”سرکاری ملازمین کے دو پنجاب“
11 اکتوبر 2019 2019-10-11

دو نہیں ایک پاکستان“،وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا سب سے اچھا نعرہ قرار دیا جاسکتا ہے جس نے بہت ساروں کو اپنی طر ف لبُھایا کہ غریبوں اور کمزوروں کا پاکستان بھی وہی ہو گا جو امیروںا ور طاقتوروں کا ہو گا مگر جتنا اچھا یہ نعرہ ہے اتنا ہی بُرا پی ٹی آئی کی حکومت کے قول و فعل کا تضاد ہے۔اب آپ اس جماعت کے سامنے اس امر کی شکایت بھی نہیں کر سکتے کیونکہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے اس جماعت کو اس کی تمام تر منافقت اور جھوٹ کے ساتھ قبول کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب حکمران جماعت کے سربراہ یوٹرن کو حکمت اور دانش قرار دیتے ہیں توان کے کارکن اس پرتالیاں بجاتے ہیں۔

پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اوران میں بہت سارے ریگولر ہیں، کچھ کنٹریکٹ پر ہیں اور کچھ ڈیلی ویجز پربھی کام کرتے ہیں مگر ہر کسی کی ملازمت کی شرائط اور ضوابط اس کے کیڈر کے مطابق یکساں ہیں، ہاں، شریف فیملی نے برسراقتدار آ کر یہ ضرورکیا تھاکہ ایوان وزیراعلیٰ، گورنر ہاوس اور سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کو اہمیت دی اور دوسری طرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات باقی بیوروکریسی تو ایک طرف رہی ماتحت عدلیہ کے افسران اور اہلکاروں سے کہیں زیادہ ہیں، بہرحال اس موضوع کو رہنے دیجئے جس سے قلم ٹوٹتا ہو، شریف کی طرف واپس آئیے کہ نوے کی دہائی میں بااثر اداروں کے ملازمین اس سے بیس فیصد خصوصی الاﺅنس لینے میں کامیاب رہے مگر جب اس امر کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو تنخواہوں میں یہ امتیازی الاﺅنس فریز کر دیا گیا، ان ملازمین کو رہائش گاہوں کے یوٹیلٹی بلوں کی خصوصی سہولت دی بھی دی گئی۔ شہباز شریف تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ بنے تو یہ الاﺅنس جاتے جاتے پچاس فیصد کر گئے، یہ سب تعدادمیں کچھ بیوروکریٹوں کو سرکاری کمپنیوں میںعہدے دے کر لاکھوں روپے ماہانہ کی تنخواہیں دینے کے علاوہ تھا مگر جو کچھ بھی تھا وہ بہت زیادہ نہیں تھا۔ میں نے بطور صحافی یہی گمان کیا کہ پی ٹی آئی اپنے وعدے کی پالن ہار ہو گی اور وہ یہ خصوصی الاﺅنسز ختم کر دے گی کہ تمام سرکاری ملازمین آئین اور قانون کی نظر میںیکساں ہیں چاہے وہ لاہور کے ایوان وزیراعلیٰ میں کام کررہا ہو یاوہ راجن پور میں ہو۔

یہ ایک حیران کن نوٹیفکیشن تھا جو خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں جاری کیا گیا جس کے تحت مشہور ترین اور بااثر ترین سرکاری محکمے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپیارٹمنٹ المعروف ایس اینڈ جی اے ڈی کے گریڈ سترہ سے بائیس تک سترہ سو کے لگ بھگ ملازمین کی تنخواہوں میں بجٹ کے بعد یک لخت ڈیڑ ھ سو فیصد اضافہ کر دیا گیا یعنی ان کی تنخواہیں اس وقت اچانک دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئیں جس وقت وفاق اور پنجاب کے بجٹ میں اسی گریڈ، عہدے اور تجربے کے دیگر سرکاری ملازمین کو تنخواہ میں پانچ فیصد اضافہ دیا جا رہا تھا اورٹیکس سلیب میں اضافے کی وجہ سے عملی طور پر گریڈ سترہ سے بائیس کے دس ہزار سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بجائے کمی ہو رہی تھی یعنی وہ جون کے مقابلے میں جولائی کی تنخواہ میں کم روپے وصول رہے تھے، جی ہاں، یہ اتنا حیران کن تھا کہ میرے ایک پروگرا م میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ور صوبائی حکومت کی ترجمان ڈاکٹر زرقا نے اس کا دفاع کرنے سے صاف انکا رکر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کسی عام محکمے میں گریڈ سترہ کا سپرنٹنڈنٹ ہے تو اس کی تنخواہ پانچ فیصد اضافے کے باوجود ٹیکس سلیب میں اضافے کی وجہ سے کم ہو رہی ہے مگر ایس اینڈ جی اے ڈی کا گریڈ سترہ کا ملازم پچھلی تنخواہ سے پچانوے ہزار روپے زائد لے کر جا رہا ہے ،اوپر کے گریڈوں میں یہ فرق دو لاکھ روپوں سے بھی اوپر ہو رہا ہے۔ ایس اینڈجی اے ڈی کے افسران اگر کسی دوسرے محکمے میں ڈیپوٹیشن پر ہیں تو وہاں ان کے سینئرز بھی پی ٹی آئی کی حکومت کی مہربانی کی وجہ سے ان سے کہیں کم تنخواہ لے رہے ہیں۔

یہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے افسران کیا ہیں، کیا یہ بہت غریب ہیں اور بہت زیادہ کام کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس محکمے میں عموی طور پر سب سے نیچے کا افسر اسٹنٹ کمشنر یعنی اے سی سمجھا جاتا ہے اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی بھی تحصیل میں کوئی اے سی کیا بلا ہوتی ہے، یہ عین ممکن ہے کہ اس کو پہنچنے والے نذرانے علاقے کے کسی بڑے پیر صاحب کی درگاہ سے بھی زیادہ ہوں اور اسے کئی کئی ماہ اپنی تنخواہ ہی نہ نکلوانی پڑے۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر ہیں جو کسی بھی ضلعے میں بلدیاتی نظام کے خاتمے کے بعد اس وقت خد ا کے بعد سب سے زیادہ بااختیار سمجھے جا سکتے ہیں ، پھر کمشنر ہیں ، ڈائریکٹر جنرل ہیں، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ہیں اور علی ہذالقیاس۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس بڑی بڑی سرکاری گاڑیاں ہیں، ایک سے زائد ائیر کنڈیشنر لگے ہوئے دفاتر ہیں، سرکاری ملازمین کی فوج ظفر موج ہے اور سب سے بڑھ کر اختیارات ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے بہت سارے دوست کہتے تھے کہ تیس برسوں سے نواز لیگ کے بولتے ہوئے طوطی نے بیوروکریسی کو ان کا غلام کر دیا ہے اور دلیل دی جاتی تھی کہ پی ٹی آئی اسی وجہ سے کام نہیں کر سکتی کہ نواز و شہباز کے وفادار افسر راہ کی رکاوٹ ہیں، وہ فائلیں روک رہی ہیں، دستخط کر نے سے انکا ر کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا جناب عثمان بُزدار نے اس طرح عامل و قادر افسر شاہی کو اپنی جیب میں ڈالنے کی کوشش کی ہے مگر وہ کیا بھول گئے کہ اگر وہ بیس لاکھ سرکاری ملازمین میں سے سترہ سو کو سرکاری خزانہ لٹاتے ہوئے اپنا وفادار بنا لیں گے تو باقی انیس لاکھ تراسی ہزار ان کے بارے میںکیا سوچیں گے، کیا ردعمل دیں گے۔ یہاں ایک دلچسپ موقف یہ بھی ہے کہ ان افسران کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ وہ کرپشن نہ کریں توکیا باقی تمام سرکاری ملازمین کو کرپشن کرنے کی کھلی اجازت ہے ؟

میں نے اضافے سے محروم رہ جانے والے ایک کائیاں افسر سے پوچھا، کیاکچھ افسران کو مراعات دینا غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں، جواب ملا سو فیصد ہے، میں نے کہا کہ آپ اس کے خلاف عدالت میں کیوں نہیں جاتے، آپ لوگ آ ل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں کو احتجاج کا کیوں کہہ رہے ہیں تو جواب ملا کہ عدالتو ں میں اس وقت کیسوں کا انبار ہے اور جج صاحبان ان کو اوپر سے ملنے والے احکامات کے تحت نمٹا رہے ہیں۔ اگر ہم اس وقت عدالت میں چلے گئے تو چھ، آٹھ مہینے سماعت ہو گی اوراس کے بعدمعاملہ چیف سیکرٹری کو اس ڈائریکشن کے ساتھ بھیج دیا جائے گا کہ وہ اس پر فیصلہ کریں یعنی ہمیں واپس اسی بیوروکریسی کے پاس آنا پڑے گا کیونکہ عدالتیں سرکاری مقدمات میں فیصلے نہیں کر رہیں بلکہ صرف ڈائریکشنز دے رہی ہیں۔ میں نے جب کچھ سینئر وکلاءسے پوچھا تو انہوں نے اس سے کم و بیش اتفاق کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کچھ ہوسکتا ہے وہ تو احتجاج اور دباﺅ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔یہ ایک عجیب وغریب صورتحال ہے۔ میں نے کہا کہ کچھ پسندیدہ لوگو ں کو نوازے کا عمل ہرجمہوری اور مارشل لائی دور میں رہا ہے مگر پی ٹی آئی ، ایس اینڈ جی اے ڈی کے سترہ سو ملازمین کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافے سے اس عمل کو جس انتہا پر لے گئی ہے اس کے بارے میں نہ دیکھا ، نہ سنا ہے۔ اندھوں کے ہاتھوں میں اشرفیاں لگی ہوئی ہیں اور وہ ٹٹول ٹٹول کر اپنوں میں بانٹے چلے جا رہے ہیں۔سوا ل تو یہ بھی ہے کہ حکمران ان کیڈر افسران کو خوش کر کے کیا کام لینا چاہتے ہیں،کیا وہ جائز اور قانونی کام ہیں؟


ای پیپر