خاموشی کا فن
11 نومبر 2019 (23:38) 2019-11-11

پُرسکون، تخلیقی، مثبت زندگی کے لیے ایک قیمتی تحفہ

ہاتھ سیدھا ہونے کی دیر ہوتی اور میں جان لیتا۔ کسی کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ۔ میں نے انگلینڈ تک سے کتب منگوائیں اور جوتش، نجوم وغیرہ علوم کو پڑھ ڈالا۔ 6 ماہ کے اندر میں ایک ماہر ہو چکا تھا۔ کیرو سمیت کئی مصنفین کو پڑھ لیا۔ پھر میں رک گیا۔ لاشعوری طور پہ لوگوں کو پڑھنے لگا تھا۔ خود بخود نظر ہاتھ پہ جا پڑتی اور کتنا ہی کسی کے بارے میں جان لیتا۔ ایک دفعہ کزن آئی اور دورانِ گفتگو ہتھیلی اٹھا کے میری طرف کھولی۔ بے اختیار منہ سے نکلاامی بچالو ورنہ اسے طلاق ہوجائے گی۔ امی کی سنجیدہ صلواتیں جوتی سمیت مجھ پہ آئیں”بے غیرت کیا بکتا ہے۔ وہ تو بڑی خوش زندگی گزار رہی ہے۔ کم بخت کچھ ٹھیک منہ سے نکال لیا کر“۔ ٹھیک ساڑھے چار ماہ بعد اسے طلاق ہوگئی۔ کہنا میں یہ چاہ رہاہوں کہ:

خاموشی ، قدرت کی زبان ہے....

جب ہم کسی باب میں یک سو ہو کے غور کرتے ہیں تو اس کے راز کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ قدرت خاموشی میں ہم کلام ہوتی ہے۔ رموز، اشارے اور کبھی پورا مضمون نازل کرتی ہے۔ خدا اپنے محبوب کی خاصیت گنواتا ہے کہ بولتا نہیں، جب تک اجازت نہ ہو۔ حضورِ اقدس نے فرمایا کہ خاموش، فلاح پاگیا۔ سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ نے کتاب لکھی جو زندگی کے حجابات اٹھاتی ہے، کشف المحجوب۔ لکھتے ہیں کہ چُپ کی دو قسمیں ہیں:1۔ جب سکوت مقصود ملنے کا ہو (یعنی رضائے خداوند) 2۔ غفلت کا سکوت (جب قلب و ذہن جسم کے ساتھ موجود نہ ہوں)۔ اسی طرح کلام کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک حق دوسری باطل....لیکن یہ کائناتی ربانی راز اس پہ کھلیں گے جس کی خاموشی بھی خالص اللہ کے لیے ہو گی۔اسے لمحہ¿ سچائی (Moment of truth)کہتے ہیں۔ اس لیے بولو ضرور پر جب عطا ہو جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فیض عطا ہوتا ہے پر درحقیقت ایسا نہیں۔ اس کے لیے بھی مکمل کوشش کرنی پڑتی ہے تب انعام کی صورت میں عطاﺅںکی بارش ہوتی ہے۔ ابوبکر شبلی نے کسی سے کہا کہ ”میری گفتگو تیرے سکوت سے بہتر ہے۔ اورتیرا سکوت میری گفتگو سے بہتر ہے“ یعنی بولے وہی جس کے بول سے کچھ نفع حاصل ہو۔ اس لیے بھلے لوگو تبھی بولو جب ضروری ہو یا مجبوری ہو۔ گویا:

الٹی چال چلتے ہیں دیوانگانِ عشق

آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے

گیجٹس(Gadgets)کے بحران....

حالاں کہ کئی صدیاں پہلے ابوبکر رازی، جعفر محمد بن موسیٰ، ابنِ الہیثم اور الخازنی مسلمانوں میں سے دریافت کرچکے تھے، لیکن مغربی دنیا کہتی ہے کہ قانونِ ثقل نیوٹن نے دریافت کیا۔ اور اس کے لیے سیب گرنے کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے اور پھر دنیا کی زندگی میں نئے دور کا آغاز مانا جاتا ہے۔ ہم یہاں صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ مرحلہ کیا بولتے بولتے آگیا؟....نہیں بلکہ غور بھری خاموشی میں یہ جھماکا ہوا۔ اسی طرح ایجادات اور کائناتی راز ہمیشہ سے سکوت کی چلمن الٹ کے ہی بے نقاب ہوتے رہے ہیں۔

جدید دنیا میں جہاں انسان بہت کچھ مادی ترقی حاصل کر چکا، وہاں بس ایک چیز اس سے پھسل رہی ہے، یعنی خاموشی ۔ ٹیکنالوجی نے انسان سے تنہائی چھین لی ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے مخالف نہیں بلکہ اس میں ڈوب جانے کے مخالف ہیں۔ آج ہمیں سیکھنا ہے کہ اس کا درست استعمال کیا ہے۔ نفسیاتی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ گیجٹس کی دنیا میں ہمہ وقت مصروف رہنے والوں کے پاس سے ان کی تخلیقی اور جاننے کی صلاحیت (Creativity and Recognition)ختم ہو جاتی ہے۔ ضیا ضرناب بتانے لگے کہ میں نے یورپ میں وقت گزارا ہے۔ وہاں لوگ سوال کو برسوں پالتے ہیں۔ پھر مناظرہ نہیں کرتے بلکہ جواب تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس تلاش کو وہ سرچ نہیں کہتے ریسرچ کہتے ہیں۔ لیکن اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو دکھائی دیں گی:

گفتگو کی آفتیں....

یار ہم بحث نہیں ہارتے، دوست ہار جاتے ہیں۔ خاندانوں میں دیکھ لو تو سننے کا بحران ملے گا۔ لڑائیاں ہیں اور سب اکھٹا شور مچا کے ایک دوسرے کو بتانے، سمجھانے، نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حاصل وصول خاک۔ امت کو جانچ لو سب مسلمانوں کے مسائل کا حل بتا رہے ہیں، پر سننے کو تیار نہیں.... ہمارے بزرگوں نے حقیقی معنوں میں سیلف ہیلپ کی وہ کتب مرتب کیں جن کے قریب کو بھی مغربی مصنفین نہیں پہنچتے پر برا ہو اس ذہنی غلامی کا۔ امام غزالیؒ کی کیمائے سعادت بھی ایسی ہی شان دار کتابوں میں سے ایک ہے۔ جس میں وہ ظاہر و باطن کی ایسی پرتیں کھولتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ کتاب عام قارئین کے لیے ہے اور ہم تجویز کرتے ہیں کہ ہر گھر میں ہونی چاہیے۔ اِ س میں آپ نے گفتگو کے 15 فتنوں کا ذکر کیا ہے۔ زبان کا بے احتیاط استعمال ہے جو دنیا و آخرت میں رسوائیاں لاتا ہے اور خدا کے غضب کا باعث بھی بنتا ہے۔ یہاں موضوع سے متعلق امام کچھ احادیث کا تذکرہ بھی کرتے ہیں: 1۔ ”آدمی کی اکثر خطائیں اس کی زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور سب سے آسان نیکی خاموشی اور نیک خوئی ہے“۔ ”جو شخص باتیں بہت کرتا ہے وہ اکثر غلط گو ہوتا ہے اور جو زیادہ غلط گو ہو وہ زیادہ گناہ گار بھی ہوتا ہے“.... کہنا تو آسان و خوش گوار ہوتا ہے لیکن بری بھلی بات میں تمیز اصل کام ہے۔ خاموشی ان تمام وبالوں سے محفوظ رکھتی ہے.... یہ بھی تو آفت ہے کہ ہم خاموش تو ہوں پر جج بنے ہوں۔ یعنی خاموشی میں بولنے والے کے ساتھ سفر نہ کرنا بلکہ اس کی باتوں کو تولتے رہنا اور دل ہی دل میں فیصلے صادر کرتے رہنا۔ یہ بدنیتی بھی پربتوں کے رستوں میں بیرئیر لگا دیتی ہے۔ یاد رکھو:

باتوں کی قسمیں....

باتیں چار طرح کی ہوتی ہیں....1۔ جن کا نقصان ہی نقصان ہو2۔ جن میں نقصان اور فائدہ دونوں ہوں3 ۔ جن میں نفع ہے نہ نقصان4 ۔ جن میں سراسر فائدہ ہو.... پس دراصل ایک ہی حصہ ہے جو گفتگو کے قابل ہے۔ اور اسے وہی حاصل کرے گا جس کی نظر میں دینا و آخرت کا یقینی فائدہ اور نقصان واضح ہوگا۔ جنابِ عیسیٰؑ سے پوچھا گیا ہمیں وہ باتیں بتائیں جن سے ہم بہشت میں پہنچ جائیں۔ فرمایا ہرگز باتیں نہ کرو۔ عرض کی گئی ایسا تو ہم نہیں کر سکتے۔ فرمایا پھر صرف بھلی باتیں کہو۔ امام غزالی نے ایک اور حدیث بھی تحریر کی ہے کہ جب کسی باوقار اور خاموش مومن کو دیکھو تو اس کے قریب جاﺅ کیوں کہ وہ بے حکمت نہ ہوگا۔ اس امت نے وہ لوگ پیدا کیے ہیں جو اپنی باتیں لکھا کرتے اور دن کے آخر پہ ان کا حساب کرتے جیسے ربیع بن خثیم۔ وہ لوگ پیدا کیے جو جملہ کہتے پھر اس کا احتساب کرتے، پھر اگلی بات کہتے جیسے حارث محاسبی۔ دیکھو کامیابی کے متلاشیو: خاموشی الفاظ کا درست استعمال سکھاتی ہے....پھر ایک اور بھی قسِم ہوتی ہے جسے معاملات کی خاموشی کہہ لو۔ تم کہیں حق پہ ہو پر خاموش ہو گئے تو فساد تھم گیا۔ کہیں جواب دے سکتے تھے لیکن رک گئے اور طوفان دب گیا۔ ہر سچ ہر جگہ بولنے کے لیے نہیں ہوتا۔ ہمیں دو کان اور ایک زبان دی گئی ہے۔ کیا سمجھے کہ دوتہائی سننا ہے، ایک تہائی بولنا ہے۔

ایک دن میری خاموشی نے مجھے

لفظ کی اوٹ سے اشارہ کیا

خاموشی کے فائدے....

ذہن کو پراسیسنگ Processing سے روکنا مشکل کام ہے۔ لوگ اپنے ذہن کے غلام ہوتے ہیں۔ ہم آگے اس کا طریقہ عرض کریں گے۔ اگر انسان خاموشی اختیار کرنے پہ قدرت حاصل کر لے تو ان گنت فائدوں سے فیض یاب ہو سکتا ہے، جیسے بے شمار لوگ ہوئے....2۔ تجزیہ کی طاقت حاصل ہوجاتی ہے 2۔ برمحل حکیمانہ بات کہی جاسکتی ہے 3۔ تخلیقی صلاحیت اکٹھی اور تازہ رہتی ہے4۔ نیک خوئی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے5۔ کائنات کے راز آشکار ہونے کا راستہ ہے 6۔ مسائل کے حل میں صائب رائے تشکیل پاتی ہے7۔ گفتگو کے فتنوں سے یقینی بچاﺅ ملتا ہے وغیرہ ....امام راغب اصفہانی نے بتایا کہ سَکَتَ کا لفظ قرآنِ حکیم نے ایک دفعہ استعمال ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے غضب کے ٹھنڈا ہونے کے لیے۔ یعنی کہ شدید غصہ ہو یا شدید خوشی ہر دو حالتوں میں صحیح فیصلہ کرنا قریباََ ناممکن ہوتا ہے تاکہ مناسب ترین ردِ عمل دیا جاسکے۔ اب آخر پہ ہم پردہ اٹھاتے ہیں اور بتاتے ہیں:

خاموش گفتگو کے اصول....

ابلاغ اور نفسیات کے ماہرین مشینوں اور لہروں بھری اس دنیا میں حقیقی انسانی شرف پانے کے لیے خاموشی کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔اور اس کے طریقوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ ہم انہیں مختصراََ بیان کرتے ہیں:

٭ مراقبہ¿ِ خاموشی ....

اعضا کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ پرسکون، آرام دہ حالت میںتنہائی کے اندر بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کر لیں۔ ذہن کو آزاد چھوڑ دیں اور کچھ نہ سوچیں۔ یہ بھی نہ سوچیں کہ آپ کچھ نہیں سوچ رہے، اس مراقبہ کومائنڈ سائنسز میں Nothingness کہا جاتا ہے۔ یہ مشکل بھی مانا جاتا ہے کیوں کہ ذہن خالی کرنے کے لیے اچھی خاصی پریکٹس چاہیے ہوتی ہے۔ شروع میں اگر یہ کیفیت چند سیکنڈز کے لیے بھی حاصل ہو جائے تو یہ حیرت انگیز معجزہ آپ کو تجربہ کروائے گا بالکل تازہ دم ہونے کا، چند سیکنڈز کے اندر اندر۔ اس دوران اگر خیالات آئیں تو انہیں دور کرنے میں مشغول نہ ہوں۔ وسوسے کی عمر توجہ ہے، یہ خود بخود چلے جائیں گے۔ ذہن کو آزاد رکھنے پہ فوکس کریں۔ ہر کسی کو مختلف تجربہ ہو سکتا ہے۔ جیسے مجھے بلینک اندھیرے اور پھر ان میں سے اندھیرے دِکھتے ہیں اور سفر جاری رہتا ہے۔ یہ ایسی منفرد پریکٹس ہے کہ جہاں کروایا وہیں لوگوں نے نئی دنیا کا تجربہ کیا۔ اور کئی ایک منٹ کے اندر ہی خراٹے بھی لینے لگے۔ آہستہ آہستہ اس میں پختگی آتی جائے گی۔ حواسِ خمسہ ہی اصل حجاب ہیں۔ ان سے ذرا اوپر نکلیں تو خدا موجود ہے۔ ان کے حجاب سے نکلیں۔

٭الفاظ اور اعداد کے بغیر سوچنا:

ہمارا ذہن کیلکولیشنز کا عادی بنا ہوا ہے۔ یہ ہر وقت لفظ اور عدد میں پھنسا رہتا ہے۔ ہمیں خیال گزرتا ہے کہ اس سے ہٹ کے دماغ کوئی کام نہیں کر سکتا لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ دماغ کو اس کی روٹین سے نکالنا خود اس سافٹ وئیر کو ری فریش کردیتا ہے۔ اور اس کی وہ صلاحیتیں جو کونوں میں چھپ گئی تھیں، سامنے لے آتا ہے۔ اس کے لیے ایک طریقہ ہے کہ لفظ و عدد کے چکر سے باہر آکے سوچنا ۔ پر کیسے؟ تو اسے کہتے ہیں:

٭پیٹرنز (Patterns) میں سوچنا:

جیسے کسی چہرے پہ غور کیا جائے اور اس کی خوبصورتی کے تاثر کو دل میں محسوس کا جائے۔ کسی منظر کے دل فریبی سے باطن میں پڑنے والے نقش کو محسوس کیا جائے۔ لہروں کے شور کے تازہ دمی کو بغیر رکاوٹ اندر آنے دیا جائے.... اسی پہ قیاس کرکے پریکٹس آگے بڑھاتے جائیں کچھ کچھ۔ آپ کو تازگی کا انوکھا احساس حاصل ہو گا اور کائنات سے ہم آہنگی پیدا ہوتی جائے گی۔

٭دل کی غارِ حرا بنائیں....

غور فرمائیے کہ حضور غارِ حرا میں کیا کرتے تھے؟ کیا بولا کرتے؟بلکہ خاموش مراقبہ اپناتے۔ غوروفکر کرتے کائنات اور خالقِ کائنات پہ۔ ہر ایک کو اپنے دل میں ایک غارِ حرا ضرور بنانا چاہیے۔ جس میں دن کا کچھ وقت بِتانا چاہیے۔ یہاں اسرار کھلنے شروع ہوں گے۔ اور بعض دفعہ ایسے راز افشا ہوں گے جن کے اظہار سے زبان عاجز ہو گی۔ جیسے گروہِ اولیا کے سردار جنید بغدادیؒ نے کہا کہ جس کو حق بات سمجھ آجاتی ہے اس کی زبان عاجز آجاتی ہے۔یہاں خدا تک تفکر وتدبر کی راہ کھلتی ہے۔ خود کو وقت ضرور دیں۔ آپ کے تعلق دار بہت اہم ہیں لیکن آپ بھی کسی طور کم نہیں۔ اس لیے متوازن زندگی کے حصول کے لیے خود کو وقت دینا بہر طور لازم ہے۔ اس لیے 24گھنٹوں میں کچھ وقت مقرر کر لیجیے اور وہ چند منٹس اکیلے گزاریں۔

٭اپنی کمپنی انجوائے کریں....

گھر سے باہر نکلے ہوں، کسی پارک یا سیاحت کے سفر پہ ہوں یا اکیلے ہوںتو اس تنہائی سے لطف اندوز ہونا سیکھیں۔ یہ فن آپ کو کبھی دیگر فوائد کے ساتھ کبھی بور نہیں ہونے دے گا۔ مناظرِ فطرت سے خاموش باتیں کریں۔ کسی جھرنے کے شور کی تسلی دل پہ لیں۔ کسی پرندے کی معصومیت کو باطن کی آنکھ کھول کے دیکھیں۔ کبھی خود کو کسی اچیومنٹ پہ تھپک کے داد دیں۔ کبھی اکیلا قہقہہ لگائیں۔ کبھی واک پہ محسوس کریں کہ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ دنیا آپ کو حسین نظر آنے لگے گی۔ یاد رکھیے کہ یہ ہمارا ذہن ہوتا ہے جو باہر کا موسم تخلیق کرتا ہے۔ اس لیے خاموشی کو تفصیل میں لائیں اور ہمارے لیے دُعا کریں۔

رنگ درکار تھے ہم کو تیری خاموشی کے

ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

اپنے نفسیاتی، معاشرتی، روحانی، انفرادی، اجتماعی مسایل میں مشاورت کے لیے نئی بات کو لکھیے یا ای میل کیجیے۔

syyed.wrtier@gmail.com


ای پیپر