Useful tips,winter tips for women,girls skin,
11 نومبر 2020 (19:39) 2020-11-11

 موسم سرما آہستہ آہستہ اپنی سرد شال ہر سو پھیلا رہا ہے، اور ہر طرف سردیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے بخیروخوبی صحت مندانہ انداز میں گزار نے کا اہتمام اور تیاریاں اپنے عروج پر ہیں۔ سردیاں جہاں ہمیں موسم کے مختلف خشک میوہ جات اور پھلوں سے نوازتی ہیں وہیں کم قوت مدافعت کے حامل انسانوں خاص کر بچوں اور خواتین  کے لئے زحمت کا سامان بھی لاتی ہیں۔ موسم سرما میں درجہ حرارت کم جبکہ ہوا خشک ہو جاتی ہے اور ہوا میں موجود مختلف جراثیم ، وائرسز اور الرجی پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں ،جو بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

موسم سرما کے شروع ہوتے ہی عام طور پر کھانے پینے اور رہن سہن کے روزمرہ کے معمولات میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جس سے عام طور پر سردیوں کے موسم میں نزلہ ، زکام ، بخار ، گلاخراب ہونا ، کھانسی ، دمہ کی تکلیف ، جوڑوں میں درد، جلدکا خشک ہو جانا، ہونٹوں اور ان کے گرد چھالے اور زخم اورمتلی وغیرہ کی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرد موسم میںپیاس کم لگنے کی وجہ سے ہم پانی کم پیتے ہیں اور پھر جسم میں پانی کی کمی کی شکایت ہونے لگتی ہے جس کے باعث جلد پر خشکی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جلد کو خشکی سے بچانے کے لئے بہت زیادہ گرم پانی سے نہیں نہانا چاہئے اور نہانے کے بعد جلد کو نمی دینے والی کولڈ کریم یا موئسچرائزنگ لوشن باقاعدگی سے خاص کررات سونے سے قبل لازمی استعمال کرنا چاہئے اور خشکی سے بچنے کے لئے پانی زیادہ سے زیادہ یعنی دن میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس لازمی پینا چاہئے۔ 

سردی کے موسم میں ٹھنڈلگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی گرم  چیزوں کابھی استعمال کرنا چاہئے۔ سردموسم میںدمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لئے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جوفوری طبی امداد کے وقت کام آسکیں۔

گلے کی خراش بھی موسم سرما کی ایک اہم بیماری ہے ۔ مختلف تجربات کے مطابق درجہ حرارت کی تبدیلی یا گرم ماحول سے سرد ماحول میں جانے سے بھی گلے کی خراش کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مختلف ادویات کے استعمال کے بجائے نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے جس سے مرض کی شدت میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔ 

موسم سرما میں جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کے درد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے گرم کپڑوں کا استعمال اور روزمرہ جسمانی ورزش بہت اہمیت کی حامل ہے جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جبکہ سردموسم میں بلڈ پریشر میں اضافے کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے موسم میں بہت زیادہ مرغن اور بھاری غذاؤں سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ گرم کپڑوں اور کمبل وغیرہ کا استعمال لازمی کرنا چاہئے اور گھر سے باہر نکلتے وقت اپنے آپ کو اچھی طرح سے ڈھانپ لینا چاہئے۔

موسم سرما میں سردی لگنے کے مختلف اسباب اوروجوہات ہوسکتی ہیں۔ بعض افراد مختلف وجوہات کی بناء  پرزیادہ سردی محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں میںسردی کا احساس نسبتاً کم ہو تا ہے۔گوشت کا کم استعمال کرنے والے افراد بھی سردی سے زیادہ متاثر ہو تے ہیں۔ کیو نکہ انسانی جسم میں خون پیداکرنے میں گوشت کا ایک اہم کردار ہوتا ہے اورگوشت کا مناسب استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جسم میں خون کی کمی سے آئرن کی بھی کمی ہو جاتی ہے جوکہ سردی لگنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ معدے اور پھیپھڑے کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور خواتین کے خاص ایام بھی خون کی گردش کو کمزور کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال کرنے سے انسانی جسم میں آئرن کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ انڈے اور چاول بھی خون کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں جس کی وجہ سے سردی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

جو خواتین اپنے حمل کے ابتدائی مراحل سے گزررہی ہوں، وہ بھی سردی زیادہ محسوس کرتی ہیں۔ کیونکہ حمل کے ابتدائی دنوں میں خون کی گردش کا دورانیہ کم ہونے کی وجہ سے سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کو بھی سرد موسم میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم سرما میں خون گاڑھا ہو جانے کی بنا ء  پر بلڈ شوگر کی سطح مختلف ہو جاتی ہے لہٰذا ذیابیطس کے مریضوں کو موسم سرما میں مناسب مقدار میں پھل اور سبزیاں کھانی چاہئے۔ اور انتہائی میٹھے پھلوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کو سردیوں میں بھی باقاعدہ معمول بناتے ہوئے اس جسمانی سرگرمی کو جاری رکھنا چاہئے۔ سردی کی شدت سے اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو گھر پرہی رہتے ہوئے جسمانی سرگرمی کو بحال رکھا جاسکتا ہے  اور اس کے ساتھ ساتھ نزلہ و زکام سے ہر ممکن محفوظ رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ورزش سے انسانی جسم کا در جہ حرارت معمول پر رہتا ہے لہٰذا سرد موسم میں بھی ورزش کے معمول کو چھو ڑنا نہیں چاہئے اور روزانہ ہلکی پھلکی ورزش لازمی کرنی چا ہئے۔ اس کے علاوہ سردی سے خو ش اسلو بی سے نبرد آ زما ہو نے کے لئے ایسے پھلوں کا وافر مقدار میں استعمال ضروری ہے جن میں وٹا من سی، وٹامن ڈی اور وٹامن ای مو جود ہوں۔ ایسے پھلو ں اور سبزیوں میںسٹرابری، پپیتا، کینو، ٹماٹر، پھو ل گوبھی، پالک، امرود، انار، اننا س، انگوراور کیلا وغیرہ شامل ہیں اور ان میںمختلف وٹا منز، پوٹا شیم،آئرن وغیرہ بھی بھر پور مقدارمیں موجود ہوتے ہیں جوہمیں موسم سرما کی مختلف بیما ریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مچھلی کا استعمال بھی سردموسم کے لئے بہترین ہوتا ہے اوراس کے استعمال سے کھانسی ، نزلے اور خشک کھانسی سے افاقہ ہوتا ہے اور خاص طور پرکمزور بچوں اور بزرگوں کے لئے مچھلی کا استعمال ضروری ہے۔ سردیوں کے موسم میں کم از کم ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھانی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسم سرما کی سوغات خشک میوہ جات بھی سردیوں کے لئے بے حد فائدہ مند ہیں اور جسم میں سردی کی شدت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

 ٭٭٭٭٭

سردی کے موسم میں ٹھنڈلگنے سے جسم میں کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہئے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی جلد اور موسمِ سرما

موسم نے کروٹ بدلی ہے اور سردی کے ساتھ ہی ا?پ کو اپنی جلد کی فکر ہوگئی ہے۔ یقیناً خشک اور کھردری ہوجانے کے ساتھ اس موسم میں اکثر خواتین جلد پھٹنے کی شکایت بھی کرتی ہیں۔ اس کا سبب ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونا ہے، لیکن سرد موسم میں خود پر تھوڑی سی توجہ دیں اور احتیاط کریں تو آپ اپنی جلد کی خوب صورتی اور صحت برقرار رکھ سکتی ہیں۔

سردیوں میں گرم پانی کا استعمال عام بات ہے۔ آپ اپنے کچن میں روزمرہ کے کام انجام دے رہی ہوں یا غسل کرنا ہو، ہر ایسی ضرورت کے لیے گرم پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ دیر تک گرم پانی سے نہانا بھی جلد کو خشک کردیتا ہے۔ اس لیے سرد موسم میں ضرورت سے زیادہ گرم پانی جسم پر نہ ڈالیں۔

جلد کی حفاظت کے لیے نہانے سے پہلے پانی میں بے بی آئل یا کوئی اچھا تیل لے کر اس کے چند قطرے پانی میں ڈال لیں۔ اسی طرح سرسوں یا کھوپرے کے تیل سے جسم کی مالش کریں تو آپ کی جلد تروتازہ اور شاداب رہنے کے ساتھ خشک بھی نہیں رہے گی۔

یاد رہے کہ نہانے کے بعد بدن کو اچھی طرح خشک کریں اور باڈی لوشن کا استعمال یقینی بنائیں۔ سوتے وقت جلد پر کولڈ کریم مَلنا بھی خشکی اور کھردراہٹ سے بچا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چہرے کی صفائی کے لیے بیسن کا لیپ بہترین ثابت ہوتا ہے۔ اس سے چہرہ چکنائی سے پاک اور فریش ہوجاتا ہے۔ بعض خواتین کی جلد قدرتی طور پر خشک ہوتی ہے اور صرف موسم سرما ہی ان کے لیے مسئلہ نہیں بنتا بلکہ عام دنوں میں بھی وہ خشکی اور جلد پھٹنے کی شکایت کرتی ہیں۔ ان کے لیے لوشن اور موسچرائز کلینر کا استعمال فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

سردیوں میں ایک مسئلہ ہاتھوں کی جلد اترنے کا بھی سامنے ا?تا ہے۔ یہ عام بات ہے۔ تاہم خواتین اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں اور ان کو اپنی خوب صورتی اور دل کشی متاثر ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ اس کا ایک عام حل یہ ہے کہ گلاب کے عرق میں دو چمچے گلیسرین، ایک بڑے لیموں کا رس ملا کر کسی بوتل میں محفوظ کرلیں۔ رات کو سوتے وقت اس محلول سے مساج کریں اور صبح دھو لیں تو ایسی شکایت نہیں ہو گی۔

سردیوں میں معیاری کولڈ کریم اور موسچرائزر کا استعمال جلد میں ضروری نمی برقرار رکھتا ہے اور یوں آپ موسم کے اثرات سے اپنی جلد کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق  سرد موسم میں جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے زیادہ پانی پینا چاہیے جب کہ گرم مشروبات کا استعمال بہت کم کرنا چاہیے۔ یہ جسم سے پانی کے اخراج کا سبب بنتے ہیں اور جلد کی نمی کا توازن بگڑ جاتا ہے جس سے خشکی بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں میں مالٹے، سنگترے، گاجر، مولی اور دیگر موسمی پھلوں سے بھی جسم میں پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے اور پانی پینے سے ہم اپنی جلد کے لیے ضروری نمی حاصل کرسکتے ہیں۔  اس کے علاوہ ماہرینِ صحت و امراض کے نزدیک خشک میوہ جات اپنے اندر تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں، ان میں وٹامن ای، کیلیشیم، فاسفورس، فولاد اور میگنیشیم موجود ہوتا ہے جب کہ زنک، تانبا بھی مناسب مقدار میں پایا جاتا ہے، جو جلد کی خشکی دور کرکے نمی کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ شکر قندی کا ایک جزو بیٹا کروٹین جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس وٹامن کی کمی کا نتیجہ اکثر خشک جلد کی شکل میں نکلتا ہے۔ صحت مند جلد کے لیے غذا میں بیٹا کروٹین کی مقدار شامل کرنا ضروری ہے جو کہ شکر قندی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

زیتون کا تیل حسن و خوب صورتی قائم رکھنے میں زمانہ قدیم ہی اہمیت رکھتا ہے۔ چہرے اور بدن پر اس کی مالش سے جسم میں توانائی و طاقت آتی ہے جب کہ جلد میں چمک پیدا ہو تی ہے اور یہ اس کو نکھار دیتا ہے، زیتون کے تیل میں وٹامن ای اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈ بڑی مقدار میں ہوتے ہیں ، جو جِلد کی خشکی بھی دور کرتا ہے، زیتون کا تیل قدرتی موئسچرائزر کا کام دیتا ہے۔ قدرتی غذائوں میں کھیرے کا استعمال بھی جلد کے لیے مفید ہے۔ اس میں میگنیشیم، پوٹاشیم اور سیلیکون کی مقدار موجود ہوتی ہے جو انسانی جلد کو صاف اور چمک دار رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

٭٭٭٭٭


ای پیپر