کرنسی کی قیمت کم کرنے سے معیشت بہتر نہیں ہوتی : اسحاق ڈار
11 اکتوبر 2018 (15:51) 2018-10-11

اسلام آباد : سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگرکر نسی کی قیمت میں کمی مالیاتی دباؤ کو بہتر کرنے کا سبب بنتی تو گزشتہ چند سالوں کے دوران جب پٹرول کی قیمت عالمی سطح پر 130ڈالر تک پہنچی تو مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنی کرنسیوں کی قدر گرا چکے ہوتے تاکہ مالیاتی معاملات بہتر ہوسکیں‘ کرنسیوں کی قدر کو کم کرنا سولہویں صدی کی سوچ کا عکاس ہے میں اس سے سوچ سے اتفاق نہیں کرتا،میں نے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر کسی نے پاکستان کو مالی طور پر ڈبونے کی کوشش کی تو میں ایسی کوشش کرنے والوں کو ڈبو دونگا اور میں پاکستان کو بچاؤنگا۔

اسحاق ڈار نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 1998میں جب پاکستان پر پابندیاں عائد کی گئیں تو ڈالر کی قیمت 69روپے تک پہنچ چکی تھی ملک میں صرف چند ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ملکی مفاد عزیز نہیں ہوتا وہ اپنے اربوں روپے بنانے کے لئے ایسے کام کرتے ہیں اور ملک کو اربوں اور کھربوں میں ڈبو دیتے ہیں۔ 1998 میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں ڈالر کی قیمت سو روپے تک پہنچ جائے گی لیکن ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ ہم نے انتظامی اقدامات اٹھائے تو ڈالر کی قیمت 52 روپے تک واپس آگئی۔ آئی ایم ایف نے ہمیں بھی روپے کی قدر 8روپے کم کرنے کا کہا تھا لیکن ہم نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اکتوبر 1999میں جب مارشل لاء نافذ ہوا تو نئی حکومت آنے کے بعد نئی انتظامیہ نے آئی ایم ایف کی ہدایات کو تسلیم کیا اور ڈالر کی قیمت ساٹھ روپے تک چلی گئی۔ اب بھی یہی معاملہ ہے گزشتہ چار سالوں میں ملکی معیشت بالکل بہتر تھی۔ دھرنے کے دوران بھی ہم نے کرنسی کو مستحکم رکھا۔ 111روپے سے لیکر ہم ڈالر کی قیمت کو دوبارہ انہی دنوں میں 98روپے پر لے کر آئے اور یہ مستحکم رہی۔ 20نومبر 2017کو میں نے بطور وزیر خزانہ اپنے طبی مسائل کے باعث کام کرنے سے معذرت کی تاہم میں نے انتظامیہ کو یہ باور کروا دیا کہ کرنسی کی قدر کم کرنے سے صرف برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایکسپورٹرز کو معاونت فراہم کرنے کے لئے 180ارب روپے کا پیکج دیا اور پھر اس کے بعد 67ارب کا ایک اور پیکج دیا گیا جس کے باعث ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا‘ کرنسی کی قدر کم کرنے سے ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ایسے اقدامات سے ملک کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے اور یہ معاشی مسائل کی جڑ ہے اور اب روپے کی قدر کم ہونے سے حکومت خود اندازہ لگا لے کہ کتنا بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے روپے کی قدر میں کمی کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ہمیشہ لوگوں کو سمجھایا ایک روپیہ قدر کم کرنے سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہمیشہ لوگوں کو بتایا کہ چند پیسے کمانے کے لئے پاکستان کو مت بیچا جائے۔ میں نے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر کسی نے پاکستان کو مالی طور پر ڈبونے کی کوشش کی تو میں ایسی کوشش کرنے والوں کو ڈبو دونگا اور میں پاکستان کو بچاؤنگا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ میرے چارج چھوڑنے کے بعد بلوم برگ نے ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان کی کرنسی جنوبی ایشیاء کی مستحکم کرنسی میں شامل ہوچکی ہے۔ اب یہ جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس سے پاکستان کو 2800ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ قرضوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے یہ سب حکومت کی بدانتظامی کے باعث ہوا۔ آئی ایم ایف حکومت سے کہے گا کہ ڈالر کی قیمت ڈیڑھ سو روپے کردیں تو یہ ڈیڑھ سو بھی کردیں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ 2013 میں جب آئی ایم ایف کی ایک ٹیم نے ہمارے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈالر کی قدر کو آٹھ روپے تک بڑھانے کا مطالبہ کیا تو میں نے واضح طور پر آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتا دیا کہ آپ کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرینگے اور ہم اپنے روپے کی قدر کم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف کی ہدایات ملکی معیشتوں کو تباہ کرنے کے لئے سامنے آتی ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کو سمجھ نہیں ہے۔ 


ای پیپر