پرائیویٹ ادارے تعلیمی نظام میں حکومتی اداروں سے بہت آگے ہیں
11 نومبر 2019 (23:36) 2019-11-11

انٹرویو: اسد شہزاد:

ہائرایجوکیشن کے بے جا رویے، سپریم کورٹ کی طرف سے فیسوں پر قوانین کا اطلاق اور معاشی بدحالی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر بڑھتے ہوئے دباﺅ نے مشکلات کے دائرے کھینچ دیئےجہاں سے نہ اندر اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے آئین کی شق نمبر 25-A کے تحت پانچ سال کی عمر سے 18سال کی عمر تک کے طلباءوطالبات کو مفت تعلیم اور کتاب دینا حکومت کے اوّلین فرائض میں شامل ہے اور یہ پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر ہی ہے جس نے پاکستان میں تعلیمی شرح خواندگی کو 52 فیصد تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میری اس بات کو کوئی مانے یا نہ مانے، حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کھربوں روپے کے بجٹ میں اگر حکومتی تعلیمی ادارے نہیں چل سکتے تو پھر وہ بجٹ ہمیں دے دیں، ہم آپ کو بہترین معیار دینے کو تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی وزیرتعلیم، ساﺅتھ ایشیا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ق لیگ کے رہنما عمران مسعود نے گزشتہ دنوں ”نئی بات“ کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا۔

گجرات کی دھرتی نے یوں تو اہم کردار ادا کرتے ہوئےپاکستان کی سیاست کو وزرائے اعظم سے لے کر بڑے نامور سیاستدان دیئے جن کی خدمات ہماری جمہوری تاریخ کا ایک باب ہیں۔ انہی میں میاں عمران مسعود کا گھرانہ مکمل سیاسی، علمی اور مذہبی عقیدوں کا ایک مرقع ہے۔ پنجاب کے وزیرتعلیم کی حیثیت سے ان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ ق لیگ کی حکومت کے منشور کے تحت ”پڑھا لکھا پنجاب“ کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب بھر کے دیہاتی اور شہری علاقوں میں نہ صرف لاکھوں غریب بچوں کو سکول کے راستے دکھائے، مفت کتابیں اور مفت تعلیمی نظام کی تکمیل کی اور پھر اس کامیاب منصوبے کو دیکھ کر ورلڈبینک نے پنجاب حکومت کے کامیاب ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے دس سال کے لیے اربوں روپے دیئے مگر ہماری ایک بدقسمتی جو قیام پاکستان سے اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی، وہ یہ کہ آنے والی حکومت جانے والی حکومت کے بہترین منصوبوںکو نہ صرف بند کر دیتی ہے بلکہ کامیابی کے دروازوں پر تالے بھی لگا دیئے جاتے ہیں۔ میاں عمران مسعود کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان کی پانچ سالہ انتھک محنت کے بعد جب پنجاب کی سطح پر نظام تعلیم نے غریب بچے کے دروازے پر دستک دے کر اس کے لیے سکول کے دروازے کھولے اور وہ کامیابی کی طرف دیکھ رہا تھا تو ن لیگ کی حکومت نے ان کی کامیاب پالیسیوں پر پانی پھیر دیا۔

ایک طرف سیاسی گھرانہ، دوسری طرف علمی میدان دونوں میں میاں عمران مسعود نے اپنی اہلیت، قابلیت اور وسیع ویژن کے ساتھ یہ ثابت کر دیا کہ ہم ہیں تو زمانہ ہے اور زمانہ ہے تو ہم ہیں۔خوبصورت نین نقش، جاذب نظر شخصیت، بہترین کردار، گفتار اور صاف وشفاف کردار کے مالک نے زندگی بھر انکساری اور خدمت میں گزار دی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آئیں! ساﺅتھ ایشیا یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں عمران مسعود سے ہونےوالی گفتگو آپ بھی پڑھیں۔

ق لیگ کے دور میں آپ نے پنجاب کا وزیرتعلیم ہونے کے ناطے بہت سے تعلیمی منصوبے روشناس کرائے، خاص کر پنجاب میں نظامِ تعلیم کو ایک اُمید ملی کہ ہم پڑھی لکھی قوم بن پائیں گے اور خاص بات یہ کہ ورلڈبینک نے آپ کی کارکردگی کو بہت سراہا، پہلے تو یہ بتایئے کہ وہ پروگرامز تھے کیا؟

جب میں نے پنجاب میں وزارت سنبھالی تو میرے سامنے بے شمار چیلنجز تھے۔ ان میں بڑا خلاءجو میں نے دیکھا وہ یہ کہ نچلی سطح پر قائم سکولز کے اندر بے پناہ خامیاں تھیں، اس زمانے میں نو ملین بچوں میں سے چار ملین تعلیمی سہولیات میسر نہ ہونے سے واپس گھروں کو لوٹ چکے تھے۔ ہمارا انفراسٹرکچر بہت کمزور تھا۔ اس وقت پنجاب بھر میں ہمارے پاس 63 ہزار سکول تھے اور آپ کو سُن کر حیرانگی ہو گی کہ ان میں سے چالیس ہزار سکولوں کا حال یہ تھا کہ کسی کی چاردیواری نہیں تو کسی کے کمرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے، کُرسیاں تھیں تو میز نہیں تھے۔ سکول تھا تو اساتذہ نہیں تھے، کہیں پر تو فرنیچر تک دستیاب نہیں تھا۔ اس زمانے میں تو 500 کالجز کی حالت تک بہت کمزور تھی اور جو دو تین یونیورسٹیاں تھیں ہائرایجوکیشن ان پر پیسہ نہیں لگاتا تھا، دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ یہ ناظمین کا دور تھا اور ترقیاتی فنڈز کے نام پر زیادہ پیسہ وہ لوگ لے جاتے تھے۔ ان مسائل میں رہتے ہوئے میں نے سوچا کہ کون سا قدم اُٹھایا جائے جس سے ایک تعلیمی نظام تو طے ہو سکے اور جس کو بنیاد بنا کر آگے کی طرف جایا جائے تو ہم نے پنجاب بھر میں پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک مفت کتاب اور مفت تعلیم کا راستہ اپنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ وظیفہ کا اجراءہوا اور ہم نے 15ہزار بچوں کو مختلف اضلاع میں جن کی شرح خواندگی چالیس فیصد سے بھی کم تھی، وظائف دیئے۔

ورلڈ بینک نے بھی کہہ دیا کہ اس منصوبے سے پاکستان میں نظامِ تعلیم نہ صرف بہتر ہو گا بلکہ عام بچہ بھی پڑھائی کی طرف راغب ہو جائے گا؟ وہ اس جانب کیوں آئے؟

دیکھیں انسان جب اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے ترقی کی راہیں ایک ویژن کے ساتھ تلاش کرتا ہے، اس کی تکمیل تب جا کے ہوتی ہے جب آپ کو اعتماد ملے، اس زمانے میں چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ ان کا بھی ویژن یہ تھا کہ مفت تعلیم کا پیغام گھر گھر دیا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی قدم اُٹھائے جائیں میں اس پر ثابت قدم رہوں۔ ظاہری بات ہے کہ ہمارے پاس پیسے تو تھے نہیں کہ ہم پنجاب بھر میں اتنا بڑا قدم اُٹھاتے اور نہ ہی اس وقت وفاق کے پاس تعلیم پر صرف کرنے کے لیے پیسے تھے۔ اس کے لیے ہمیں ورلڈبینک کا راستہ لینا پڑا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ شراکت کرتے ہوئے آسان اقساط پر قرضہ دیا جو ہم نے چالیس سال کے بعد اد اکرنا تھا۔ پھر ہوا یہ کہ جیسے ہی ہمیں مالی امداد ملی ہم نے اپنے ان پراجیکٹس پر کام کا آغاز کر دیا جس سے مفت تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے۔ یوں ہمارا پڑھا لکھا پنجاب پروگرام بہت آگے تک گیا اور میرے لیے حیران کُن امر تھا کہ پہلے سال ہی بائیس لاکھ بچے سکول کی طرف لوٹ آئے، آج تک یہ ایک ریکارڈ ہے۔ بعد میں ورلڈبینک نے باقاعدہ اس میں شراکت داری کرتے ہوئے شمولیت اختیار کر لی۔

وہ تعلیمی پروگرام تھا کیا؟

پروگرام غریب بچے کو مفت تعلیم دلوا کر اس کے آنے والے کل کو محفوظ کرنا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان میں غربت تلے پلنے والے بچے اگر تھوڑا بہت بھی نہ پڑھ سکے تو پھر آنے والے وقتوں میں یہ شرح ملک کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو گی۔ اس پروگرام کے تحت مفت تعلیم، مفت کتابوں اور کاپیوں کے علاوہ وہ وسائل جو تعلیم کے دوران بچے کو دینا تھے وہ ہم نے دیئے اور بڑی بات یہ کہ غریب بچوں کو آگاہی دینا ہی ہمارا بڑا مقصد تھا۔ دوسرا یہ ہوا کہ جن کے والدین اپنے بچے کو پڑھا سکتے تھے انہوں نے حکومتی سکولز کو خیرباد کہنا شروع کر دیا۔ اس سے پرائیویٹ سکول اُوپر آنا شروع ہو گئے اور حکومتی سکولوں کا گراف گرنے لگا۔ ایک تو ان کا مستقبل تاریک ہو رہا تھا، دوسرا لوگوں کا سرکاری سکولوں سے اعتماد اُٹھنے لگ گیا، یہ صورتحال مزید پریشان کُن بنی۔ سرکاری سکولز کی حالت تو بہت سے علاقوں میں ایریاز میں بھوت بنگلہ سے کم نہ تھی۔ بچے سکول نہیں آتے تھے، اُستاد غائب ہوتے تھے، زیادہ تر علاقوں کے سکولوں میں جانور باندھے جاتے تھے حتیٰ کہ بچیوں کے سکولوں کی چار دیواری کے اندر ٹوائلٹ تک کی سہولیات نہیں تھیں۔ جب ہم نے ان تمام حالات کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ اس کا گراف تو صفر کی حدوں کو چھو چکا ہے۔ آپ کو حیران کُن بات بتاﺅں کہ میرے دور میں تعلیمی بجٹ 34 ارب روپے تھا اور اس میں سے 26 ارب روپے تنخواہوں پر صرف ہو جاتے تھے یعنی صرف 6ارب روپے سکولوں کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوتے تھے۔ کامیابی کی طرف جانے کے لیے جب ہم نے ٹوٹل تخمینہ لگایا تو پتہ چلا کہ اس نظام کو چلانے کے لیے 90 ارب روپے درکار ہیں۔ ہمارے پاس تو پیسہ تھا ہی نہیں، اب چونکہ ہم پلان کا اعلان کر چکے تھے، غریب والدین کی بہت سی اُمیدیں ہم سے وابستہ ہو چکی تھیں، ہوا یہ کہ ہمیں تین سو بلین ڈالر عالمی بینک نے دیے۔ اسی دوران ورلڈبینک کے دو صدور نے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور ہمارے کامیاب ویژن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید دس سال کی ایکسٹینشن دے دی یعنی سو بلین ڈالر ہر سال کے لیے۔ اس مدد نے ہمارے تمام منصوبوں کو کامیابی کے راستوں پر ڈال دیا۔ اس کے ساتھ ہی ق لیگ کا گراف بہت اُوپر چلا گیا۔ کامیابی کی وجہ یہ بنی کہ تعلیم کے نظام میں نہ سیاست کی اور نہ کسی کو کرنے دی اور اس کے تمام اغراض ومقاصد پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوا۔ دیکھیں یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی منصوبے میں جب آپ اس کے ویژن سے ہٹ جاتے ہیں تو پھر اس کی ناکامی کے چانس سوفیصد مزید بڑھ جاتے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ 73 سال گزرنے کے بعد بھی ہم نظامِ تعلیم پر تجربات کیے جا رہے ہیں، دُنیا نے کتاب کو پڑھا اور ہم نے کتاب کو بند کر دیا، کیا وجہ بنی، کیوں ایسا ہوا؟

کچھ لوگ آج بھی اس دھرتی کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارے یہاں جو آیا اس نے کام کیا نہیں بلکہ مزید بگاڑا۔ اب میں ایک مثال دوں کہ دُنیا کیوں کامیاب ہے، وہ جب بھی کوئی منصوبہ بناتے ہیں تو اس کا مقصد عوامی فلاح وبہبود کے لیے وقف ہوتا ہے۔ وہاں حکومتیں آتی جاتی ہیں مگر ان کے منصوبے جاری رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں اگر جانے والے نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو آنے والا اس کا منصوبہ بند ڈبوں میں لے جاتا ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس پر کتنا پیسہ خرچ ہو چکا اور وہ کس قدر آگے جا چکا ہے، ہمارے ساتھ بھی تو یہی کچھ ہوا۔ جیسے ہی ہماری حکومت ختم ہوئی ن لیگ نے ایک کامیاب تعلیمی نظام کو جس کی بنیاد پانچ سال قبل رکھی گئی تھی، جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے تھے، جو غریب بچے کی آواز بن چکا تھا، کو ختم کر دیا اور جب ورلڈبینک کے علم میں یہ بات آئی کہ اس بڑے منصوبے کو صرف سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ختم کر دیا گیا ہے تو انہوں نے مزید مدد دینا بند کر دی۔ یہاں آپ کو یہ بات بتاتا چلوں کہ ہم نے تمام اہداف کو عبور کر لیاتھا۔ اب تو اس کو مضبوط ڈھانچے میں لے جانے کے لیے دن رات کام ہو رہے تھے اور ہمیں ایک راستہ مل چکا تھا اور عرصہ پانچ سال میں لاکھوں مفت کتاب اور تعلیم سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ انہی پانچ سالوں میں ہم شرح خواندگی کو 40 فیصد سے 60 فیصد پر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ کوئی عام بات نہیں، یہ اعدادوشمار ہمارے نہیں بلکہ برطانوی ادارے کے ہیں۔ ایک بات کا اور ذکر کرتا چلوں کہ ورلڈبینک نے دُنیا میں چودہ تعلیمی پروگرامز شروع کیے، ان میں ایک پاکستان میں تھا جو کامیاب ترین ٹھہرا۔ ورلڈ بینک نے شہباز حکومت کو کہا کہ اگر آپ نے اس کامیاب منصوبے کو بند کیا تو ہم نہ صرف امداد بند کر دیں گے بلکہ آنے والے کل میں آپ کی کسی طرح کی مدد نہیں کی جائے گی۔ یہاں شہباز شریف نے یہ پروگرام کسی اور نام سے چلایا اور آہستہ آہستہ اس کو سیاست کی نظرکر دیا۔

ہر حکومت نے یہی گھناﺅنا کھیل کھیلا اور یہ کامیاب تو قوم ان پڑھ ہوتی گئی، ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم مفادات میں ایک اچھے بھلے چلتے نظام کو یا تو بند کر دیتے ہیں یا پھر اس میں اس قدر سیاسی مفادات لے آتے ہیں کہ وہ منصوبہ ختم ہو جاتا ہے؟

کچھ فرسودہ روایات نے پاکستان کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ میرے نزدیک تعلیم کے شعبے کو ترجیح نہ دینے سے معاملہ خراب ہوا۔ دوسرا ہمارے لیڈروں کے کمزور ویژن نے زیادہ تباہی پھیلائی۔ دیکھیں سیاستدان ہمیشہ جلدی میں ہوتا ہے اور اپنی حکومتی مدت میں وہ جلدی جلدی منصوبے بناتا ہے۔ اس کی نظر میں تعلیم کی بجائے سڑکیں اور پُل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ کیا پُل بنانے، سڑکیں کشادہ کرنے سے تعلیم آجاتی ہے، بھئی قوم پڑھے گی تو خوشحالی آئے گی۔ میرے نزدیک یہ ناقابل معافی جرم ہے اور ہر کوئی اپنی سیاسی جماعت کی سیاست چمکانے کے لیے یہ جرم کرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تعلیم ایک بنیاد ہے اور یہ ہر کسی کا حق کہ وہ پڑھے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دے۔ آج بھی پاکستان میں تین کروڑ کے قریب بچے سکول سے باہر ہیں۔ آج ہمارا نظامِ تعلیم اس قدر بہتر نہیں ہے کہ ہم اس پر فخر کر سکیں بلکہ ہم ہر اس بچے سے شرمندہ ہیں جو ہمارا منتظر ہے اور ہم سیاسی مفادات میں اس کا کل چھین چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمارے نظامِ تعلیم کو اور بہتر کرنے کی گنجائش ہے، اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے۔پوری دُنیا میں ہماری بی اے کی ڈگری کو بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں تسلیم نہیں کیا جاتا کہ ہم نے کمزور بنیادوں پر کمزور تعلیمی ویژن قائم کیے۔ برطانیہ، امریکہ اور دوسرے بڑے ممالک میں آپ کے تعلیمی شعبے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

ایوب خان کا نظامِ تعلیم آج بھی گنتی میں شمار ہوتا ہے کیوں؟

ایوب خان نے ایک نہیں، کئی کامیاب پروگرام دیے، اس نے تو ایسے ایسے پروگرام دیئے کہ اس زمانے میں باہر کے ممالک نے یہاں آکر ان کو فالو کرتے ہوئے اپنے ملک میں اس پروگرام کو آن کیا اور وہ کامیاب قوموں میں شمار ہونے لگے اور ہم صفر پر نظر آئے۔ ایوب خان نے انڈسٹری کے علاوہ منصوبہ بندی پر بہت کام کیا۔ ایوب خان اقتدار میں اس وقت آئے جب انڈسٹری بہت گروتھ پکڑ رہی تھی، وہ ایک ون مین شو تھا، میرے خیال میں ایوب خان اور مشرف دونوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے زیادہ کاموں کو بہت سراہا گیا۔

ضیاءکے دور پر آپ کی رائے کیا ہے؟

وہ بندشوں، گھٹن اور سخت ترین مارشل لاءکا دورہ تھا، گو آپ کی معاشی صورتحال تھوڑی بہت بہتر رہی مگر لوگ سخت پابندیوں میں رہتے ہوئے بُرے حالات کو فیس کرتے رہے۔ ضیاءنے زیادہ وقت افغان جنگ میں صرف کیا اور اس کے بدلے میں ہمیں بندوقیں اور ڈرگز مل گئیں اور قوم نے نشے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ کتاب کی جگہ کلاشنکوف کلچر کو زیادہ پروموٹ کیا گیا۔ یہاں بڑے مافیاز نے جنم لیا۔ ہمارے پاس لاکھوں افغان مہاجرین کے آنے سے بہت زیادہ تباہی پھیلی اور اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی۔ ہماری تجارتی مارکیٹ نیچے کی طرف تو اسمگلنگ کا گراف اوپر جانے لگا۔ اس نقصان پر ہم آج بھی اپنی تباہ شدہ نسلوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ یہ انہی کے لگائے پودے ہیں جن کو ہمارے سیاست دانوں نے پروان چڑھا دیا۔ پاکستان بدل گیا، حالات بدل گئے مگر ہماری اصل شناخت ہم سے چھین لی گئی، دہشت گردی کو ہم پر مسلط کیا۔بھٹو نے اپنا جو نعرہ دیا وہ دراصل ایک خواب تھا جس کی تعمیر کبھی ممکن نہیں رہی۔ ضیاءالحق کی اپنی اسلامک روایات تھیں، ان حالات میں معاشرہ تقسیم ہوا جس میں ہر کوئی الگ الگ دکھائی دیا۔ اس زمانے میں ہماری یونیورسٹیوں میں ایک خاص جماعت کا زور تھا، جس نے یونین کے نام پر تعلیم کو بھی یرغمال بنائے رکھا۔ آزاد قوم ہونے کے باوجود ہم محکوم نظر آئے۔ اگر کوئی میری رائے لے تو وہ پاکستان کی دھرتی اور دھرتی پر بسنے والوں کے لیے ایک مشکل ترین اور صبرآزما دور تھا۔

کیا آپ کے بعد آنے والی حکومتوں نے جو نظامِ تعلیم دیا اس میں آپ بہتری محسوس کرتے ہیں؟

سچی بات یہ ہے کہ وہ اُمید بر نہیں آئی جس کی بہت توقع تھی بلکہ تعلیم کی ایک وزارت کو دو وزارتوں میں بدلنے سے بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ کالج اور یونیورسٹی کی وزارت بنانے سے ہم نے ذاتی تعلقات تو بنا لیے مگر تعلیمی مشن سے ہٹ گئے۔ وہی جو ہمارے پاس اصل طاقت تھی کہ بچہ پڑھ لکھ کر ترقی کرے گا وہ ہم سے چھین لی گئی۔ چلیں اگر آپ نے اس نقصان کو پورا کرنا ہے تو پھر ایک دوسرے سے تعاون تو کریں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی ایک ہی ادارہ ہے۔ اس کو تو تقسیم نہ کریں، کیوں آپ ایک ادارے کے اندر اور ادارے بناتے چلے جا رہے ہیں۔ آج یہاں تین سوچیں کام کر رہی ہیں: سکول، کالج اور ہائر نظام تعلیم؛ تینوں کے الگ الگ ویژن اور ڈویژن بنا کر تعلیم کے جسم سے اس کی اصل روح کو ختم ختم کر دیا گیا بلکہ یہ تین سوچوں کا ایک تصادم ہے اور یہ غیر متوازن سسٹم ہے۔ سکول کا بچہ جب میٹرک کر کے نکلتا ہے تو اس کے سامنے کالج اور یونیورسٹی کے پہاڑ نُما بندشیں کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ وہ داخلہ لینے تک سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ہائرایجوکیشن والوں نے میرٹ کے نام پر بڑی سختیاں کر رکھی ہیں۔ سیاسی نظریات رکھنے والوں نے اس تعلیمی نظام کی بنیاد کو مزید کمزور کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ بنیاد جہاں آپ اپنے بچے کو ایک نظریے کی طرف لے جاتے ہوئے اس کا آنے والا کل روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا۔ ایک بچے کی تعلیمی ضروریات کو پروفیشنل تعلیم میں ڈھالنے کے لیے سسٹم کو اچھا کرنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ ان تمام ضرورتوں کو فراموش کر دیا گیا۔ آپ آج تعلیم کے کسی بھی شعبے یعنی انجینئرنگ، صحت، قانون یا دوسرے اداروں کو لے لیں ،کہیں بھی ایک نظام، ایک کتاب یا ایک ویژن نظر نہیں آئے گا۔ یہاں ایک اور بدقسمتی سامنے آئی کہ جب ہمارے ہاں سوچوں کو پروموٹ کیا گیا تو وہی سوچیں قانون بنا دی گئیں اور ان فرسودہ قوانین کا شکار تو ہمارا بچہ ہوا ہے، ان کو کیا فکر ہے بچہ جائے خاک میں، ان کو تو مفادات عزیز ہیں، دوسرا ہماری معاشرتی پابندیوں نے بھی تعلیمی سسٹم کی گروتھ کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

ایک غریب بچہ پرائیویٹ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ آپ نے تعلیم کو مہنگا کر رکھا ہے، وہ پڑھنے کی خواہش کے باوجود اپنا خواب پورا نہیں کر سکتا؟

آپ پرائیویٹ اداروں پر یہ پابندی تو نہیں لگا سکتے کہ وہ غریب کے بچوں کو پڑھائیں۔ پاکستان کے آئین کی شق 25A میں واضح کر دیا گیا کہ 5 سال سے 18سال تک کے بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کا فریضہ حکومت نے ادا کرنا ہے اور یہ بنیادی نقطہ ہے۔ اب بہت سے ایریاز میں حکومتی سکول نہیں ہیں لہٰذا وہاں پر پرائیویٹ سکول آگئے۔ پرائیویٹ سکول تو آپ کو پڑھنے کی سہولت تو دے رہا ہے اور وہ سہولت کیسے پیسے کے بغیر ادا کرے؟ آپ کو اندازہ نہیں کہ پرائیویٹ سکول کے اخراجات کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔ تنخواہوں سے لے کر بلڈنگ کے کرایوں تک اس نے ادا کرنا ہیں۔ ان کو کہیں سے مالی امداد نہیں مل رہی۔ دوسرا یہ کہ پرائیویٹ ادارے محنت کرتے کرتے قوم کو بڑے مقام پر لے گئے۔ جس طرح لاہور میں بڑے سکول، کالج اور بڑی یونیورسٹیاں اپنے بڑے سسٹم میں جا رہی ہیں، ان کے ہوشربا اخراجات کو بھی مدنظر رکھیں۔ اب ہر ماں باپ یہ بات چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی پرائیویٹ سکول کے سسٹم میں جائے، یہی وجہ ہے کہ غریب بچے یہاں نہیں پڑھ سکتے کہ ان میں بھاری فیس دینے کی طاقت نہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں کا نام اُوپر تو سرکاری اداروں نیچے چلا گیا ہے تو پھر آپ سرکار کا نام اُوپر لے آئیں۔ سرکار کے پاس تو اربوں کھربوں پڑے ہیں، بے تحاشا سکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں، وہاں کیوں بہتر نظام تعلیم نہیں لاسکے۔ میرا ایک سوال ہے کہ آپ کتنا معیار اوپر لے جائیں گے کہ تمام بچے چھوڑ کر آپ کے پاس آجائیں اور میرے نزدیک مقابلے کا رُجحان رہے گا اور رہنا بھی چاہیے، اب تو سپریم کورٹ نے پرائیویٹ اداروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ میڈیکل اور سکولز کی فیسوں کو کم کر دیا گیا اور اب تو قوانین بن چکے ہیں اور آپ کو بتا دوں کہ ان سخت قوانین کے آنے سے پرائیویٹ اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف ایل ڈی اے نے بھی ہمارے خلاف ہتھیار اُٹھا رکھے ہیں، یہ نہیں ہو گا تو بلڈنگ کو سیل کر دیں گے۔ اگر آپ صرف ایم ایم عالم روڈ لاہور پر ہی جائیںتو ان کے کرائے تو آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ مال روڈ پر ساٹھ ساٹھ لاکھ کرائے لیے جا رہے ہیں تو وہ سکول والا جو بچے سے دو ہزار روپے فیس لیتا ہے کہاں سے اخراجات برداشت کرے گا۔ آپ جب مارکیٹ میں جاتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے کہ کون سی گاڑی لیں۔ اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو پرائیویٹ اداروں میں اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں، آج مارکیٹ میں ہر طرح کے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

دوسرے ممالک میں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ٹیکنیکل کورسز کی کلاسز بھی پڑھائی جاتی ہیں تاکہ وہ تعلیم کے بعد کسی بھی ہنر کو لے کر اپنا روزگار تلاش کر سکیں جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے؟

جب میں وزیرتعلیم تھا تو میری بڑی خواہش تھی کہ میں ہر سکول میں ہر سطح پر پریکٹیکل تعلیم کی کلاسز کا اجراءکرتا مگر فنڈز کی کمی کے باعث کوئی بھی حکومت ایسا نہیں کر سکی حالانکہ میرے نزدیک یہ انتہائی ضروری ہے، ہمارا ٹیکنیکل سیکٹر بھی بہت کمزور ہے، سو میں سے دو فیصد بچے بھی ادھر کا رُخ نہیں کرتے، صرف جرمنی میں سو میں سے 55 فیصد لوگ ان شعبہ جات میں جا کر تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ تو حکومت کا فرض ہے کہ فنی تعلیم کے ادارے کھولے، گو ہمارا ”ٹیوٹا“ فنیتعلیم دیتا تو ہے مگر ایک ادارہ کافی نہیں۔ اس معاشرے اور کلچر میں جہاں نوکریاں نہیں ملتیں یہاں وہ بندہ پیسہ کما رہا ہے جس کے پاس ہنر ہے۔ جبکہ آپ ہنر نہیں ڈگریاں دے رہے ہیں۔ اس سے بچہ مایوسی کا شکار ہو چکا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ہماری سمت 73سال پہلے طے ہونی چاہیے تھی جو ہم نہ کر پائے۔ اگر کوریا، بنگلہ دیش، افریقہ اور دوسرے ممالک خود کو درست کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں،آپ کے پاس کیا نہیں ہے، ویژن ہے، ذہانت ہے، ماہرین موجود ہیں تو پھر کیوں آپ نسلوں کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ جن ممالک کا میں نے ذکر کیا انہوں نے دوسرے ممالک کے ماڈل لے کر اپنے ماڈلز بہترین کر لیے۔ ان ممالک میں احساس کمتری تھا جو اب ختم ہو چکا ہے جبکہ ہمارے ہاں احساس کمتری بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تائیوان، سنگاپور، ملائیشیا اور دیگر ممالک ہمیںبہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اب ہمارے پاس ہیومن ریسورسز جو ہیں اور ذہانت سے بھرے لوگ ہیں اور اس پورے خطے میں ہماری ذہانت کے بڑے چرچے ہیں، شاید ہم ان کو صحیح معنوں میں استعمال نہیں کر پائے۔ اگر اس مایوسی کے ماحول میں بھی پاکستان کی شرح خواندگی 52 فیصد ہے تو اس کا کریڈٹ ان کو ضرور دیں جو ان کو یہاں تک لے آئے اور تھوڑی بہت سست ٹرین کی مانند یہ اکنامی چل رہی ہے مگر آپ اس کو تسلی بخش نہیں کہہ سکتے۔

پرائیویٹ سیکٹر کو آج کن بنیادی مشکلات کا سامنا کرنا ہے؟

میں نے حکومتی سیکٹر میں رہتے ہوئے بڑی پالیسیز بھی بنائیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ہوں، میرا دونوں طرف کا تجربہ اور مشاہدہ ہے اور دونوں کی مجبوریوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ادارے بنائے اور پھر ان کو بند نہ کرے۔ حکومت پرائیویٹ اداروں کو جب تک اپنا پارٹنر تسلیم نہیں کرے گی حالات بہتر نہیں ہوں گے، کیونکہ جو میں نے شرح خواندگی کی بات کی اس کا تمام تر کریڈٹ پرائیویٹ سیکٹر کو جاتا ہے۔ آئین کی شق 25-A میں حکومت جو تقاضے پوری نہیں کر رہی، اس میں تو پرائیویٹ اداروں کا رول اور کارکردگی نمایاں ہے۔ حکومت ان پرائیویٹ اداروں کو شاباش دے۔ ان کی فنڈنگ کرے، اگر آپ ان کو چور اور لٹیرے تصور کریں گے یا آپ ان کے ساتھ نفرت کرتے ہوئے کوئی اور ڈبل پالیسی بناتے گئے تو پھر دونوں اداروں کی پالیسیز میں ٹکراﺅ ہو گا۔ اس طرح معاملات نہیں چلیں گے۔ آپ کو پرائیویٹ اداروں کو اکاموڈیٹ کرنا ہو گا۔ اس سے مسائل کم ہوں گے، اضافہ نہیں ہو گا، یہ میرا چیلنج ہے۔ انہوں نے تو اتنی سخت پابندیوں میں اس طرح جکڑ کر رکھا ہے کہ آپ اس کو کھول ہی نہیں سکتے، یہاں تو ایک فائل کو موو کرنے کے لیے سات آٹھ سال تک لگ جاتے ہیں۔

آپ ہائرایجوکیشن کے موجودہ سسٹم کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟

میں ہائرایجوکیشن کے سسٹم سے بہت مایوس ہوں، یہاں وفاق نے تو صوبوں کو ابھی تک ان کے حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ اب پڑھاتا میں ہوں، بچوں کو تو ان کو کب اختیار ہے کہ وہ ان کا امتحان لیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پڑھاﺅں گا میں اور ڈگری دینے کا حق بھی مجھے ہی ملنا چاہیے، اب وہ ٹیسٹ فیس کا پانچ ہزار کا ٹیکہ لگاتے ہیں، اب مجھے پنجاب اسمبلی سے چارٹس ملا ہے جو ہائرایجوکیشن نے دیا ہے، میرے چانسلر گورنر پنجاب ہیں اور اگر محکمہ تعلیم پنجاب مجھے ساتھ لے کر چلتا ہے تو یہ کہاں سے آگیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سترہویں ترمیم لے آئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس قدر قانونی پیچیدگیاں آنے والے وقت میں نظامِ تعلیم کا مزیدبیڑہ غرق کردیں گی۔

آپ نقصان میں جا رہے ہیں، حکومتی ادارے چل نہیں رہے، آنے والے کل کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟

اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ اپنے تعلیمی اداروں پر توجہ دے تو تھوڑی بہت مایوسی ختم ہو سکتی ہے۔ مجھے بتایئے کہ کہاں لکھا ہے کہ پرائیویٹ ادارے حکومتی پالیسیز کے مرہون منت ہیں، نہیں ایسا نہیں ہے البتہ سسٹم کو بدلنے اور نیا سسٹم لانے کے لیے حکومتی فرائض پر بات ہو سکتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر