بند گلی
11 نومبر 2019 2019-11-11

آج صبح جب یہ سطور آپ کی بصارتوں کی نذر ہوگی تو آزادی مارچ شروع ہوئے گیارہواں دن ہوگا۔ ستائیس اکتوبر کو شروع ہونے والا یہ مارچ اب مستقل دھرنے میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔ اندرون اور بیرون ملک سے بے شمار فون آتے ہیں۔ واٹس ہیغامات کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ دھرنا کب ختم ہوگا۔ کیا دھرنا کامیاب رہے گا ؟ سوال دو مختلف ہیں اور جواب بھی الگ۔ ہاں ایک سوال اور بھی ہے ، قیدی کب روانہ ہوگا۔ آخری سوال کا جواب آخر میں۔ اب ان مسلسل سوال کرنے والے دوستوں کو کون بتائے کہ بندہ مزدور اتنا ہی بے خبر ہے جتنے وہ خود۔ باخبر تو وہ ہیں جو آئے روز ڈیلوں کی دعوے کرتے اور خبر باو¿نس ہونے پر ذرا بھی شرمندہ ہوئے بغیر نئے بریکنگ نیوز پٹاری سے نکال کر بازار میں برائے فروخت لے آتے ہیں۔ قلمکار نے تو مزدوری کرنی ہوتی ہے۔ بہرحال خبر یہ ہے کہ دھرنا مارچ فی الحال تو اپنی جگہ سے ہلنے والا نہیں۔ اور رواں ہفتہ کے آغاز سے یہ دھرنا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتا ہوں کہ جڑواں شہروں کے مرکزی شاہراہ پر بیٹھا پرامن پر سکون اجتماع ، حکمرانوں پر لرزہ طاری کر سکتا ہے تو پورے ملک میں پھیلا احتجاج کیا رنگ جمائے گا۔اسلام آباد کی شاہراہ پر بیٹھے پر عزم اجتماع نے ابھی کوئی قانون توڑا ہے نہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ لیکن جب احتجاجی کارکن بڑے شہروں میں سڑکوں کو بلاک کرنے ، شٹر ڈاو¿ن پر آتر آئیں گے تو تب کیا ہوگا۔ رہی حکومت تو اس نے جس طرح آزادی مارچ کو غیر سنجیدہ لیا۔ اسی طرح اگلے مرحلے کیلئے بھی کوئی تیاری نہیں۔ پہلے مرحلے کے تمام مذاکراتی ادوار ناکام رہے۔ کیونکہ حکومتی کمیٹی فیصلہ سازی میں با اختیار نہیں۔ جمعہ کے شام تک کہ رابطوں کے بعد یہ سطور لکھے جانے تک مذاکرات کا سلسلہ معطل تھا۔ جمعہ کی شام کو چوہدری پرویز الہی کی ملاقات مولانا فضل الرحمن سے ملاقات متوقع تھی۔ لیکن پھر ان دست راست حافظ عمار یاسر آئے اور پیغام دیکر چلے گئے۔ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھنے کی کوئی صورت ہوتی توسپیکر پنجاب اسمبلی خود آتے۔ واقفان حال کا دعوی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کی جناب وزیراعظم ملاقات کے بعد فریقین مذاکرات کے سلسلہ سے پر امید نہیں آتے۔ شاید حکومتی فریق اگلے مرحلے سے پہلے اپوزیشن کے کارڈز کھلنے کا منتظر ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مولانا حکومتی کمیٹی میں پرویز الہی اور چیر مین سینٹ صادق سنجرانی کے سوا کسی کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتے۔ اطلاع ہے کہ اب مذاکرات اگر ہوئے تو میڈیا کی نظروں سے دور ہوں گے اور ان کی قیادت غیر اعلانیہ طور پر ہرویز الٰہی کرینگے۔ ویسے بھی یہ تاثر عام ہے کہ چوہدری برادران کسی مقتدر حلقے کے ایما پر مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔ بہرحال اگلا ہفتہ اہم ہے۔ دھرنا ختم کرانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو یہ سلسلہ پھیلتا چلا جائے گا۔ جسے انتظامی اقدامات کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکے۔ لال مسجد اور بالخصوص ماڈل ٹاون واقعے کے بعد انتظامی افسران مجاز اتھارٹی کے تحریری حکم کے بغیر کوئی آپریشن نہیں کرینگے۔ اس واقعہ کے بعد ہجوم کنٹرول کرنے کے ذمہ دار اداروں کے اہلکاروں کو مہلک اسلحہ نہئں دیا جاتا۔ لاٹھی۔ آنسو گیس اور واٹر کینن ہی وہ ذرائع جن سے ہجوم کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کار فرما ہے۔ ویسے بھی جتنا بڑا یہ ہجوم ہے اور جس طرح سے ابھی تک اس جذبہ جوش اور تعداد میں فرق نہیں آیا۔ ایسے اجتماع کو بزور طاقت کنٹرول نہیں جا سکتا۔ مولانا صاحب نے اس وقت تک اس تحریک سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ وہ اب پاکستان کے سب سے بڑے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ان کی دھرنے کے نتیجہ میں حکومت کو اچانک پارلیمنٹ بھی یاد آگئی ہے۔ حکومت کو اچانک معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن بھی کسی مخلوق کا نام ہے۔صاحبان اقتدار کو اچانک یہ معلوم ہوا ہے کہ مذاکرات بھی کوئی چیز ہوتے ہیں۔ کپتان کو معلوم ہوا ہے کہ حاشیہ بردار غیر منتخب مشیروں کے علاوہ منتخب لوگوں کی بھی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ ان پر یہ راز بھی کھلا ہے کہ ان کے کچھ اتحادی بھی ہیں۔ جن کو طویل عرصہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ان سے کیے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ بھولے بسرے ارکان پارلیمنٹ کی فہرستیں بھی نکال لی گئی ہیں۔ ان سے ملاقاتیں شروع ہیں۔ وہ وزرا اور مشیر جن کی فارغ خطی کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ وہ بھی خوش ہیں۔ اچانک یہ بھی سبق یاد آیا کے کہ صحت پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ یہ اخلاقی سبق بھی یاد آیا ہے کہ تلخ بیان بازی بھی نہیں کرنی۔ اچانک تاجروں سے مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔ اچانک دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا فراموش کردہ مردہ گھوڑا یاد آیا ہے۔ انتخابی اصلاحات کا دانہ پھینکا جارہا ہے۔ لیکن شاید اب دیر ہوگئی۔ اب درمیانی راستے اور فیس سیونگ کے فیلر چھوڑے جارہے ہیں۔ لیکن نہیں۔ مولانا استعفی سے صرف ایک ہی صورت میں پیچھے ہٹیں گے۔ اگر ان کو نئے عام انتخابات کی یقین دہانی کرادی جائے۔ لیکن فی الحال شاید حکومت کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔مولانا کی کامیابی کیا کم ہے کہ حکومت اقتدار کے چھٹے فلور سے نیچےاتر کر پہلی منزل پر آگئے ہیں۔ اس دھرنے کا انجام کیا ہوگا۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ اپوزیشن اپنے بیانیے کی اسیر بن چکی تو حکومت بھی بند گلی میں ہے۔ جو آیا ہے خالی ہاتھ نہیں جائے گا۔ کچھ دینا پڑے گا وہ بھی اس کی مرضی کا۔

قیدی واپس جارہا ہے۔ جیت کر۔ وہ جو بڑے دعوی کرتے تھے۔ اب اس بات کیلئے بے چین ہیں کہ کب جہاز پرواز کرتا ہے۔کیونکہ خطرہ ہے کہ کچھ ناگہانی ہوگیا تو جرم کسی کہ سر آے گا۔ نواز شریف کی یہ کامیابی کیا کم ہے کہ ڈیل کا الزام لگانے والے فرمائشیں کرکے ٹی وی پر آکر قسمیں اٹھا رہے ہیں کہ کوئی سودا نہیں ہوا۔ بیانیہ کی جیت اور کیسے ہوتی ہے۔


ای پیپر