میرے بھولے بادشاہو ! اس قوم کو اخلاقیات کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو اتحاد، ایمان، نظم کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو معاشرتی اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو مساوات اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو بزرگوں اور بڑوں کے احترام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو فرض شناسی کے اصولوں پر کار بند ہونے کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو کتاب اور سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قوم کو ملک و قوم کی خدمت جیسے جذبوں اور احساسات جیسے اصولوں پر کار فرما ہونے کی ضرورت ہے ۔ اس قوم کو فراڈ، کرپشن، ریاکاری، منشیات فروشی، گراں فروشی، مال و دولت کی ہوس اور جنسی درندگی سے روکنے کی ضرورت ہے۔ اس قوم کے ضمیر فروشوں کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس ملک کے سرمایہ کاروں، تاجروں کو زکوٰۃ کی ادائیگی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے متعلق شعور، پختگی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ بے روزگاروں کو روزگار کی ضرورت ہے اور بیروزگاری ختم کرنے کے لیے ماڈل لنگر خانے کی نہیں ماڈل کارخانے کی ضرورت ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بیماروں کو صحت کی ضرورت ہے۔ عوام کو عدل و انصاف اور مساواتی فارمولے کی ضرورت ہے۔ ججوں اور قاضیوں کو نیک نیتی اور عدل کی ضرورت ہے۔ اخلاقی پہلوؤں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ ہر طبقے اور ہر گروہ کے انسان کو اصلاحی پہلوؤں کو درست اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ تب جا کر ریاست مدینہ وجود میں آئے گی۔ ماڈل لنگر خانے بنانے سے ریاست مدینہ کو کیا ایک ماڈل ویلج معرض وجود میں نہیں آ سکتا۔ جناب! ہم تو پہلے مانگت قوم ہیں۔ آئی ایم ایف سے مانگتے ہیں۔ چین سے مانگتے ہیں۔ ہمیں مزید مانگنے سے بچائیں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔ ہمیں کوئی ڈھنگ کا کام دیجیئے جس سے ملک و قوم کو فائدہ ہو۔ ملک ترقی کرے۔ عوام اور معاشرہ خوش حال ہو۔ جناب عالی! یہ لنگر خانے محض ڈنگر خانے ثابت ہوں گے۔ ان لنگر خانوں کا حال بھی وہی ہو گا جو سستی روٹی والے تندوروں کا ہوا تھا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر