دھرنے کا مستقبل
11 نومبر 2019 2019-11-11

جب سے آزادی مارچ کا دھرنا لگا ہے نواز شریف کی مشکلیں آسان ہونے لگی ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو حکومت اس سے قبل جیل میں علاج معالجے کی سہولیات سے انکاری تھی۔ اب ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے رہی ہے۔ بلاشبہ اس میں میاں صاحب کی طبیعت کی خرابی بڑی وجہ ہے، لیکن حکومت کی انسانی ہمدردی مولانا کے دھرنے کے بعد حکومت کے دل میں امڈ کر آئی۔ اسلام آباد کے باخبر حلقوں یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ جلد ہی آصف زرداری کو بھی ریلیف ملنے والا ہے۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ مولاناکو کیا ملا؟ کیا مارچ میلہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ریلیف دلانے کے لئے لگایا گیا تھا؟ جب مارچ شروع ہوا، تو یقینا یہ سمجھا جارہا تھا کہ دھرنے کے نتیجے میں سابق وزیراعظم اور سابق صدر دونوں کو ریلیف ملے گا۔ حکومت مجبور ہوگی کہ ان کے ساتھ ڈیل کرے۔ جب کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا تب یہ موقف تھا کہ ڈیل خود حکمرانوں کی ضرورت ہے ہماری نہیں۔ آصف علی زرداری یا میاں نواز شریف سے مولانا کی کتنی ہی قربت کیوں نہ سہی، لیکن ان کے لئے وہ اپنا سیاسی کریئر داﺅ پر نہیں لگا سکتے۔بظاہر مولانا کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزریاعظم عمران خان استعفا دیں۔

خیال ہے کہ میاں نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ آئندہ چند روز میں بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے۔ جبکہ مریم نواز کو کچھ عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رھنے کی اجازت دی جائے گی۔ا ٓصف علی زرداری کو بھی تقریبا یہی مراعات ملنے جارہی ہیں۔ اورعمران خان یہ کہتے ہی رہ جائیں گے کہ میں این آراو نہیں دونگا۔ بہرحال مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ استعفیٰ ہمارا ہدف ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے آپ کہہ رہے ہیں۔ استعفے سے کم کی نہیں اس کے برابر کی صورت ہو سکے تو اس کی تجویز لائی جاسکتی ہے۔

مولانا نے دو روز قبل کہا کہ ’گولیاں کھائیں گے، لاش اٹھائیں گے، دھرنا ختم نہیں کریں گے۔‘ مولانا نے فوجی ترجمان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج غیرجانبدار رہے اور رہے گی۔ پھر دھرنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے پاک افوا ج زندہ باد کے نعرے لگائے۔

کیا مولانا کو کہیں سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ نہیں ؟ اگراسٹیبلشمنٹ نے واقعی عمران خان سے علحدہ ہونے کی پالیسی اپنائی ہے تو پھر خان کی حکومت کا زیادہ دنوں تک چلنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں بساط الٹنے والی ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہوگا جب دھرنا پشاور موڑ سے ڈٰی چوک کی طرف بڑھنے لگے گا۔

اس صورت میں تین متبادلات ہیں۔پہلا یہ کہ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لائی جائے، دوسرا یہ کہ مڈ ٹرم انتخابات کرائے جائیں۔ تیسرا یہ کہ تمام سویلین سسٹم کو لپیٹ لیا جائے۔ان ہاﺅس تبدیلی اور نئے انتخابات کے آپشن اس وقت ہو سکتے ہیں جب اسٹیبلشمنٹ خان حکومت کے رھنے اور نہ رھنے کے معاملے میں غیر جانبدار ہو جاتی ہے۔ اس کا عندیہ مولانا اس بیان میں دے چکے ہیں کہ ’استعفے سے کم کی نہیں اس کے برابر کی صورت ہو سکے تو اس کی تجویز لائی جاسکتی ہے۔ ‘ اگر اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے تو کیا سمجھا جائے کہ نظریہ تسلسل ترک کردیا گیا ہے؟ جس کے تحت اہم عہدوں پر وہی جو لوگ موجود ہیں انہیں کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اگر یہ نظریہ تبدیل ہو چکا ہے تو کیا کون جائے گا؟ تیسرا آپشن عالمی اور خطے کے حالات تیسرے آپشن کی حمایت میں کرتے۔ لہٰذا تیسرا آپشن ممکن نظر نہیں آتا۔

مولانا کے پاس بھی تین آپشن ہیں۔ اول، وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اتنے فاصلے بڑھادیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس سوائے وزیراعظم سے استعفا لینے کے اور کوئی راستہ نہ رہے ۔ دوم، مولانا فضل الرحمٰن کسی مقصد کے حصول کے بغیر اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیں اور پورے ملک کے لاک ڈاﺅن کے لیے اگلی تاریخ دے دیں ، لیکن یہ بات ان کی زندگی کی سب سے بڑی جدوجہدکچھ حاصل کئے بغیر ان کا اپنا پروفائل ختم کر دے گی۔

تیسرا راستہ ٹکراﺅ کا ہے۔ جہاں وہ بطور پختون قوم پرست لیڈر کھڑے ہو جائیں، اس صورت میںانہیں نئی طاقت بھی ملے گی۔لیکن یہ بالکل ہی تصادم کی صورت ہوگی، جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔ درمیانہ راستہ بھی ہو سکتا ہے آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے فورم شکیل دیا جائے۔ لیکن یہ بھی بات کو لمبے بحر میں لے جانے کا عمل ہے۔اس سے مولانا لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکیں گے کہ انہوں نے احتجاج کے ذریعے واقعی کچھ حاصل کرلیا۔

یہ بات درست نہیں لگتی کہ ’استعفیٰ لے کر ہی جاﺅں گا‘ کی ضدنے مولانا کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔ کیونکہ تاحال اپوزیشن کی جماعتوں نے اپنی پوزیشن نہیں بدلی ہے، وہ مولانا کے ساتھ ہی کھڑی ہیں۔یہ واقعی مولانا کا کارنامہ کہ ہم نے اس حکومت کا ڈر اور اس حکمراں کا رعب و دبدبہ ختم کردیا ہے۔ اور یہ کہ جیسا عمران خان چاہیں گے ویسا ہوگا۔

اس دھرنے سے حکمران طبقات کے تضادات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ سب کے درمیان کیا کیا تضادات ہیں، وہ بھی سامنے آئے ہیں۔ لہٰذا یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ان تضادات کو حل کئے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس سے قبل مولانا کا پروفائل جوڑ توڑ کے ماہر اور اقتدار کی خوشبو سونگھ لینے کے سیاستداں کے طورپر تھا۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کر کے دکھایا کہ ان کا ایک اور روپ بھی ہے۔ لہٰذا وہ عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اب پنجاب میں نئی صف بندی کا امکان ہے یہاں جب تحریک انصاف پیچھے ہٹے گی تو پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے متبادل کی متلاشی لوگ مولانا کی طرف آئیں گے، ۔ اس کے ساتھ ساتھ جے یو آئی اقتداری سیاست کے مرکز اس بڑے صوبے میں مذہبی ووٹ بھی حاصل کر سکتی ہے ۔ اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سیاست کے بڑے کھلاڑیوں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے اور عدم موجودگی میں مولانا ہی بڑے کھلاڑی کے طورپر میدان میں ہوں، جن کے پاس عوامی مقبولیت بھی ہے اور اسٹریٹ پاور بھی۔ کیاملک میں سینٹرل لیفٹ کی پیپلزپارٹی اور اور سینٹرل رائیٹ کی نواز لیگ کے بجائے اب مقابلہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہوگا؟


ای پیپر