فوٹوبشکریہ فیس بک

تھر کول پراجیکٹ میں بد عنوانی، سپریم کورٹ نے تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی
11 اکتوبر 2018 (12:25) 2018-10-11

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب سے تھرکول میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے جواب طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تھرکول منصوبے کے بجلی پیداواری منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر مبارک سے استفسار کیا، کتنا پیسہ ملا اور کیا کام ہوا؟ ڈاکٹر ثمر مبارک نے بتایا کہ 3.37 بلین اب تک منصوبے میں ملا 2015 میں 8 میگاواٹ بجلی شروع ہوگئی تھی۔ پاکستان مالا مال ہوگیا تو بتائیں تھر کی بجلی کہاں ہے؟ عوام کا پیسا ضائع ہوگیا، ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ چیف جسٹس کا تھر کول پراجیکٹ میں استفسار۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 3 بلین سے زائد خرچ کرکے 8 میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک نے جواب دیا، 8 میگاواٹ کے بعد پیسے نہیں ملے احسن اقبال نے فنڈنگ روک دی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ثمر مبارک صاحب منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔ چیف جسٹس نے منصوبے کی مکمل تحقیقات کے لیے اقتصادی، توانائی اور سائنسی ماہرین کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔

منصوبے کا مکمل ریکارڈ سلمان اکرم راجہ اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے منصوبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق جواب بھی آئندہ ہفتے طلب کرلیا۔


ای پیپر