دینی مدارس اور روز گار کا مسئلہ !
11 اکتوبر 2018 2018-10-11

کارل مارکس انسانی تاریخ کا عظیم مفکر اور فلسفی تھا ، یہ انیسویں صدی میں جرمنی میں پیدا ہوا لیکن یہ اپنی فکر اور فلسفے کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے ۔پچھلے ایک ہزار سال میں اگر کسی فکر نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا تو وہ کارل مارکس ہے ۔ اقبال نے اس کے بارے میں کہا تھا وہ پیغمبر تو نہیں لیکن اس کی فکراور فلسفہ پیغمبرانہ ہے ۔ کارل مارکس ایک اچھے اور کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا تھا لیکن اس نے دنیاوی آسائشوں کو چھوڑ کر اپنی زندگی غریبوں اور محنت کش طبقے کے لیے وقف کر دی تھی ۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کی اور سوشلزم کا نظریہ پیش کر کے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ۔ اس کے لیے اسے مشکلات کے سمندر بھی عبو رکرنے پڑے مگر وہ اپنی فکر سے باز نہیں آیا ، اسی نوکری سے نکالاگیا ، جلاوطن کیا گیا ،ا س پر فتوے بھی لگے اور اسے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن اسے اپنی سوچ ،فکر اور نظریے پر شرح صدر ہو چکا تھا لہذا وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔ وہ مختلف ملکوں میں دھکے کھاتا ہوا آخر میں لندن پہنچ گیا ، وہ لندن میں لائبریری میں بیٹھ کر ساری رات مطالعہ کرتا تھا ،برٹش میوزیم میں آج بھی وہ کرسی محفوظ ہے جس پر بیٹھ کروہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف’’داس کیپٹل‘‘ کے لیے مواد اکٹھا کرتا تھا۔ وہ ساری رات تمباکو کے دھویں اور کتابوں کے اوراق میں ڈوبا رہتا تھا۔ دنیا میں بہت کم انسان ایسے تھے جو اتنے وسیع مطالعے کے حامل تھے۔ وہ اپنی زندگی میں اپنی فکر کو عام نہیں کر پایا ،حتی کہ جب وہ مراتو اس کے جنازے میں صرف گیارہ لوگ شریک تھے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی فکر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس کے جنازے میں،اس کے دوست اینگلز نے اس کے نظریات اور جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے کہا’’مارکس نے انسانی تاریخ کے ارتقا کا قانون دریافت کیا، اْس نے دریافت کیا کہ سیاسیات، سائنس، مذہب اور فن کی جستجو سے پہلے انسان کو کھانے،پینے، سر چھپانے اور بدن ڈھکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی سماج کے ریاستی ادارے، قانونی تصورات، فن اور مذہبی خیالات ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔‘‘کارل مارکس کا کہنا تھا انسانی تاریخ میں جتنے بھی جھگڑے،لڑائیاں اور جنگیں ہوئی ہیں اس کی واحد وجہ صرف اور صرف معاشیات ہے، معاشیات انسانی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور دوسری تمام حقیقتوں کا تعین اسی سے ہوتا ہے ۔ اس کا کہنا تھا سوسائٹی کے اخلاق، کردار، اقدار ،مذہب، تعلیم ، سائنس ،سیاست اور حکومت کا تعین بھی معاشیات کرتی ہیں اور یہ دنیا کی واحد اور سب سے بڑی سچائی ہے ۔ مذہب کے بارے میں اس کا کہنا تھاکہ یہ غریب عوام کے لیے افیون کا درجہ رکھتا ہے ،مطلب یہ تھا کہ سرمایہ دار طبقے نے ہمیشہ مذہب کا سہارا لے کر غریبوں کا استحصال کیا ہے ، اپنے لیے بینک بیلنس، سرمایہ اور جائیداد اکٹھی کرنے والا سرمایہ دار غریب کو سادگی ، مذہب اور آخرت کا حوالہ دے کر رام کر لیتا ہے ۔ آج اس کے اس نعرے کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے ، اس کا یہ نعرہ مذہب کے خلاف نہیں سرمایہ دار کے خلاف تھا ۔آپ دیکھ لیں آج بھی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ معاشیات ہے،جو ملک اقتصادی طور پر پیچھے ہیں وہ عالمی سیاست میں بھی ناکام ہیں اور جو ملک اقتصادی طور پر خوش حال ہیں ہر دوسرا ملک ان کی عزت کر تاہے ،ان کی فکری ،نظریا تی اور جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں ۔ جو ملک اقتصادی طور پر بد حال ہیں ان کی نظریا تی سرحدیں محفوظ ہیں نہ جغرافیائی ،وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے محتاج ہیں ،ان کی پالیسیاں باہر سے بن کر آتی ہیں ،ان کا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے ،ان کی جمہوریت امریکہ کے رحم و کرم پر ہے اور ان کے صدرا ور وزیراعظم تک کا انتخاب ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کرتا ہے۔آپ اس کو چھوٹی سطح پر قیاس کریں تو یہی مثال ایک گھراور ایک فرد پر بھی صادق آتی ہے ۔

اب ہم آتے ہیں دینی مدارس کی طرف ،1982ء تک دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی ڈگری حکومتی اور نجی اداروں میں قبول نہیں کی جاتی تھی ، یہ سب علماء فراغت کے بعد صرف مسجد اور مدرسے تک محدود ہوتے تھے ، آپ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ1982سے قبل ایک پرائمری پاس شخص تو خواندہ تسلیم کیا جاتا تھا لیکن مدرسے میں آٹھ سال پڑھنے اور درس نظامی کرنے والے عالم کوان پڑھ اور ناخواندہ شمارکیا جاتا تھا ۔ مدارس کے طلباء کے ساتھ یہ ذیادتی کیوں کی جاتی رہی اورہمارے بڑے اس پر کیوں خاموش رہے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ آپ اس کو اپنے بڑوں کی سادگی کہیں یا کچھ اور نام دیں لیکن بہر حال یہ المیہ تھا جو دینی مدارس کے ہزاروں طلباء پر گزر چکا ۔1982میں کچھ اصحابِ درد نے اس صورتحال کو محسوس کیااورصدر ضیاء الحق کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے صدر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مدارس کی سند کو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی قراردیا جائے۔صدر نے یہ معاملہ یوجی سی(University Grants Commission)) کو بھجوا دیا۔ یوجی سی نے اس مسئلے پر ورک شروع کیااور اس پرمشاورت اور غور وخوض کے لیے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور ماہرینِ تعلیم کو اسلام آباد بلالیا ۔ مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء نے مدارس کی نمائندگی کی،طویل مشاورت کے بعد یو جی سی اور ماہرینِ تعلیم نے متفقہ طور پر یہ سفارش کی کہ دینی مدارس کی آخری سند کو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی قرار دیاجائے۔ ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں یوجی سی نے نوٹیفیکیشن نمبر 80198CAD128 مورخہ 17نومبر 1982ء جاری کرکے ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ حقیقت تسلیم کی کہ شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے اسلامیات اورعربی کے مساوی تسلیم کیا جاتا ہے۔ مدارس کی دنیا میں یہ ایک بڑی پیش رفت تھی ، ہزاروں طلباء کا مستقبل اور انہیں قوموں دھارے میں شامل کرنے کا یہ بہترین موقعہ تھا لیکن افسوس یہ موقعہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا اور امید کا یہ درخت حالات کی بے رخی کی نذر ہو گیا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں ، پاکستان کے سرکاری اداروں اور بڑوں کی عدم دلچسپی اور حالات کے عدم ادارک کی وجہ سے یہ معاملہ پھر لٹک گیا ۔سرکاری اور نجی ادارے اپنی مرضی کرنے لگے، کسی جگہ ان اسناد کو قبول کر لیا جاتا اور کہیں رد کر دیا جاتا ، نواز شریف، مشرف اور زرداری دور میں یہ معاملہ بار بار ڈسکس ہوتا رہا لیکن ہر بار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوجاتا۔بعد میں یہ معاملہ ایچ ای سی کے پاس چلا گیا ، فیصلہ ہوا کہ ایچ ای سی درس نظامی کی بنیاد پر معادلہ کی سند جاری کر گا اور یہ معادلہ ہر جگہ قابل قبول ہو گا۔معادلہ کی سند کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ،پہلے وفاق پھر آئی بی سی سی اور آخر میں ایچ ای سی،اچھی خاصی مت مارنے اورہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد آپ کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھما دیا جاتا ہے ،کاغذ کا یہ ٹکڑا حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگ تو کافی خوش فہم ہوتے ہیں لیکن یہ ساری خوش فہمی اس وقت دور ہو جاتی ہے جب آپ کسی جگہ جاب یا مزیڈ سٹڈی کے لیے اپلائی کرتے ہیں ۔باقی حقائق اگلے کالم میں پیش کروں گا ۔


ای پیپر