بریگزٹ بحران اور برطانیہ کی سیاست ومعیشت
11 نومبر 2019 (23:32) 2019-11-11

بحران کے باعث تین برطانوی وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑا، دسمبر میں ہونے والے ایکشن انتہائی اہم ہیں

آج کے موضوع سے پاکستانیو ں کا بالعموم کوئی براہِ راست کوئی واسطہ نہیں ہے مگر بیرون ملک خصوصاََ برطانیہ اور یورپ میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی معاشی اور سماجی زندگی سخت گومگوں کا شکا ر ہے۔ بریگزٹ کی موجودہ صورت حال اور اس کی پیچیدگیوں میں جانے اور بریگزٹ کے نامکمل عمل کی وجہ سے برطانیہ کی حکمران جما عت کنزریٹو یا ٹوری پارٹی کے تین وزرائے اعظم کے استعفوں اور آنے والی صورت حال پر بات کرنے سے پیشتر آئیے آپ کو یورپی یونین میں برطانیہ کے شامل ہونے اور اس کے علیحدہ ہونے کے عمل کی تاریخ سے روشناس کروائیں۔

یورپی یونین کے قیام کے بعد 1973ءمیں برطانیہ نے اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ روایتی نسل پرستی اور دوسری جنگ عظیم کی دشمنیوں کو پس پشت ڈال کر یورپی یونین میں فرانس اور جرمنی کی مو جودگی کے باوجود کیا گیا۔ اس وقت کی برطانوی حکومت نے اپنے اس فیصلے کی توثیق کے لیے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور 1975ءمیں ریفرنڈم کے ذریعے برطانوی عوام نے یورپی یونین میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد برطانیہ یورپی یونین کا انتہائی اہم بلکہ سب سے اہم رکن بن گیا۔ یوں روس اور امریکہ جیسی فیڈریشن کے ساتھ ساتھ تیسری بڑی علاقائی طاقت یورپی یونین کی شکل میں سامنے آنا شروع ہوئی اور یورپی یونین نے اپنے انصاف اور انسانی حقوق پر مبنی بہتر قوانین کی وجہ سے دنیا میں ایک الگ مقام حاصل کرنا شروع کر دیا ۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد کچھ ہی سالوں بعد وسط ایشیاءاور یورپ سے منسلک ریاستیں بھی دھڑا دھڑ یورپی یونین کا حصہ بننے لگیں اور یورپی یونین کی سرحدیںایک طر ف یونان اور ترکی سے جا لگیں اور دوسری طرف یوکرائین تک آتے ہوئے روس اور وسطی ایشیاءسے منسلک ہو گئیں۔ اس میں بہت ساری کم خوشحال مثلاََ پولینڈ ، البانیہ جیسی ریاستیں اور کچھ نہایت غریب ریاستیں مثلاََ رومانیہ اور لٹویا بھی شامل ہو گئیں اور پھر 90ءاور 2000ءکی دہائیوں میں آنیوالے معاشی بحران نے یورپ سے لیکر پولینڈ اور دوسری بہت ساری ریاستوں کو متاثر کیا اور برطانیہ ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور بیلجیم سیمت تمام خوش حال یورپی ممالک نے معاشی بحران کا شکار یورپی ملکوں کی مدد کی اور اپنے عوام کے ٹیکس کے پیسے ان ممالک کی مدد میں لگا دیے، نہ صرف یہ بلکہ ان چھوٹی یورپی نوزائیدہ ریا ستوں سے لاتعداد مزدور اور آبادکاروں نے یورپ کے خوشحال ممالک مثلاََ برطانیہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین کا رخ کر نا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ان ممالک میں اپنے عوام کے لیے روزگار کے مواقع اور روزگار کا حصول ایک مشن بن گیا۔

2010-2008ءکے شدید کساد بازاری کے بحران کے بعد برطانیہ میں یو رپی باشندوں کے کام کرنے کی اجازت مفت علاج اور ریاستی مفادات حاصل کرنے کی سہولیات کے خلاف باقاعدہ قوم پرست جماعتوں کی طرف سے تحریک چلائی گئی اور 2015-16ءکی انتخابی مہم میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عوام سے وعدہ کیا کہ اگر وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہو گئے تو وہ پورے برطانیہ میں ایک نیا ریفرنڈم کر وائیں گے اور اس میں عوام سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ اب بھی یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں اور 2015ءمیں الیکشن جیتنے کے بعد وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے وعدے پر عمل کر تے ہوئے 2016ءمیں برطانیہ میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑاریفرنڈم کروایا جس میں عوام سے صرف دو سوال پوچھے گئے۔ Remaian یا Exit یعنی رہنا ہے یا نکلنا ہے۔ برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں میں اس کے اندر اختلا ف پایا گیا اور تقریباََ ہر جماعت میں دو دو گروپ بن گئے اور برطانیہ کی سب سے بڑی نسل پرست پارٹی نے نائیجل فراج کی سربراہی میں Exitیعنی نکلنے کے حق میں بہت بڑی مہم شروع کر دی اور عوام کو جھوٹے اعدادو شمار اور نظریا ت کے ذریعے یہ باور کروایا کہ ملک کا صحت کا نظا م اور دوسرے مالیاتی اور آبادکاری کے سب نظام نہایت خطرے بلکہ تباہی سے دوچار ہیں۔ اس کا واحد حل برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا ءہے جس کے نتیجے میں2016ءکے ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے 49 فیصدکے مقابلے میں 51 فیصد ووٹوں کے نہایت چھوٹے مارجن سے Exit یعنی Brexit کے حق میں فیصلہ دے دیا جس کے بعد ایک سال پہلے ہی دوبارہ منتخب ہونیوالے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس بنیاد پر استعفیٰ دے دیا کہ چونکہ وہ Remainیعنی رہنے کے حق میں تھے۔ لہذا جماعت میں سے اس کو وزیراعظم بننا چاہیے جو Brexit کے حق میں ہے، یہی کامیاب جمہوریتوں اور جمہوری روایات کی خوبصورتی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ٹوری پارٹی نے تھریسامے جو کہ اس وقت داخلہ امور کی سیکرٹری تھیں، کو اپنا نیا وزیراعظم منتخب کیا اور انہوں نے یورپی یونین کے انخلاءکے عمل کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے کر یورپی یونین سے کسی بہتر ڈیل کے تحت انخلاءپر مذاکرات شروع کر دیے۔چونکہ جب یہ طے پا گیا تھا، ریفرنڈم کے فیصلے سے برطانیہ کو علیحدہ ہونا ہی ہے تو اس عمل کو احسن طریقے سے انجام دینے کے لیے تھریسامے کا وزیراعظم بننا بظاہر بہترین فیصلہ تھا تاکہ یورپ سے علیحدہ ہونے کے باوجو د برطانیہ اور یورپ کے درمیان ایسا معاہدہ یا ڈیل طے پائے جو برطانیہ کے لیے زیادہ تجارتی طور پر نقصان دہ نہ ہو کیونکہ برطانیہ کی معاشی تجارت کا زیادہ ترانحصار یورپ پر ہی ہے خصوصاََ روزمرہ کی اشیاءاور اجناس اور پھر سب بڑی کمپنیاں جن میں گاڑیو ں کے کارخانے اور دوسری بڑی صنعتیں شامل ہیں، کی سب فیکٹریاں یورپ کی ہی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ اس لیے برطانیہ نے سافٹ Exit کی شکل میں دوطرفہ معاہدہ کی تیاری شروع کر دی اور اس عمل کو بہت سخت بنانے سے اجتناب کی پالیسی اپنائی جس کا واحد مقصد اس کو ایک بدترین طلاق سے مشابہت دے کر اختتام کرنا نہ تھا۔ اس معاملات میں خصوصی طور پر آئرلینڈ کے باڈرکا معاملہ بھی شامل ہے کیونکہ دونوں فریقین تجارتی اور رابطے کے طور پر نرم باڈر چاہتے ہیں چونکہ آئرلینڈ دو حصوں میں تقسیم ہے اور اس کا ایک حصہ1948ءسے ایک آزاد حیثیت سے ہے اس لیے وہ تو ہر حال میں یورپی یونین کا حصہ ہی رہے گا جب کہ آئرلینڈ کا وہ حصہ جو برطانیہ کے زیر انتظام ہے وہ بھی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں نہیں ہے اس لیے یہ ایک نہایت پچیدہ صورت حال ہے اس کے علاوہ تھریسامے کو یورپی ممالک کے سربراہان اور صدر یورپی یونین سے مذاکرات کے بہت سے دور کرنے پڑے تاکہ انخلاءکے بعد کی پچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ان مذاکرات کے بہت سے دور ہوئے اور ان میں تمام مسائل خصوصاََ تجارت کسٹم ڈیوٹی، ٹیکس سسٹم، ویزہ فری آمدورفت، ایک دوسرے کے شہریوں کی آباد کاری، آئرش باڈر اور دوسرے معاملات پر بات چیت ہوتی رہی ہے جس کے بعد تھریسامے نے یورپ سے ایک ڈیل یا معاہدے کا مسودہ تیا ر کیا جس کو دستخط کرنے سے پہلے برطانیہ کے دونوں ایوانوں یعنی دارالعوام اور دارالعمراء(ہاﺅس آف کامنز اور ہاﺅس آف لارڈز)سے منظور کروانا لازمی تھا مگر بہت کوششوں کے باوجود تھریسامے کو اپنے پارٹی ممبران اور سکاٹش پارٹی اور لیبرپارٹی کی مخالفت کا سامنا رہا اور برطانیہ کی پچھلی100 سالہ تاریخ میں حکمران جماعت کو 3بار دوبارہ ووٹنگ کر وا کر بھی بدترین مارجن سے شکست اور ہزیمت کا سامنا کر نا پڑا اور پارلیمنٹ میں متعدد شکستوں اور اپنی پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی پر تھریسامے نے رواں سال آنکھوں میں آنسوﺅں کے ساتھ اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے دوسرے ساتھی ممبران پارلیمنٹ کو خبردار بھی کیا کہ اس سے بہتر ڈیل یورپ سے ملنے کی توقع نہیں ہے اور بریگزیٹ سے دوسرا راستہ صرف Nodealیعنی سخت بریگزٹ ہے جس کا مطلب دوطرفہ ویزہ پا بندیاں، دوطرفہ محصولات، چیکنگ، کسٹم ڈیوٹی اور درآمدی ٹیکس شامل ہیں۔

اگست 2019ءمیں تھریسامے کے مستعفی ہونے کے بعد برطانوی وزیراعظم کی دوڑمیں بہت سے نام شامل ہوئے جن میں پاکستانی نژاد اس وقت کے وزیر داخلہ ساجد حسین بھی شامل تھے لیکن بلا آخر قرعہ فال لندن کے سابق میئر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہترین دوست بورس جانسن کے نام نکلااور بلاشبہ بورس جانسن نے 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میں بہت پر اعتماد اندا ز میں قدم رکھا اور دعویٰ کیا کہ وہ تھریسامے سے بہتر معاہدہ حاصل کرنے میں کامیا ب ہوجائیں گے اور ان کو برطانوی پارلیمنٹ سے منظوری کروانے میں بھی مشکل پیش نہیں ہوگی۔ مگر پہلی ہی ووٹنگ میں شکست کے بعد برطانوی وزیر اعظم نے ڈرامائی انداز میں برطانوی پارلیمنٹ کو ملکہ برطانیہ کے حکم نامے کی مدد سے ایک ماہ کے لیے معطل کر وا دیا اور بہانہ یہ لگایا کہ اس سے ان کو بریگزٹ کی تیاری میں مدد ملے گی جس کی آخری تاریخ یا ڈیڈلائین 30 اکتوبر تھی جو کہ 2016ءسے لے کر برطانیہ کی درخواستوں پر چوتھی توسیع تھی۔ لیکن برطانوی عدالت نے اس پارلیمنٹ کی معطلی کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا اور بورس جانسن کو اُسی ما ہ ہاﺅس آف کامنز کا اجلاس بلانے کا حکم دیا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پہ در پہ پارلیمنٹ میں ناکامیوں اور اپوزیشن لیڈر لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کا ربن کے مطالبے پر دوبارہ الیکشن کے لیے ووٹنگ کروائی جو دونوں ایوانوں میں کثرت رائے سے منظور ہوئی جس کے نتیجے میں اب پانچ سال میں تیسری مرتبہ عام انتخابات 12دسمبر 2019ءکو ہوںگے جس میں کامیا ب ہونے والی جماعت اور اس کے وزیراعظم کو بریگزٹ جیسے مشکل ترین عمل کو انجام دینا ہو گا۔ اب تک کے سروے اور الیکشن پو لز کو دیکھیں تو آنے والے الیکشن بھی برطانیہ کی تاریخ کے مشکل ترین الیکشن ہوں گے اور ان کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آتی نظر آرہی ہے۔ اسی طرح ٹوری یعنی کنزرٹیو پارٹی کی مقبولیت گو کہ کم ہوئی ہے مگر اس مرتبہ بھی وہ بہت بڑی تعداد میں سیٹیں لینے میں کامیاب ہو جائیںگے۔

لیبر پا رٹی کے لیڈر جیرمی کاربن نے یورپی یونین سے چالیس سالہ رفاقت کو اچھا موڑ قرار دینے اور عوام کی رائے دوبارہ جاننے کے لیے منتخب ہونے کی صورت میں Brexit پر دوبارہ ریفرنڈم کروانے کا عندیہ دیا ہے۔12دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں لیبر پارٹی جیت کے لیے پر امید ہے۔ معلق پارلیمنٹ کی صورت میںگلاسگو، ایڈنبرا اور باقی سکاٹ لینڈ سے سیٹیںجیتنے والی سکاٹش پارٹی ایک بار پھر کنگ میکر بنتی نظر آرہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ میں آنیوالے انتخابات سے کس قسم کے نتائج آتے ہیں اور پھر نئی آنے والی حکومت سے یورپی یونین کس طرح کے مذاکرات کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کیا برطانوی عوام سے رائے لینے کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کرایا جائیگا کیونکہ تمام سروے یہ بات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ برطانوی عوام سمجھتے ہیں کہ ان سے دھوکے سے Exitپر ووٹ لیے گئے ہیں اور کسی بھی جماعت نے پہلے ریفرنڈم میں عوام کے سامنے درست حقائق نہیں رکھے ۔ تمام سروے اس بات پر متفق ہیں کہ دوبارہ ریفرنڈم کی صورت میں Brexitمخالف ووٹوں کا تناسب 49 فیصد سے بڑھ کر 70فیصد تک چلا جائے گا۔

اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہوتا ہے مگر ایک بات تو بالکل عیاں ہے کہ پچھلے تقریباََچار سال میں بریگزٹ کے معاملے میں برطانوی حکومت اور عوام کو بہت زیادہ معاشی نقصان ہوا ہے اور یہ اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے اس معاملے کو اب جلد از جلد حل ہونا چاہیے تاکہ یورپ اور برطانیہ کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔


ای پیپر