سرخیاں انکی…؟
11 نومبر 2020 (11:38) 2020-11-11

٭ گلگت بلتستان میں کلین سویپ کرینگے: عمران خان

٭ بلاشبہ حالات نے ہر شے کو نئی شکل میں ڈھال دیا ہے، سوائے میرے کپتان کے… بہرحال ، کیا کیا جائے؟ اسی کا نام زندگی ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ کوئی نہ کوئی تغیر رونما ہوتا رہتا ہے۔ تاہم تادم تحریر، میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک طرف جناب بلاول بھٹو کا BBC کو گزشتہ روز دیا گیا انٹرویو پی ڈی ایم کو حیران پریشان کر رہا ہے۔ دوسری طرف عوام حکومتی گورننس اور مہنگائی کی بلند ترین سطح کو نہ جانے کس کس طرف سے دیکھ رہے ہیں۔ لہٰذا موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن کے متعلق امکانی زائچہ کچھ یہ ہے کہ کل 23 سیٹوں میں سے 8 سے دس تحریک انصاف پانچ سے سات PPP چار سے 6آزاد اور باقی ماندہ میں سے باقی جماعتیں جیتیں گی۔ بہرحال، خطے کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے باشعور، تہذیب یافتہ اور انسان دوست عوام سے اپیل ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں اور قومی سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ محض ووٹوں کے لئے اتنی دور نہ نکل جائیںکہ واپسی ناممکن ہو۔ تصویر کشی کیلئے صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ کسی ہوٹل میں گاہک بے چارہ ’’کافی‘‘ کا انتظار کرتے کرتے تنگ آگیا تو ہوٹل سے اٹھ کر جانے لگا۔ اتنے میں ویٹر دوڑا دوڑا آیا اور میز پر کافی رکھتے ہوئے بولا۔

 ’’ناراض نہ ہوں جناب! بڑی مزیدار کافی لایا ہوں۔ جنوبی امریکہ کی ہے۔‘‘ 

گاہک نے بھنویں اوپر اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘معاف کرنا مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم میری خاطر اتنی دور چلے گئے ہو‘‘…!

٭ اب ہمارا پلان چلے گا: بلاول بھٹو

٭ سوچنے بیٹھو، تو یہی خیال آتا ہے کہ تخلیق آدم کو کائنات کی سب سے معتبر حیثیت بخشی گئی ہے لیکن اسی انسان کے کردار کو دیکھو تو تجسس کی نئی ہی دنیا سامنے آتی ہے۔ بہرحال، آج ملک میں سیاسی پارہ عروج پر ہے۔ محترمہ مریم نواز اپنا جہاز ڈبونے کے بعد تحریک انصاف کا جہاز ڈبونے کے درپے ہیں اور حکومت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ وہی حکومت جو کبھی ان کے پاس تھی اسے گنوا کر پھر سے اسے حاصل کرنا چاہتی ہیں حالانکہ وہ یہ حقیقت نہیں سمجھ رہی ہیں کہ وہ ایسا مقدمہ جیتنا چاہتی ہیں جس کی مدعی بھی خود اور گواہ بھی خود ہیں۔ بہرحال، وہ جانیں اور ان کی سیاست، میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اگر وہ میری اور جناب نثار علی خان کی نہ سہی اپنے وفادار چچا جناب شہباز شریف کی ہی نصیحتیں مان لیتیں تو شاید آج وہ حکومت کر رہی ہوتیں۔ اب جبکہ وہ ایسے پرخطر راستوں پے چلنے کیلئے مجبور ہیں جہاں پھول نہیں کانٹے ہیں جبکہ ان کے ہمسفر بھی جلتے بجھتے دیئے ہیں۔ البتہ اس مشکل ترین سفر میں چلتے چلتے بلاول بھٹو کی سیاست کافی حد تک بالغ ہو چکی ہے۔ انہوں نے جناب نواز شریف کے بیانیہ کو ناقابل قبول قرار دیکر نہ صرف انپے بیانیے کو واضح کر دیا ہے بلکہ کامیاب سیاست کے زینے پر پہلا قدم بھی رکھ دیا ہے لہٰذا امکان غالب ہے کہ آئندہ وہ نہ صرف جناب زرداری کے سیاسی داغ دھبے دھو دیں گے بلکہ خود کو بھی سہاروں کی سیاست کے بجائے پیاروں کی سیاست کے ساتھ سیاست کریں گے اور ماضی کے جناب نوازشریف کی طرح خوش نصیب سیاستدان کہلائیں گے۔ کسی شاعر نے کہا تھا

ان آبلوں سے پائوں کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر

٭ میر شکیل الرحمن ضمانت پر رہا…؟

٭ درحقیقت یہ آزادی صحافت کی جیت ہے۔ اگرچہ جس دن میر شکیل الرحمن ایڈیٹر انچیف روزنامہ جنگ گروپ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی دن میں نے حکومت کے ایک نہایت معزز اور بااثر وفاقی وزیر کو فون کر کے کہا تھا۔ یہ خلاف ضابطہ ہے اس سے حکومتی بدنامی ہو گی جبکہ نڈر، بہادر اور مقتدر شخصیت جناب شکیل الرحمن پر قومی خزانہ لوٹنے کا الزام بھی نہیں ہے مگر افسوس ،کہ وہ بھی بے بس دکھائی دیئے۔ بہرحال، ان کی گرفتاری قابل مذمت تھی۔ سپریم کورٹ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے 34 سال پرانے بے بنیاد پراپرٹی کے کیس پر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ جس پر میں دلی 


ای پیپر