آسیہ مسیح کی رہائی کے خوفناک اثرات؟
11 اکتوبر 2018 2018-10-11

14جون 2009ء کوپنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب میں آسیہ مسیح نامی خاتون کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوا۔جرم ثابت ہونے پر سیشن جج ننکانہ صاحب نے آسیہ مسیح کو8نومبر2010ء میں قانون ناموس رسالت295سی کے تحت سزائے موت اور ایک لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی۔بعدازاں یہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں گیا تو عدالت نے سیشن جج کے مذکورہ فیصلے کو برقرار رکھا۔لاہور ہائی کورٹ میں مذکورہ کیس کے وقت پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے جیل میں توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح سے ملاقات کرکے میڈیا پر بیان دیا کہ اگر عدالت نے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تو وہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے صدارتی معافی کی درخواست کریں گے۔اس کے علاوہ سلمان تاثیر نے پاکستان میں ناموس رسالت قانون"295سی" کو کالاقانون بھی کہا جس کے بعد 4جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کے محافظ 26سالہ ممتاز قادری نے اسلام آباد میں انہیں قتل کردیا۔بعدازاں 29فروری2016ء کو ممتاز قادری کو عدالتی فیصلے کی بنا پر پھانسی دیدی گئی۔یوں توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی وجہ سے دو آدمی دنیا سے گئے۔

24نومبر2014ء کو آسیہ مسیح کے خاوند اسحاق مسیح نے سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر درخواست دی کہ ان کی بیوی کو رہا کیا جائے۔22جولائی2015ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آسیہ مسیح کے بارے جب تک اپیلوں پر فیصلہ نہیں آجاتا تب تک سزائے موت کی سزا پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔اکتوبر2016ء میں پھر اس کیس پر سماعت ہوئی مگر سپریم کورٹ کے3رکنی بنچ میں شامل جج حمید اقبال کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے سماعت آگے نہ بڑھ سکی۔اپریل 2018ء میں جسٹس ثاقب نثار نے اس کیس کی سماعت کے لیے اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا عندیہ دیا۔ 8 اکتوبر 2018ء کو سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار،جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہرعالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت فریقین کے وکلاء کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔یہ فیصلہ کسی بھی وقت سنایا جاسکتاہے۔سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کو پھانسی دی جائے گی یا پھر رہا کردیا جائے گا؟اس کا حقیقی جواب تو بہرحال سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا مگر اس سماعت کے بعد آسیہ مسیح کے ہم نواؤں اور ناموس رسالت قانون 295سی کے مخالفین کی طرف سے دعوے کیے جارہے ہیں کہ آسیہ مسیح کو جلد رہا کردیا جائے گا۔دوسری جانب عام عوام کی جانب سے آسیہ مسیح کی مبینہ رہائی کے خلاف سوشل میڈیا سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا جارہاہے۔عوام میں یہ خدشہ بھی پایا جارہاہے کہ بیرونی لابیوں کے بھرپور دباؤ کی وجہ سے آسیہ مسیح کو رہاکروانے کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔علماء4 کرام نے آسیہ مسیح کی مبینہ رہائی کو ملک میں اشتعال انگیزی کا سبب گردانتے ہوئے کہا ہے کہ آسیہ مسیح کو پھانسی دی جائے۔

سپریم کورٹ کی مذکورہ سماعت ،توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کے حامیوں کے بیانات،عوامی خدشات اور ماضی میں توہین رسالت کے ملزموں کے کیسوں کا جائزہ لینے کے بعد خدشہ یہی ہے کہ عدالت اس بار بھی توہین رسالت کی مجرمہ کو سزانہیں دے سکے گی۔عدالت کے اس متوقع فیصلے کے پاکستان اور سماج پر گہرے اثرات پڑیں گے۔توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی متوقع رہائی سے قانون توہین رسالت کے مخالفین کے بیانیے کو جہاں تقویت ملے گی وہیں رحمت عالم? کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کو توہین رسالت اور گستاخی کرنے کا حوصلہ ملے گا جس سے ملک میں آئندہ اشتعال انگیزی ،بدامنی اور قتل وقتال جیسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں 295سی کے قانون کو بنے 3دہائیوں سے زیادہ کا وقت ہوچکاہے لیکن آج تک کسی مجرم کو اس قانون کے تحت پھانسی نہیں دی جاسکی،بلکہ ماضی میں توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف جب کبھی مقدمات دائر کیے گئے انہیں ریلیف دیا گیا اور ملک سے فرار کروایا گیا۔چنانچہ اصغرکذاب،افتخار شیخ،رمشامسیح اور سوشل میڈیا پر توہین رسالت سرگرمیوں میں ملوث بھینسا،موچی،روشنی جیسے پیج چلانے والے احمد وقاص گورائیہ،سلمان حیدر،عاصم سعیدچند مثالیں ہیں جن کی واضح گستاخیوں کے باوجود انہیں ریلیف دیا گیا۔حالاں کہ سوشل میڈیا سے جڑا ہر شخص اس بات کی گواہی دے سکتا ہے مذکور پیجز چلانے والے گستاخانہ مواد اور توہین رسالت کرتے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے انہیں رہا کردیا،صرف رہا ہی نہیں بلکہ اپنے فیصلے میں متنازع مشورہ بھی حکومت کو دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ توہین رسالت کا مقدمہ دائر کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کرے کہ اگر وہ توہین رسالت ثابت نہ کرسکیں توانہیں سزائے موت دی جائے۔جسٹس صدیقی کے اسی متنازع فیصلے کو بنیاد بناکر رواں سال فروری میں توہین رسالت قانون میں تبدیلی کے حوالے سے سینیٹ میں بل پیش کیا گیا جس پر اس وقت بھرپور احتجاج کیا گیا۔گزشتہ ماہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں بھی قانون توہین رسالت میں تبدیلی کے حوالے سے ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے 10 اکتوبر2018ء کے اجلاس میں بھی بحث ہوئی جس کی جمعیت علماء اسلام اور تحریک انصاف نے مخالفت کی۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی اور توہین کرنے والوں کے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کے نزدیک ریڈ لائن ہے جسے اگر کوئی کراس کرنے کی کوشش کرے تو ادنی سے ادنی مسلمان اس کے خلاف جان دینے کے لیے تیار ہوجاتاہے۔پھر آخر کیوں پاکستان میں توہین رسالت کے مجرموں کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔سیکولرز لبرلز اور انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے نام پر ناموس رسالت قانون کے خلاف واویلا کرنے والوں کے خلاف آخر عدالتیں، سرکاری ادارے،حکومتی اور دیگر افراد کیوں دفاعی اور وضاحتی پوزیشن سنبھال لیتے ہیں۔کس قدر بے حمیتی اور بے غیرتی کی بات ہے کہ دنیا کا کوئی بھی یہودی ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے والوں کی سزاؤں کو آزادی اظہار رائے یا حقوق انسانی کے خلاف سمجھتا ہے،نہ ہولو کاسٹ کے خلاف قوانین ختم کرنے کی بات کرتا ہے،دنیا کا کوئی ملک اپنے جھنڈے فوج اورقانون کی توہین کرنے والوں کو آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر کھلی چھوٹ نہیں دیتا بلکہ ایسے لوگوں کو باغی شمار کرکے سزائیں دیتا ہے مگر ہمارے ہاں مغرب،سیکولرز لبرلز سے متاثرہ روشن خیال اور مرعوب صحافی ڈھٹائی سے نہ صرف قانون ناموس رسالت کو آزادی اظہار رائے حقوق انسانی کے خلاف قراردے کر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے بلکہ توہین رسالت کے مجرموں کو بچانے کے لیے من گھڑت دلائل،حیلے بہانے بھی تراشتے 

ہیں۔ناموس رسالت قانون کو ختم کرنے اور توہین رسالت کے مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے یہ لوگ عموما بے جا اعتراضات کا سہارا لیتے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے جو توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کے حوالے سے بھی دہرایا جارہاہے کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا شاخسانہ ہے۔عموما توہین رسالت کی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہمارے بزرگ جناب محمد متین خالد نے اپنی نئی کتاب ’’قانون تحفظ ناموس رسالتؐ‘‘ میں مستند اعداد و شمار ذکر کیے ہیں کہ قانون توہین رسالتؐ کے تحت 2018ء تک جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہوئیان میں سے 51 فیصد مسلمان، 26 فیصد قادیانی، 21 فیصدی عیسائی اور 2 فیصد دیگر عقائد کے لوگ ہیں۔ توہین رسالت کے ارتکاب پر 1990ء سے 2012ء تک 62 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ ہلاک شدگان میں 25 مسلمان، 15 عیسائی، 5 قادیانی اور ایک ہندو شامل ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کے واقعات میں 2001ء سے 2010ء تک 84 عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 41 مساجد، 20 امام بارگاہیں، 3 قادیانی عبادت گاہیں، 4 شیعہ جلوس، 9 درگاہیں اور مزارات، 6 چرچ اور ایک مدرسہ شامل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون توہین رسالت کے تحت 

سب سے زیادہ سزائیں خود مسلمانوں کو دی گئی ہیں۔

ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو قانون تحفظ ناموس رسالت 295سی ملک میں انتشار اور بدامنی روکنے کا واحد ذریعہ ہے۔اس قانون پر ماضی میں عدم عملداری کا نتیجہ ہے کہ 62 کے قریب لوگ مارے گئے،قومی املاک کو نقصان پہنچا،سماج میں انتشار اور فساد پھیلا،پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ظاہر سی بات ہے کہ جن لوگوں نے توہین رسالت کے مجرموں کو قتل کیا ان کے سامنے عدالتوں کا یہی رویہ تھا جو آسیہ مسیح،افتخار شیخ،اصغر کذاب اور احمد وقاص گورائیہ وغیرہ کے مقدمات میں رہا ہے۔ آسیہ مسیح کی سزا پر بروقت عملداری نہ ہونے کی وجہ سے سلمان تاثیر کو ناموس رسالت قانون کے خلاف بات کرنی کی جرات ہوئی جس پر ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا موقع ملا۔سلمان تاثیر کے قتل اور ممتاز قادری شہید کی پھانسی کے اصل ذمہ دار ہماری عدالتیں ہیں جنہوں نے آسیہ مسیح کیس کو لٹکائے رکھا اور طول دیا۔ہماری عدالتوں کادوہرا معیار ممتاز قادری شہید کی پھانسی سے بھی عیاں ہوجاتاہے کہ کس قدر تیزی سے ممتاز قادری کے کیس کو نمٹا کر انہیں پھانسی دی گئی،دوسری طرف آسیہ مسیح کے کیس کو 9 سال گزر گئے مگر پھر بھی عدالتی حکم کے باوجود توہین رسالت کی مجرمہ کو پھانسی نہیں دی گئی بلکہ اسے رہا کروانے کے لیے حیلے بہانے تراشے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کے بارے عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حالیہ رویے سے کیا پھر سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کو پیدا کرنیکی کوشش کی جارہی ہے؟۔


ای پیپر